اسلام آباد۔6نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر صحت کی ہدایت پر وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن نے ایچ آئی وی ایڈز کی روک تھام کے لئے ایک تکنیکی ورکنگ گروپ (ٹی ڈبلیو جی)کے قیام کا اعلان کیا ہے جس کی سربراہی ڈائریکٹر جنرل صحت کریں گے جس میں صوبوں، اقوام متحدہ کے شراکت داروں اور کمیونٹی کی تنظیموں کی نمائندگی ہوگی تاکہ انضمام، ملکی فنڈنگ، اور صوبائی شراکت پر …
وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن کاایچ آئی وی ایڈز کی روک تھام کے لئے تکنیکی ورکنگ گروپ کے قیام کا اعلان

مزید خبریں
اسلام آباد۔6نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر صحت کی ہدایت پر وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن نے ایچ آئی وی ایڈز کی روک تھام کے لئے ایک تکنیکی ورکنگ گروپ (ٹی ڈبلیو جی)کے قیام کا اعلان کیا ہے جس کی سربراہی ڈائریکٹر جنرل صحت کریں گے جس میں صوبوں، اقوام متحدہ کے شراکت داروں اور کمیونٹی کی تنظیموں کی نمائندگی ہوگی تاکہ انضمام، ملکی فنڈنگ، اور صوبائی شراکت پر مرکوز ایک جامع ایچ آئی وی ردعمل کی حکمت عملی تیار کی جا سکے۔ وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزارت نے ایچ آئی وی کیسز میں اضافہ کی روک تھام کے لئے مربوط اقدامات کی تیاری شروع کردی ہے۔
اس ضمن میں پاکستان میں ایچ آئی وی کیسز میں حالیہ اضافہ کا جائزہ لینے اور قومی ردعمل کو مضبوط بنانے کے لئے 4 نومبر 2025 کو وزارت قومی صحت خدمات، ضوابط و رابطہ کاری میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔وزارت صحت کے ایڈیشنل سیکرٹری نے اجلاس کی صدارت کی۔ اس اجلاس میں یو این ایڈز، ڈبلیو ایچ او، یونیسیف، یو این ڈی پی اور سول سوسائٹی کی تنظیموں (اے پی ایل ایچ آئی وی اور نئی زندگی) کے نمائندوں نے شرکت کی جس کا اہتمام کامن مینجمنٹ یونٹ (سی ایم یو)نے کیا۔ شرکاء نے قومی اور صوبائی اعداد و شمار کا جائزہ لیا، اہم خامیوں کی نشاندہی کی اور باہمی رابطہ کاری، خدمات کے انضمام اور روک تھام کی کوششوں کو مضبوط بنانے کے لئے فوری اقدامات پر اتفاق کیا۔
وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال اور سیکرٹری صحت کی رہنمائی میں ایڈیشنل سیکرٹری نے اعادہ کیا کہ ایچ آئی وی کی روک تھام اور کنٹرول قومی ترجیحات میں سرفہرست ہیں۔ انہوں نے اس بڑھتے ہوئے رحجان پر تشویش کا اظہار کیا اور مضبوط قیادت و مستقل پیشرفت کو یقینی بنانے کے لئے آئندہ اجلاسوں کی ذاتی طور پر صدارت کرنے کا عہد کیا۔ ڈائریکٹر جنرل قومی صحت نے موجودہ پروگراموں کے اندر ایچ آئی وی خدمات کو ضم کرنے، صوبائی ملکیت کو بہتر بنانے اور ڈیٹا پر مبنی منصوبہ بندی کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ ڈپٹی نیشنل کوآرڈینیٹر ایچ آئی وی-سی ایم یو نے تازہ ترین اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ سکریننگ اور ٹیسٹنگ میں اضافے کی وجہ سے کیسز کی شناخت میں اضافہ ہوا ہے اور شرکاء کو دسمبر میں شروع ہونے والے اوپیئڈ ایگونسٹ مینٹیننس تھراپی (او اے ایم ٹی) پروگرام کے بارے میں بریفنگ دی۔
وفاقی وزیر صحت کی ہدایت پر، وزارت نے ایک تکنیکی ورکنگ گروپ (ٹی ڈبلیو جی) کے قیام کا اعلان کیاجس کی سربراہی ڈائریکٹر جنرل صحت کریں گے جس میں صوبوں، اقوام متحدہ کے شراکت داروں، اور کمیونٹی کی تنظیموں کی نمائندگی ہوگی تاکہ انضمام، ملکی فنڈنگ اور صوبائی شراکت پر مرکوز ایک جامع ایچ آئی وی ردعمل کی حکمت عملی تیار کی جا سکے۔
اہم ترجیحات میں ہیپاٹائٹس اور ماؤں و بچوں کی صحت کی خدمات کے علاوہ ایچ آئی وی ٹیسٹنگ کو ضم کرنا، خون کی حفاظت اور انفیکشن کنٹرول کو مضبوط بنانا اور بیداری پیدا کرنے اور بدنامی کو کم کرنے کے لئے ذمہ دارانہ میڈیا کمیونیکیشن حکمت عملی نافذ کرنا بھی شامل ہیں۔اجلاس کے اختتام پر ایڈیشنل سیکرٹری نے مربوط، شفاف اور پائیدار ایچ آئی وی ردعمل کے لئے وزارت کی منصوبہ بندی کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی ترقی اجتماعی عمل اور مضبوط صوبائی قیادت پر منحصر ہے۔








