اسلام آباد۔13نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے پاکستان کے طویل ساحلی خطے پر نئی ڈیپ سی پورٹس کے قیام کے لیے موزوں مقامات کی نشاندہی کی غرض سے ایک اعلیٰ سطحی کثیرالادارہ کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ یہ اقدام ملک کے سمندری شعبے کی آئندہ صدی کی ترقی اور اقتصادی تبدیلی کی تیاری کے لیے کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے جمعرات کو …
نئی بندر گاہوں کے قیام کی تیاری، وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری نے کمیٹی قائم کردی

مزید خبریں
اسلام آباد۔13نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے پاکستان کے طویل ساحلی خطے پر نئی ڈیپ سی پورٹس کے قیام کے لیے موزوں مقامات کی نشاندہی کی غرض سے ایک اعلیٰ سطحی کثیرالادارہ کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ یہ اقدام ملک کے سمندری شعبے کی آئندہ صدی کی ترقی اور اقتصادی تبدیلی کی تیاری کے لیے کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا کہ یہ منصوبہ ان کےسو سالہ وژن 2047 تا 2147 کا حصہ ہے، جس کا اعلان انہوں نے رواں ماہ کراچی میں قومی سمندری ہفتہ کی افتتاحی تقریب کے دوران کیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ آئندہ ہفتے 12 رکنی کمیٹی کے پہلے اجلاس میں خود شرکت کریں گے۔ یہ اجلاس پورٹس 1، 2 اور 3 کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی کا نقطۂ آغاز ہوگا۔
کمیٹی ہر دو ہفتے بعد اجلاس منعقد کرے گی اور تین ماہ کے اندر جامع فزیبلٹی رپورٹ وزارت بحری امور کو پیش کرے گی، جس میں تکنیکی جائزے، ہائڈروگرافک نقشے، سیٹلائٹ ڈیٹا اور سرمایہ کاری تجاویز شامل ہوں گی۔ پاکستان کی ساحلی پٹی سندھ کے سرکریک سے بلوچستان کے جیوانی تک 1024 کلومیٹر سے زائد ہے، جبکہ اس کا خصوصی اقتصادی زون 2,40,000 مربع کلومیٹر اور براعظمی شیلف 50,000 مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔
ملک کی معیشت کے بارے میں اندازہ ہے کہ 2030 سے 2035 کے درمیان ایک ٹریلین ڈالر جی ڈی پی حاصل کر لے گی، جس سے سمندری تجارت اور متعلقہ صنعتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ پورٹ قاسم اتھارٹی 65 فیصد، کراچی پورٹ ٹرسٹ 52 فیصد، اور گوادر پورٹ 5 تا 10 فیصد استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق صنعتی سرگرمیوں، علاقائی ٹرانزٹ تجارت اور بڑھتے ہوئے شپنگ حجم کے باعث یہ تینوں بندرگاہیں 2035 سے 2045 کے درمیان اپنی مکمل صلاحیت تک پہنچ جائیں گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ افغانستان، وسطی ایشیائی ریاستوں، خلیج اور مشرقی افریقہ سے ممکنہ ٹرانز شپمنٹ ٹریفک کے باعث موجودہ بندرگاہوں پر شدید دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ساحلی علاقوں میں آبادی، سیاحت اور نجی ہاؤسنگ اسکیموں کی تیز رفتار ترقی سے نئی بحری انفراسٹرکچر کے لیے زمین کی دستیابی محدود ہو رہی ہے۔جنید چوہدری نے کہا کہ سو سالہ وژن کے تحت ملک میں تین سے چار جدید ڈیپ سی پورٹس قائم کی جائیں گی، جن میں کارگو ہینڈلنگ، گرین انرجی انٹیگریشن اور ڈیجیٹل پورٹ مینجمنٹ سسٹمز شامل ہوں گے۔
یہ منصوبے سی پیک، سمندری معیشت اور علاقائی تجارت کو مضبوط بنانے کے ساتھ پاکستان کو بحرِ ہند کے اہم سمندری مرکز کے طور پر اجاگر کریں گے۔ کمیٹی میں پورٹ قاسم اتھارٹی، کراچی پورٹ ٹرسٹ، گوادر پورٹ اتھارٹی، وزارتِ بحری امور، اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل، پاکستان کے سروے جنرل، ہائڈروگرافر اور سندھ و بلوچستان حکومتوں کے نمائندے شامل ہیں۔
کمیٹی کا دائرہ کار ساحلی پٹی پر ممکنہ بندرگاہوں، بندرگاہی شہروں، شپ یارڈز اور توانائی مراکز کے لیے تمام سیٹلائٹ تصاویر، سروے رپورٹیں، ماحولیاتی و ہائڈروگرافک ڈیٹا کا جائزہ لے کر موزوں مقامات کی نشاندہی کرنا ہے۔ مزید برآں، وہ زمین کی دستیابی، ماحولیاتی حساسیت، سلامتی پہلوؤں، تجارتی راستوں سے قربت اور رابطہ جاتی نیٹ ورکس جیسے عوامل کو مدنظر رکھے گی۔
وفاقی وزیر بحری امور نے کہا کہ صوبائی حکومتوں اور وفاقی اداروں کے درمیان قریبی ہم آہنگی کو ترجیح دی جائے گی تاکہ منصوبوں پر مؤثر پیشرفت یقینی بنائی جا سکے۔ محمد جنید انوار چوہدری نے کہا کہ آنے والی صدی سمندروں کی صدی ہوگی۔ پاکستان کو آج ہی ان بندرگاہوں، تجارتی راستوں اور بحری صنعتوں کی منصوبہ بندی کرنا ہوگی جو کل کے مستقبل کی بنیاد رکھیں گی۔








