اسلام آباد۔13نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ استعفیٰ کا عمل صرف تحریری صورت میں مکمل ہوتا ہے، اور فلور آف دی ہاؤس پر دیا گیا زبانی استعفیٰ آئینی طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا۔ سینیٹ اجلاس کے دوران وزیرِ قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے پارٹی سربراہ کی ہدایات، ارکانِ پارلیمنٹ کے ووٹ، اور استعفوں کے آئینی طریقہ کار سے متعلق تفصیلی …
فلور آف دی ہاؤس پر دیا گیا زبانی استعفیٰ آئینی طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا،وفاقی وزیرِ قانون

مزید خبریں
اسلام آباد۔13نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ استعفیٰ کا عمل صرف تحریری صورت میں مکمل ہوتا ہے، اور فلور آف دی ہاؤس پر دیا گیا زبانی استعفیٰ آئینی طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا۔ سینیٹ اجلاس کے دوران وزیرِ قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے پارٹی سربراہ کی ہدایات، ارکانِ پارلیمنٹ کے ووٹ، اور استعفوں کے آئینی طریقہ کار سے متعلق تفصیلی وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی رکن پارٹی سربراہ کی مرضی کے خلاف ووٹ دیتا ہے تو پارٹی سربراہ پریذائیڈنگ افسر کو تحریری طور پر آگاہ کر سکتا ہے۔
تاہم، بعض اوقات ارکان کو پارٹی کی ہدایات ہی موصول نہیں ہوتیں۔ وفاقی وزیر قانون نے واضح کیا کہ استعفیٰ کا عمل صرف تحریری صورت میں مکمل ہوتا ہے، اور فلور آف دی ہاؤس پر دیا گیا زبانی استعفیٰ آئینی طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف کے ارکان نے لاہور ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی، عدالت سے حکم امتناع حاصل کرنے کے بعد دس ماہ کی تنخواہیں وصول کیں، جس پر بعد میں سپیکر قومی اسمبلی نے اپیل دائر کی۔وزیرِ قانون نے کہا کہ پارٹی سربراہ کسی رکن کے خلاف ریفرنس بھیجنے سے پہلے اس کا مؤقف سننے کے پابند ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈی سیٹ کرنے کا معاملہ الیکشن کمیشن کو بھیجا جا سکتا ہے،فیصلہ آنے کے بعد براہِ راست اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی جا سکتی ہے،ووٹ دینا یا نہ دینا رکنِ پارلیمنٹ کا انفرادی حق ہے، تاہم پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کی صورت میں آئینی کارروائی ہو سکتی ہے۔چیئرمین سینیٹ نے وزیرِ قانون کو آرٹیکل 63 پڑھنے کی ہدایت کی ، جس کے بعدانہوں نے متعلقہ آئینی دفعات ایوان میں پڑھ کر سنائیں۔انہوں نے کہا کہ بجٹ ترامیم پر ووٹنگ، 18ویں ترمیم کے وقت پارلیمانی قیادت کی مشاورت، اور ہاؤس کی کارروائی کے دوران مختلف آئینی و قانونی نکات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
وزیرِ قانون نے کہا کہ مارشل لا ادوار کے باوجود جمہوریت کے تسلسل کو برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی، اور آرٹیکل 6 کے تحت عدالتوں کو کسی غیرآئینی اقدام کی توثیق کا اختیار حاصل نہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ فیڈرل کانسیپٹ کے تحت پارلیمانی مواد ایوان میں پیش کیا گیا، نیشنل اسمبلی میں ہاؤس پیپر کے ذریعے تفصیلات بیان کی گئیں، اور آئینی فریم ورک کے تحت تمام ترامیم اور قانونی خلا (flaws) ری ان سٹیٹ کیے گئے۔وزیرِ قانون نے کہا کہ تمام آئینی و قانونی نکات ایوان میں وضاحت کے ساتھ پیش کیے جا چکے ہیں، تاکہ قانون سازی کا عمل شفاف اور آئین کے مطابق رہ سکے۔








