اسلام آباد۔20نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ سمگل شدہ یا نان کسٹم پیڈ سامان لے جانے والی کسی بھی قانونی طور پر رجسٹرڈ گاڑی کو جرمانہ ادا کرکے رہائی نہیں دی جا سکتی، کیونکہ ایف بی آر کی جانب سے جاری SRO 499(I)/2009 اور اس میں بعد ازاں کی گئی ترامیم اس اختیار کو مکمل طور پر ختم کر چکی ہیں۔ عدالت نے پشاور …
سپریم کورٹ ، سمگل شدہ سامان لے جانے والی گاڑی کی رہائی پر پابندی،ایف بی آر کے ایس آر اوز کی پابندی لازم قرار

مزید خبریں
اسلام آباد۔20نومبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ سمگل شدہ یا نان کسٹم پیڈ سامان لے جانے والی کسی بھی قانونی طور پر رجسٹرڈ گاڑی کو جرمانہ ادا کرکے رہائی نہیں دی جا سکتی، کیونکہ ایف بی آر کی جانب سے جاری SRO 499(I)/2009 اور اس میں بعد ازاں کی گئی ترامیم اس اختیار کو مکمل طور پر ختم کر چکی ہیں۔ عدالت نے پشاور ہائی کورٹ اور کسٹمز اپیلیٹ ٹربیونل کے فیصلے معکوس کرتے ہوئے گاڑی اور سامان کی مکمل ضبطی کا فیصلہ بحال کر دیا۔
سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلے کے مطابق جسٹس محمد شفیع صدیقی نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی موجودگی میں فیصلہ تحریر کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار ایف بی آر نے سیکشن 181 کے تحت اختیار استعمال کرتے ہوئے گاڑیوں کی رہائی پر پابندی لگادی تو ادائیگیِ جرمانہ کے بدلے گاڑی چھوڑنے کا کوئی اختیار نہ کسٹمز افسران کے پاس رہتا ہے اور نہ ہی کسی اپیلیٹ فورم کے پاس۔عدالت نے کہا کہ SRO 1619(I)/2024 مورخہ 3 اکتوبر 2024 کے بعد یہ پابندی مزید سخت ہوگئی ہےجس کے تحت ایسی تمام گاڑیوں کی رہائی کے راستے مکمل طور پر بند کر دیے گئے ہیں جو سمگل شدہ سامان کی نقل و حمل میں مکمل یا خصوصی طور پر استعمال ہوں۔
فیصلے کے مطابق 7 اکتوبر 2024 کو ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک بیڈفورڈ ٹرک سے بیرونِ ملک ساختہ کپڑا اور پرانے استعمال شدہ ٹائر برآمد ہوئے تھے، جن کے مالکان کوئی قانونی درآمدی دستاویزات پیش نہ کرسکے۔ ابتدائی طور پر گاڑی اور سامان کو ضبط کیا گیا، مگر اپیلیٹ ٹربیونل نے 40 فیصد ریڈیمپشن فائن کے عوض گاڑی چھوڑنے کا حکم دے دیا، جسے پشاور ہائی کورٹ نے بھی برقرار رکھا۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ٹربیونل اور ہائی کورٹ دونوں نے قانونی پوزیشن اور نافذ العمل ایس آر اوز کو غلط سمجھا۔
عدالت نے واضح کیا کہ قانون کے مطابق اسمگلنگ میں استعمال ہونے والی گاڑی “liable to confiscation” ہے۔SRO 2009 اور بعد ازاں ترامیم کے بعد یہ اختیار “اختیاری” نہیں بلکہ لازمی ضبطگی بن چکا ہے۔“کرایہ کی گاڑی” یا “پبلک ٹرانسپورٹ” کا مؤقف بھی اس پابندی سے استثناء فراہم نہیں کرتا۔سپریم کورٹ نے کہا کہ قانون کا مقصد اسمگلنگ کے بھرپور سدباب کے لیے ان گاڑیوں کو مستقل طور پر ضبط کرنا ہے جنہیں بار بار اسمگلنگ میں استعمال کیا جاتا ہے تاکہ اسمگلنگ کے نیٹ ورک کا بنیادی ڈھانچہ ختم کیا جا سکے۔عدالت نے تین درخواستیں منظور کرتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ اور کسٹمز ٹربیونل کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے جبکہ ایک درخواست (سی پی 3886/2025) کو مسترد کر دیا۔








