اسلام آباد۔20نومبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کا اجلاس جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس میں کمیٹی کے چیئرمین رانا ارادت شریف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔سیکرٹری پارلیمانی امور نے کمیٹی کو پنشنرز کو درپیش چیلنجز، بالخصوص ریٹائرمنٹ کے فوائد کی ادائیگی میں تاخیر، زندگی کے ثبوت کے تقاضوں، پنشن کے بقایا جات کی ادائیگی میں تاخیر، پنشن کی ادائیگیوں کی غیر واضح معطلی، حساب کی …
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کا اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد۔20نومبر (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کا اجلاس جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس میں کمیٹی کے چیئرمین رانا ارادت شریف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔سیکرٹری پارلیمانی امور نے کمیٹی کو پنشنرز کو درپیش چیلنجز، بالخصوص ریٹائرمنٹ کے فوائد کی ادائیگی میں تاخیر، زندگی کے ثبوت کے تقاضوں، پنشن کے بقایا جات کی ادائیگی میں تاخیر، پنشن کی ادائیگیوں کی غیر واضح معطلی، حساب کی غلطیوں اور پنشن کے شعبہ سے وابستہ افسران میں نرم رویہ کی کمی کے بارے میں آگاہ کیا۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں کے ذریعے بائیو میٹرک ’’پروف آف لائف‘‘ کی تصدیق کی جا رہی ہے۔ مزید بتایا گیا کہ نادرا نے ایک موبائل ایپلی کیشن تیار کی ہے جو چہرے کی شناخت پر مبنی زندگی کے ثبوت کو قابل بناتی ہے جو دور دراز علاقوں کے ساتھ ساتھ بیرون ملک مقیم پنشنرز کو بھی سہولت فراہم کرے گی۔
ریلوے کے نمائندے نے کمیٹی کو بریفنگ دی کہ پاکستان ریلویز جو کہ ریلوے ڈویژن کا ایک ذیلی محکمہ ہے، واحد وفاقی ادارہ ہے جو اپنے ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن اپنے وسائل سے فراہم کرتا ہے، اس کے برعکس دیگر تمام وفاقی محکموں کے ملازمین کی پنشن اے جی پی آر کے ذریعے فنانس ڈویژن ادا کرتی ہے۔ پاکستان ریلویز کو اس کی بڑی اور بڑھتی ہوئی پنشن اور تنخواہ کے واجبات، کم آمدنی، بنیادی ڈھانچے کی بنیاد، فرسودہ نظام، زیادہ آپریٹنگ اخراجات (خاص طور پر ایندھن اور یوٹیلیٹیز)، اور ایک پسماندہ مال برداری کے شعبے کی وجہ سے سنگین مالی چیلنجوں کا سامنا ہے۔
نتیجہ کے طور پر پاکستان ریلوے اپنی مالی مشکلات کو پورا کرنے کے لئے وفاقی حکومت کی گرانٹ ان ایڈ پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ مالی سال 2013-14 کے بعد سے آمدنی میں کم اضافہ اور امداد کی ناکافی رقم کی وجہ سے وصولیوں اور اخراجات کے درمیان فرق بڑھ گیا ہے۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ ریلوے میں خدمات انجام دینے والے تمام ملازمین اپنی پنشن بغیر کسی رکاوٹ کے اور بروقت وصول کرنے کے مکمل حقدار ہیں۔
تفصیلی بحث کے بعد کمیٹی نے سفارش کی کہ اگلی میٹنگ میں وزارت ریلوے ایک ٹھوس منصوبہ پیش کرے یا موجودہ پنشن کے عمل کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات کا خاکہ پیش کرے۔ اجلاس میں ارکان قومی اسمبلی راجہ قمر الاسلام، شیخ آفتاب احمد، چوہدری محمد علی ،محمود بشیر ورک، شازیہ فرید، ملک شاہ، نوید عامر، منیبہ اقبال، نعیمہ کشور خان اور حمید حسین سمیت سیکرٹری وزارت پارلیمانی امور ، وزارت ریلوے اورخزانہ اے جی پی آر کے دیگر سینئر افسران نے بھی شرکت کی۔








