لاہور۔8دسمبر (اے پی پی):وفاقی اور صوبائی حکومتی اداروں نے فوری طور پر ایمرجنسی اسموگ پلان پر عملدرآمد شروع کر دیا ۔لاہوراور گردونواح میں ایئر کوالٹی انڈیکس مسلسل خطرناک سطح تک پہنچ چکا ہے، فصلوں کی باقیات جلانے پر زیرو ٹالرنس، اینٹی اسموگ گنز کے استعمال، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں اور صنعتوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈائون سمیت متعدد اقدامات شروع کردئیے گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق خشک موسم، …
وفاقی و صوبائی اداروں نے فوری طور پر ایمرجنسی اسموگ پلان پر عملدرآمد شروع کر دیا

مزید خبریں
لاہور۔8دسمبر (اے پی پی):وفاقی اور صوبائی حکومتی اداروں نے فوری طور پر ایمرجنسی اسموگ پلان پر عملدرآمد شروع کر دیا ۔لاہوراور گردونواح میں ایئر کوالٹی انڈیکس مسلسل خطرناک سطح تک پہنچ چکا ہے، فصلوں کی باقیات جلانے پر زیرو ٹالرنس، اینٹی اسموگ گنز کے استعمال، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں اور صنعتوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈائون سمیت متعدد اقدامات شروع کردئیے گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق خشک موسم، ہوا کی کمی، صنعتی اخراج اور زرعی سرگرمیاں اسموگ میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزارتِ ماحولیات نے اسموگ کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔ صنعتی یونٹس کی سخت مانیٹرنگ، غیر معیاری فیول استعمال کرنے والی فیکٹریوں پر کارروائیاں، بھٹہ خشت پر زگ زیگ ٹیکنالوجی لازمی قرار دینے کے علاوہ تعمیراتی سرگرمیوں میں دھول روکنے پر سختی سے عملدرآمد کرایا جارہا ہے، اس سلسلے میں متعدد فیکٹریاں سیل اور ان پر بھاری جرمانے عائد کئے گئے، صوبائی سطح سمیت بڑے شہروں میں اسموگ گنز فعال کردئیے گئے ۔
لاہور ہائیکورٹ میں اسموگ اور فضائی آلودگی کے سے متعلق زیر سماعت درخواستوں پر جاری کئے گئے احکامات پر صوبائی حکومت نے اسموگ کا باعث بننے والے ٹرانسپورٹ سیکٹر پر کریک ڈائون،دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے چالان،غیر فٹنس سرٹیفکیٹ پبلک ٹرانسپورٹ پر جرمانے کا عمل پہلے ہی شروع کیا جاچکا ہے ، اس سلسلے میں اب خصوصی ٹیموں کی روزانہ چیکنگ کا عمل شروع کردیا گیا۔ موسمیاتی تبدیلی کے باعث آنے والے برسوں میں اسموگ مزید بڑھے گی، جس کے لیے صنعت، ٹرانسپورٹ اور شہری منصوبہ بندی میں بنیادی اصلاحات ضروری ہیں۔







