اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):چائنا چیمبر آف کامرس پاکستان (سی سی سی پی کے ) نے سیلاب متاثرین پاکستان 2025 کے لئے امدادی تعاون کے اعتراف میں “ڈونیشن تقریب برائے فلڈ ڈیزاسٹر پاکستان 2025” کا انعقاد یہاں مقامی ہوٹل میں کیا۔ تقریب کا مقصد پاکستان بھر میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لئے چینی اداروں کی جانب سے کئے گئے تعاون کو سراہنا تھا۔تقریب کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر اطلاعات …
چائنا چیمبر آف کامرس پاکستان کا سیلاب متاثرین پاکستان 2025 کے لئے ڈونیشن تقریب کا انعقاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):چائنا چیمبر آف کامرس پاکستان (سی سی سی پی کے ) نے سیلاب متاثرین پاکستان 2025 کے لئے امدادی تعاون کے اعتراف میں “ڈونیشن تقریب برائے فلڈ ڈیزاسٹر پاکستان 2025” کا انعقاد یہاں مقامی ہوٹل میں کیا۔ تقریب کا مقصد پاکستان بھر میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لئے چینی اداروں کی جانب سے کئے گئے تعاون کو سراہنا تھا۔تقریب کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ تھے جبکہ منسٹر قونصلر سفارتخانہ عوامی جمہوریہ چین پاکستان یانگ گوانگیوآن نے بھی شرکت کی۔


چینی کمپنیوں، پاکستانی اداروں اور میڈیا کے نمائندگان بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔جون 2025 سے پاکستان میں شدید بارشوں کے باعث آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد چائنہ چیمبر آف کامرس نے ستمبر میں ایک امدادی مہم شروع کی۔ اس مہم میں 31 چینی کمپنیوں اور ایک انفرادی ڈونر نے حصہ لیا جنہوں نے مجموعی طور پر 3 کروڑ 40 لاکھ روپے (تقریباً 3 لاکھ امریکی ڈالر) عطیہ کئے۔ اس امداد سے خوراک، پینے کا صاف پانی، کمبل، مچھردانیاں، واٹر پروف ترپالیں اور دیگر ضروری سامان خریدا گیا۔

یانگ گوانگیوآن نے اپنے خطاب میں وفاقی وزیر کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سراہا اور بتایا کہ پاکستان اور چین نے سیلاب کے پہلے ہی دن سے امدادی کارروائیوں میں بھرپور تعاون کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین کی جانب سے 100 ملین RMB مالیت کا ریلیف سامان اور 2 ملین امریکی ڈالر نقد امداد دی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کے 3 کروڑ 40 لاکھ روپے کے عطیات مکمل طور پر پاکستان میں کام کرنے والی چینی کمپنیوں اور ملازمین نے فراہم کئے ہیں جو دونوں اقوام کے "کندھے سے کندھا، ہاتھ سے ہاتھ ملا کر” ہر مشکل میں ساتھ کھڑے ہونے کی عملی مثال ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی خوشی کا اظہار کیا کہ اگلا سال پاک -چین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کا سنگِ میل ہے۔چائنہ چیمبر آف کامرس کے چیئرمین وانگ ہوئی ہوا نے کہا کہ 2025 کے سیلاب نے بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور نقل مکانی کا باعث بننے کے بعد چیمبر کو یہ امدادی مہم شروع کرنا پڑی۔ انہوں نے بتایا کہ 32 چینی کمپنیوں نے مل کر 3 کروڑ 40 لاکھ روپے سے زائد عطیات دیئے جن سے ضروری سامان خریدا گیا، خصوصاً سردیوں کے پیشِ نظر ضروری اشیاء پر خصوصی توجہ دی گئی۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان چینی کمپنیوں کے لئے محض ایک کاروباری مقام نہیں بلکہ ان کا دوسرا گھر ہے اور مشکل وقت میں یکجہتی اور دوستی کا اظہار دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات کا ثبوت ہے۔پاکستان-چین انسٹیٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مصطفیٰ حیدر سید نے کہا کہ چینی کمپنیوں کی بروقت اور فیاضانہ امداد دونوں اقوام کے مابین آہنی دوستی کا عملی مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انسان دوست تعاون "مشترکہ مستقبل کی حامل برادری” کے حقیقی جذبے کی ترجمانی کرتا ہے۔بورڈ آف انویسٹمنٹ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عرفہ اقبال نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات باہمی احترام، خیرسگالی اور پائیدار دوستی پر قائم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چینی کمپنیوں کی جانب سے سیلاب متاثرین کے لئے انسانی ہمدردی پر مبنی تعاون دونوں اقوام کے مضبوط رشتے کی خوبصورت مثال ہے،سی پیک اور دیگر اقتصادی منصوبوں کے ذریعے دونوں ممالک مزید قریب آ رہے ہیں۔تقریب میں حصہ لینے والی تمام کمپنیوں کو اعزازی سرٹیفکیٹ بھی پیش کئے گئے۔
انفرادی ڈونرز کی نمائندگی کاؤ یوفے نے کی جبکہ چائنا تھری گورجز گروپ کی جانب سے لیو یونگ گانگ نے خصوصی عطیہ پیش کیا۔ چائنہ چیمبر آف کامرس نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ پاکستان کی انسانی ہمدردی اور ترقی کی ضروریات کے لئے اپنا تعاون جاری رکھے گا۔








