اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):او آئی سی-کامسٹیک اور کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے باہمی اشتراک سے سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع (ایس ٹی آئی ) پالیسی کے نفاذ سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس کامسٹیک سیکرٹریٹ میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں پاکستان، ایران، برطانیہ اور دیگر ممالک سے ماہرینِ تعلیم، محققین، پالیسی سازوں اور طلبہ نے شرکت کی جبکہ متعدد شرکا آن لائن بھی شامل ہوئے۔ کوآرڈینیٹر جنرل او آئی سی-کامسٹیک پروفیسر …
ترقی پذیر ممالک میں موسمیاتی تبدیلی، خوراک و توانائی کے بحران اور صحت عامہ جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے مضبوط سائنسی و تکنیکی ڈھانچے ناگزیر ہو چکے ہیں،کوآرڈینیٹر جنرل او آئی سی-کامسٹیک

مزید خبریں
اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):او آئی سی-کامسٹیک اور کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے باہمی اشتراک سے سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع (ایس ٹی آئی ) پالیسی کے نفاذ سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس کامسٹیک سیکرٹریٹ میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں پاکستان، ایران، برطانیہ اور دیگر ممالک سے ماہرینِ تعلیم، محققین، پالیسی سازوں اور طلبہ نے شرکت کی جبکہ متعدد شرکا آن لائن بھی شامل ہوئے۔
کوآرڈینیٹر جنرل او آئی سی-کامسٹیک پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری کی جانب سے بات کرتے ہوئے مشیر سائنس پالیسی پروفیسر ڈاکٹر مدثر اسرار نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک موسمیاتی تبدیلی، خوراک و توانائی کے بحران اور صحت عامہ کے بڑھتے ہوئے دباؤ جیسے چیلنجز سے دوچار ہیں جن سے نمٹنے کے لئے مضبوط سائنسی و تکنیکی ڈھانچے ناگزیر ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کامسٹیک کا بنیادی مینڈیٹ رکن ممالک کے مابین تعاون کے فروغ، تکنیکی صلاحیت میں اضافے، محققین کی تربیت اور علم کے تبادلے کے لئے مربوط اقدامات کرنا ہے۔ ڈاکٹر مدثر اسرار نے مزید کہا کہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لئے خطے میں ایس ٹی آئی پالیسیوں کو زیادہ ہم آہنگ، مربوط اور مشن پر مبنی بنانا وقت کی ضرورت ہے۔کانفرنس کے مختلف سیشنز میں ماہرین نے پالیسی میں موجود خلاء، ادارہ جاتی رکاوٹوں اور علاقائی تجربات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔
کامسیٹس یونیورسٹی کے ڈاکٹر حماد عمر نے ایس ڈی جیز کے مطابق سائنسی و تکنیکی پالیسیوں کی تشکیل کے تصوری و عملی ماڈلز پر روشنی ڈالی جبکہ ڈاکٹر کلثوم سمرہ نے بین الاقوامی و براعظمی فریم ورک کا تجزیہ پیش کیا۔ قائداعظم یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر معظم خٹک نے نوجوانوں میں اختراع اور کاروباری صلاحیت کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔ ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے ڈاکٹر طارق محمود علی نے پالیسی سازی میں تحقیقی شواہد کی اہمیت اجاگر کی۔
کامسٹیک کے ڈاکٹر اسماعیلہ ڈائیلو نے او آئی سی ممالک میں ایس ٹی آئی پالیسیوں کے نفاذ میں درپیش رکاوٹوں کی نشاندہی کی جبکہ کامسیٹس یونیورسٹی کی ڈاکٹر جویریہ امبرین نے سائنسی اداروں میں خواتین کی کم نمائندگی اور صنفی نتائج پر بات کی۔ایران کے نیشنل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ برائے سائنس پالیسی سے ڈاکٹر میترا امین لو نے خطے میں پالیسی کے کامیاب اور ناکام تجربات پیش کئے۔
برطانیہ کی یونیورسٹی آف مانچسٹر کے ڈاکٹر خلیل ملک نے یونیورسٹی صنعت اشتراک کی اہمیت پر گفتگو کی۔اختتامی سیشن میں ڈاکٹر ڈائیلو نے رکن ممالک کے لئے ایس ٹی آئی پالیسی کے مؤثر نفاذ سے متعلق ایک تکنیکی فریم ورک کا خاکہ پیش کیا۔ شرکا ء نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ کئی ممالک نے اپنی قومی سائنس و ٹیکنالوجی پالیسیاں ترتیب دے رکھی ہیں تاہم ان پر عملدرآمد کے لئے ادارہ جاتی سپورٹ اور وسیع تر شراکت داری کی ضرورت ہے۔








