ملک میں صحت کے پورے ایکوسسٹم کوتبدیل کرنے کی ضرورت ہے، مصطفیٰ کمال کاقومی اسمبلی میں جواب

اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرقومی صحت و خدمات ڈاکٹرسیدمصطفیٰ کمال نے کہاہے کہ ملک میں صحت کے پورے ایکوسسٹم کوتبدیل کرنے کی ضرورت ہے اوراس میں بلدیاتی اداروں کاکردارکلیدی نوعیت کاہے، ہمیں اپنے شہریوں کو بیماریوں سے بچانے کے نظام پرکام کرنا پڑے گا۔ پیر کوقومی اسمبلی کے اجلاس میں سیدہ شہلارضا کے سوال پروزیرصحت مصطفیٰ کمال نے ایوان کوبتایا کہ پاکستان میں صحت کی صورتحال اتنی بری بھی …

اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرقومی صحت و خدمات ڈاکٹرسیدمصطفیٰ کمال نے کہاہے کہ ملک میں صحت کے پورے ایکوسسٹم کوتبدیل کرنے کی ضرورت ہے اوراس میں بلدیاتی اداروں کاکردارکلیدی نوعیت کاہے، ہمیں اپنے شہریوں کو بیماریوں سے بچانے کے نظام پرکام کرنا پڑے گا۔ پیر کوقومی اسمبلی کے اجلاس میں سیدہ شہلارضا کے سوال پروزیرصحت مصطفیٰ کمال نے ایوان کوبتایا کہ پاکستان میں صحت کی صورتحال اتنی بری بھی نہیں۔

انہوں نے کہاکہ عالمی ادارہ صحت کے معیارکے مطابق 10ہزارکی آبادی کیلئے 23 ہیلتھ پروفیشنلز کی ضرورت ہوتی ہے،پاکستان میں یہ تعداد 19کے قریب ہے ،صحت کے شعبہ میں بہتری آرہی ہے،صوبوں کے حوالہ سے ڈیٹا طلب کیاگیاہے اورجیسے ہی صوبوں سے ڈیٹاموصول ہوگا وہ اراکین کے ساتھ شئیرکیاجائیگا۔ نورعالم خان کے ضمنی سوال پرانہوں نے کہاکہ پولی کلینک فیزٹوزیرتعمیر ہے، یہ 200بیڈ اسپتال ہے اوراس پر9ارب کی لاگت آنی تھی جس میں ڈالرکی قدرمیں اضافہ کے تناسب سے پی سی ون پرنظرثانی کردی گئی ہے،اب اس پر15ارب روپے کی لاگت کاتخمینہ ہے، اس وقت ایک فلورکااضافہ کیاجارہاہے

، ہماری کوشش ہے کہ جون تک گرائونڈپلس ون کاافتتاح کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ جس وقت اسپتال بنائے گئے تھے اس وقت اسلام آباد کی آبادی کم تھی، اس وقت خیبرپختونخوا، کشمیراورگلگت بلتستان سے بڑی تعدادمیں اسلام آباد کے اسپتالوں میں مریض آرہے ہیں۔انجم عقیل کے ضمنی سوال پرانہوں نے کہاکہ چک شہزاداسپتال کوویڈ کے دورمیں چینی حکومت کے تعاون سے بنایا گیاتھا،کوویڈ کے بعد اسے بندکردیاگیاتھا،آربی سی اوراے ایچ آئی ٹی سی بند ہے۔ انہوں نے کہاکہ تین ماہ کی محنت کے بعدپرائیوٹ پبلک فلنتھراپک پارٹنرشپ پراس اسپتال کوچلایا جائیگا۔

مولاناعبدالغفورحیدری کے ضمنی سوال پرانہوں نے کہاکہ وفاقی اورصوبائی حکومتوں کے زیرانتظام کئی مقامات پردل اوردیگرخطرناک بیماریوں کے مریضوں کا مفت علاج کیا جاتاہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں صحت عامہ کے نظام کوبہتربنانے کی ضرورت ہے،پاکستان کی آبادی میں 1.69ملین کااضافہ ہورہاہے، اتنی بڑی آبادی کوپینے کیلئے صاف پانی سمیت بنیادی ضروریات کی فراہمی ضروری ہے۔انہوں نے کہاکہ صحت کے پورے ایکوسسٹم کوتبدیل کرنے کی ضرورت ہے اوراس میں بلدیاتی اداروں کاکردارکلیدی نوعیت کاہے۔

انہوں نے کہاکہ ہمیں لوگوں کوبیماریوں سے بچانے کے نظام پرکام کرنا پڑے گا۔ انجم عقیل خان کے سوال پروفاقی وزیرنے ایوان کوبتایا کہ ملک میں خواتین کے رحم کے کینسرکے حوالہ سے حتمی اعدادوشمارنہیں ہے، ہم نے چیئرمین نادراسے ملاقات کی ہے اوران سے کہاہے کہ نادرا کے شناختی کارڈ کانمبرایم آرنمبرہونا چاہئے۔پی این ڈی سے اجازت ملنے کے بعدیواین آر کانظام لایا جارہاہے، اس پربہت ساراکام ہوچکاہے،این آئی ایچ میں یونیورسل میڈیکل ریکارڈکاکمانڈاینڈکنٹرول سینٹر قائم کیا جائیگا۔

انہوں نے کہاکہ ایک اندازے کے مطابق رحم کے کینسرسے ہر سال ہزاروں خواتین مررہی ہے، دنیا کے 150ممالک میں اس کے ویکسین فراہم کی جارہی ہے پاکستان میں اس ویکسین کوویکسینیشن پروگرام میں شامل کردیاگیاہے، ہم اپنی بچیوں کواس مہلک بیماری سے بچانے کی بھرپورکوشش کریں گے۔

نعیمہ کشورخان کے سوال پرانہوں نے کہاکہ صحت کے حوالہ سے صوبوں کے ساتھ ہماری اچھی رابطہ کاری ہے، وزارت کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد میری چاروں صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان اورآزادجموں وکشمیرکے وزراء سے بات ہوئی تھی۔ انہوں نے کہاکہ صحت کے حوالہ سے تمام پالیسیوں کوعملی شکل دینے میں صوبوں کاکردارکلیدی نوعیت کاہے۔

مزید خبریں