اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرقومی غذائی تحفظ وتحقیق راناتنویرحسین نے کہاہے کہ زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، حکومت زرعی پیداوارمیں اضافہ کیلئے جامع اندازمیں اقدامات اٹھارہی ہے، پوسٹ ہارویسٹ نقصانات کوکم کرنے کیلئے اقدامات کاسلسلہ جاری ہے۔ پیرکو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران سحرکامران اوردیگراراکین کے سوالات کے جواب میں وفاقی وزیر نے ایوان کوبتایا کہ پوسٹ ہارویسٹ نقصانات کوختم کرنے کیلئے اقدامات کئے …
حکومت زرعی پیداوارمیں اضافہ کیلئے جامع اقدامات اٹھارہی ہے، وفاقی وزیرقومی غذائی تحفظ وتحقیق راناتنویرحسین کاقومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران جواب

مزید خبریں
اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرقومی غذائی تحفظ وتحقیق راناتنویرحسین نے کہاہے کہ زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، حکومت زرعی پیداوارمیں اضافہ کیلئے جامع اندازمیں اقدامات اٹھارہی ہے، پوسٹ ہارویسٹ نقصانات کوکم کرنے کیلئے اقدامات کاسلسلہ جاری ہے۔
پیرکو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران سحرکامران اوردیگراراکین کے سوالات کے جواب میں وفاقی وزیر نے ایوان کوبتایا کہ پوسٹ ہارویسٹ نقصانات کوختم کرنے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں، وزیراعظم نے زرعی ترقی کیلئے پروگرام کی منظوری دیدی ہے،اس سے نہ صرف کٹائی کے بعدنقصانات میں کمی آئیگی بلکہ پیداوارمیں اضافہ بھی ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں زرعی ٹیکنالوجی کوترقی دینا ضروری ہے،زرعی میکنائزیشن کاپوسٹ ہارویسٹ نقصانات میں بڑا کردارہے۔ انہوں نے کہاکہ کسان کے منافع میں اضافہ کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ہم نئی ٹیکنالوجی، میکنائزیشن ،زرعی جدید کاری،کولڈسٹوریج اوردیگرسہولیات پرکام کررہے ہیں،
صوبوں میں ای ڈبلیوآر شروع کیاگیاہے،اس سے کسان چا ماہ تک اپنی پیداواررکھ کرانہیں مناسب وقت پرفروخت کرنے کے قابل ہوسکیں گے۔انہوں نے کہاکہ زراعت کے شعبہ میں اصلاحات لائی جارہی ہے،وزیراعظم زراعت اورغذائی تحفظ کوبہت اہمیت دے رہے ہیں۔سٹیٹ بینک نے کسانوں کو زرعی مداخل اورفصلوں کیلئے قرضوں کی فراہمی کے احکامات جاری کئے ہیں۔سندھ حکومت اوردیگرصوبے کسانوں کوسبسڈی دے رہی ہے۔
رانا محمدحیات کے سوال پرانہوں نے کہاکہ گزشتہ سال فی من گنا450سے شروع ہوکر750روپے تک پہنچا ہے، اس سال 400سے شروع ہوا اوراب 500سے لیکر550روپے ہے، اس شعبہ کوڈی ریگولیٹ کردیاگیاہے ، حکومت نے اس حوالہ سے بروقت مداخلت کی ہے، گزشتہ سال 7ملین ٹن چینی کی پیداوارکا ہدف تھا مگرموسمیاتی عوامل اوردیگروجوہات کی وجہ سے 5.8ملین ٹن پیداوار حاصل ہوئی اورہماری ضروریات 6.3ملین ٹن ہے۔اس کے باوجود 5لاکھ ٹن اضافی چینی فراہم کردی گئی تھی۔
رشیداکبرکے ضمنی سوال پرانہوں نے کہاکہ گنے کوگزشتہ سال ڈی ریگولیٹ کردیا گیاہے، اس سے پہلے صوبے ایک قیمت مقررکرتے ہیں، ہماری بھرپورکوشش ہے کہ کسانوں کوفصل کامناسب معاوضہ مل جائے، یہ صوبائی معاملہ ہے مگراس کے باوجود ہم اپناکردارکریں گے۔ رسول بخش چانڈیوکے ضمنی سوال پرانہوں نے کہاکہ اس وقت فی من گنا 450سے لیکر500روپے اور550 روپے من تک فروخت ہورہاہے، کل میں سندھ اورپنجاب کے چیف سیکرٹری صاحبان اورکین کمشنرسے بات چیت کروں گا۔
معین پیرزادہ کے ضمنی سوال پرانہوں نے کہاکہ شوگرایڈوائزری بورڈ کامینڈیٹ سٹاک کی نگرانی کرناہے،شوگرایڈوائزری بورڈ کی رپورٹ پرحکومت چینی کی درآمد کافیصلہ کرتی ہے،گزشتہ سال چینی کی برآمدات سے پاکستان نے 400ملین ڈالرکازرمبادلہ حاصل کیاتھا اوراس برآمدات پرحکومت نے کوئی سبسڈی نہیں دی ہے۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نے وفاقی وزیر اویس لغاری کی قیادت میں کمیٹی بنائی تھی،کمیٹی نے اپنی رپورٹ تیارکرکے پی ایم آفس بھجوادی ہے۔








