لاہور۔8دسمبر (اے پی پی):ڈائریکٹر جنرل پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ شفقت عباس نے کہا ہے کہ سینیٹر عرفان الحق صدیقی مرحوم کی پیشہ ورانہ زندگی اور ان کی بے مثال دیانت صحافتی برادری کے لیے مشعلِ راہ ہے ،پاکستان کو اس وقت ذمہ دار اور اصولی صحافت کی اشد ضرورت ہے۔ ہر فرد پر لازم ہے کہ ملک کی بہتری اور مضبوطی کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے …
سینیٹر عرفان الحق صدیقی مرحوم کی پیشہ ورانہ زندگی اور بے مثال دیانت صحافتی برادری کے لیے مشعلِ راہ ہے ،ڈی جی پی آئی ڈی شفقت عباس

مزید خبریں
لاہور۔8دسمبر (اے پی پی):ڈائریکٹر جنرل پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ شفقت عباس نے کہا ہے کہ سینیٹر عرفان الحق صدیقی مرحوم کی پیشہ ورانہ زندگی اور ان کی بے مثال دیانت صحافتی برادری کے لیے مشعلِ راہ ہے ،پاکستان کو اس وقت ذمہ دار اور اصولی صحافت کی اشد ضرورت ہے۔ ہر فرد پر لازم ہے کہ ملک کی بہتری اور مضبوطی کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے پیر کے روزنظریہ پاکستان ٹرسٹ میں پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) لاہور کے زیر اہتمام مرحوم سینیٹر عرفان الحق صدیقی کی زندگی، خدمات اور ادبی ورثے کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
تعزیتی ریفرنس میں سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی، سلمان غنی، روزنامہ جنگ سے نوراللہ، روزنامہ آفتاب سے محسن ممتاز، اے پی پی لاہور کے بیوروچیف طالب حسین، ریڈیو پاکستان لاہور کے اسٹیشن ڈائریکٹر ڈاکٹر احمر سہیل بسرا، دانشوروں، عوامی شخصیات اور اساتذہ نے شرکت کی اور مرحوم سینیٹر کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ڈی جی پی آئی ڈی شفقت عباس نے مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی کو اعلیٰ کردار، دیانت، علم، شفافیت اور بردباری کا حامل ایسے شخص کے طور پر خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے صحافت، تعلیم، ادب اور قومی سیاست میں گہرے نقوش چھوڑے۔
انہوں نے کہا کہ مرحوم کی شخصیت ایک بہترین معلم کی مانند تھی جو علم، کردار اور اخلاق کے ذریعے دوسروں کی رہنمائی کرتے رہے۔روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمان شامی نے یاد کیا کہ ایک سفر کے دوران سینیٹر عرفان صدیقی سے ملاقات نے ان پر گہرا اثر چھوڑا۔ ان کی شخصیت سنجیدگی، علم و دانش اور شائستگی کی آئینہ دار تھی ، تدریس ان کی زندگی کا مرکزی حوالہ رہا۔ان کا وقار اور بردباری قابلِ تقلید ہے۔ سینئر صحافی سلمان غنی نے کہا کہ سینیٹر عرفان صدیقی پاکستان میں اصولی صحافت کی علامت تھے۔ وہ ہمیشہ جمہوریت، آئینی تسلسل اور مظلوموں کے حقوق کے حامی رہے۔
انہوں نے کہا کہ مرحوم ایک نظریاتی اور علمی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے اور اختلاف کے باوجود کبھی شائستگی کے دائرے سے باہر نہ نکلے۔روزنامہ جنگ کے سینئر صحافی نوراللہ نے کہا کہ سینیٹر صدیقی بہترین دانشور اور پاکستان کے نظریاتی تشخص سے گہری وابستگی رکھنے والے محب وطن تھے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم کی سابق صدر اور چیئرمین نظریہ پاکستان ٹرسٹ محمد رفیق تارڑ سے گہری وابستگی تھی اور وہ ادارے کے فکری مباحثہ میں باقاعدگی سے حصہ لیتے تھے۔روزنامہ آفتاب کے محسن ممتاز نے کہا کہ مرحوم کی زندگی وقار، صبر اور ثابت قدمی کی علامت تھی۔ وہ معلم، کالم نگار، ادیب اور مصلح تھے جو ہمیشہ عمل کو ترجیح دیتے رہے۔
ذاتی آزمائشوں میں بھی ان کی عاجزی اور متانت نمایاں رہی۔ریڈیو پاکستان لاہور کے اسٹیشن ڈائریکٹر ڈاکٹر احمر سہیل بسرا نے کہا کہ سینیٹر عرفان صدیقی کا تعلق اس نسل سے تھا جو لفظ کی حرمت کو مقدم رکھتی تھی۔ انہوں نے مرحوم کی ریڈیو پاکستان کے لیے تحریر کردہ تحریروں ، فیچرز اور ڈرامائی اسکرپٹس کو قومی ورثہ قرار دیتے ہوئے ان کی سادگی، شفافیت اور حب الوطنی کو سراہا۔
دیگر مقررین نے بھی مرحوم کی سیاسی، صحافتی اور ادبی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ان کا علمی و فکری ورثہ آئندہ نسلوں تک منتقل کیا جانا چاہیے۔ آخر میں مرحوم کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی گئی۔تعزیتی ریفرنس میں شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ مرحوم سینیٹر عرفان الحق صدیقی کے تعلیم، اخلاقی صحافت، جمہوری اقدار اور خدمتِ پاکستان کے مشن کو آگے بڑھائیں گے۔








