اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ حکومت ٹیکس چوری کے خلاف بھرپورایکشن لےگی،جاری مالی سال کے دوران ٹیکس وصولیوں میں 10.3فیصداضافہ ہواہے، آئی ایم ایف رپورٹ کی 15سفارشات میں سے بیشترسفارشات پر حکومت پہلے سے کام کررہی ہے۔پیر کوقومی اسمبلی کے اجلاس میں ٹیکس چوری اورمحاصل میں کمی کے حوالہ سے سیدحفیظ الدین اورمحمدجاویدحنیف کے توجہ مبذول نوٹس پر وفاقی وزیرخزانہ نے ایوان کوبتایاکہ گزشتہ …
حکومت ٹیکس چوری کے خلاف بھرپورایکشن لےگی،جاری مالی سال کے دوران ٹیکس وصولیوں میں 10.3فیصداضافہ ہواہے، وزیرخزانہ محمداورنگزیب کاقومی اسمبلی میں جواب

مزید خبریں
اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ حکومت ٹیکس چوری کے خلاف بھرپورایکشن لےگی،جاری مالی سال کے دوران ٹیکس وصولیوں میں 10.3فیصداضافہ ہواہے، آئی ایم ایف رپورٹ کی 15سفارشات میں سے بیشترسفارشات پر حکومت پہلے سے کام کررہی ہے۔پیر کوقومی اسمبلی کے اجلاس میں ٹیکس چوری اورمحاصل میں کمی کے حوالہ سے سیدحفیظ الدین اورمحمدجاویدحنیف کے توجہ مبذول نوٹس پر وفاقی وزیرخزانہ نے ایوان کوبتایاکہ گزشتہ مالی سال کے دوران ایف بی آر کے محاصل کاحجم 11.7ٹریلین روپے تھاجوپیوستہ مالی سال میں حاصل شدہ محاصل سے 2.5ٹریلین روپے زیادہ تھا
،گزشتہ سال ایف بی آرکے محاصل میں مجموعی طور پر 27فیصداضافہ ہواتھا،گزشتہ مالی سال میں انکم ٹیکس میں 28فیصد، سیلزٹیکس 26، فیڈرل ایکسائزڈیوٹی میں 33فیصد اورکسٹم ڈیوٹی میں 16فیصداضافہ ہوا لہذاکسی طریقے سے یہ نہیں کہاجاسکتا کہ یہ کارگردگی درست نہیں ہے۔اسی طرح جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح میں بتدریج اضافہ ہواہے، مالی سال 2023-24میں جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح 8.5فیصدتھی جوگزشتہ مالی سال میں 10.3فیصدکی سطح پر آئی اورامید ہے کہ جاری مالی سال کے اختتام پر یہ 11فیصدکی سطح پر پہنچ جائیگی۔
وزیرخزانہ نے کہاکہ ٹیکس کے نظام میں پیپلز، پر اسیس وٹیکنالوجی کی بنیاد پر اصلاحات کاجامع پر وگرام جاری ہے،وزیراعظم ہرہفتہ خود ان اصلاحات کاجائزہ لیتے ہیں،جاری مالی سال کے دوران ٹیکس وصولیوں میں 10.3فیصداضافہ ہواہے،ٹیکس کی بنیادمیں وسعت لائی جارہی ہے، جاری مالی سال کے دوران گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں 200ارب روپے زیادہ وصول کئے گئے،انکم ٹیکس میں 11فیصد،سیلزٹیکس میں 8.5فیصد، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں 18.2فیصد اورکسٹم ڈیوٹی میں 10.2فیصدکااضافہ ہواہے،4لاکھ کے قریب ری ٹیلرز اورہول سیلرز نے اپنے ریٹرن جمع کرائے ہیں جو نل (Nil) ریٹرن نہیں ہے۔
وزیرخزانہ نے کہاکہ انفورسمنٹ اورتعمیل میں بہتری لائی جارہی ہے، سیمنٹ اورچینی کے شعبہ کوترجیح دی گئی ہے،یہ دو شعبے ایسے ہیں جہاں پیداوارکی مصنوعی ذہانت سے نگرانی کی جارہی ہے،جاری مالی سال کے پہلے 5ماہ میں چینی کے شعبہ میں 7ارب روپے اورسیمنٹ کے شعبہ میں 10ارب روپے کے اضافی ٹیکس حاصل کئے جاچکے ہیں۔مشروبات، ٹوبیکو اورٹیکسٹائل کے شعبہ جات تک اس کادائرہ کارپھیلایاجارہاہے۔انہوں نے کہاکہ ٹیکس چوری پر حکومت ایکشن لے گی اوراس میں ٹیکنالوجی سے مددلی جائیگی۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ آئی ایم ایف کی رپورٹ پاکستان کی حکومت نے شروع کی تھی جس میں ہم نے بھرپورمعاونت فراہم کی، 100سے زیادہ میٹنگز ہوئیں اوراس میں 30 سے زیادہ محکمے شامل تھے،یہ تکنیکی رپورٹ ہے اوراس رپورٹ میں موجود حکومت کے دورمیں ہونے والی پیشرفت کی تائیدکی گئی ہے،آئی ایم ایف نے پاکستان میں اصلاحات کے عمل کوسراہا ہے،
اس رپورٹ میں بہترمالی کارگردگی، فسکل سرپلس،مہنگائی میں کمی،شرح سودمیں کمی،ڈیجیٹائزیشن، سٹیٹ بینک، ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے پاکستان کے اخراج اور دیگرحکومتی اقدامات کی تائیدکی گئی ہے،آئی ایف ایف نے بعض ڈھانچہ جاتی کمزوریوں کاذکرکیا ہے اوریہ صرف پاکستان کے حوالہ سے نہیں بلکہ ان 22ممالک کے حوالہ سے ہیں جوآئی ایم ایف کے پر وگرام میں شامل ہیں۔وزیرخزانہ نے کہاکہ اس رپورٹ میں 15سفارشات آئی ہیں جس پر حکومت 31دسمبرسے پہلے ایکشن پلان دے گی، ان میں سے بیشترسفارشات پر حکومت پہلے سے کام کررہی ہے، ٹیکس نظام،آڈٹ نظام اوردیگراقدامات ایف بی آر میں اصلاحات کے عمل میں شامل ہیں۔








