اسلام آباد میں عالمی یومِ عربی زبان کے موقع پر قومی سمپوزیم کا انعقاد، عربی زبان ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے،صدر اسلامی یونیورسٹی

اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں عالمی یومِ عربی زبان کے موقع پر فیکلٹی آف عربی کے زیر اہتمام قومی سمپوزیم ’’عربی زبان ہماری ذمہ داری‘‘ کا انعقاد پرانے کیمپس میں کیا گیا۔ اس سمپوزیم کی سرپرستی صدر جامعہ پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد نے کی۔سمپوزیم میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے عربی زبان کے اساتذہ، سرکاری و نجی جامعات کے ماہرین، سفارتکاروں، دانشوروں، …

اسلام آباد۔8دسمبر (اے پی پی):بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں عالمی یومِ عربی زبان کے موقع پر فیکلٹی آف عربی کے زیر اہتمام قومی سمپوزیم ’’عربی زبان ہماری ذمہ داری‘‘ کا انعقاد پرانے کیمپس میں کیا گیا۔ اس سمپوزیم کی سرپرستی صدر جامعہ پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد نے کی۔سمپوزیم میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے عربی زبان کے اساتذہ، سرکاری و نجی جامعات کے ماہرین، سفارتکاروں، دانشوروں، محققین اور تعلیمی رہنماؤں نے شرکت کی۔ سعودی عرب اور مصر سے آنے والے مندوبین کی شرکت نے سمپوزیم کی علمی و ثقافتی اہمیت میں مزید اضافہ کیا۔

تقریب میں مصر کے سفیر، یمن کے سفیر اور شیخ ڈاکٹر حبیب الرحمن عاصم بطور مہمانانِ خصوصی شریک ہوئے، جس سے قرآن کی زبان کے فروغ کے عزم کا اظہار ہوا۔تقریب کے آغاز پر ڈین فیکلٹی آف عربی پروفیسر ڈاکٹر فضل اللہ فضل الاحد نے معزز مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں عربی زبان کے فروغ کے لیے تعلیمی تعاون، تجربات کے تبادلے اور مشترکہ کاوشیں نہایت اہم ہیں۔اسلامی یونیورسٹی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ سمپوزیم اس بات کا اظہار ہے کہ عربی زبان محض ایک تقریبی موضوع نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے عربی زبان کی تاریخی، تہذیبی اور فکری اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عربی نے مسلم دنیا کی علمی و ثقافتی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے عربی زبان کی وسعت، لسانی گہرائی اور مختلف علوم میں اس کی افادیت کو بھی اجاگر کیا۔انہوں نے کالج آف عربی لینگویج کے وژن پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کانفرنسز، سیمینارز، تربیتی پروگرامز اور تعلیمی شراکت داریوں کے ذریعے عربی زبان کے فروغ کے لیے مسلسل اقدامات کیے جا رہے ہیں، جس سے یہ ادارہ اہل محققین اور ماہرین کی تیاری میں نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے۔ انہوں نے پاکستان میں عربی تعلیم کو درپیش چیلنجز کا بھی ذکر کیا جن میں جدید تدریسی وسائل کی کمی، نصاب میں خلا اور مقامی زبانوں کا تنوع شامل ہیں، تاہم انہوں نے کہا کہ ان چیلنجز میں بھی ترقی کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

صدر جامعہ نے مملکتِ سعودی عرب کی جانب سے اسلامی یونیورسٹی کو فراہم کی جانے والی مسلسل معاونت پر بھی اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعاون عربی زبان کی تعلیم و تحقیق کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، جو قرآن کی زبان کی خدمت کے جذبے سے جڑا ہوا ہے۔خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ حضور نبی اکرم ؐ سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات اور سنت پر خلوص کے ساتھ عمل کریں، اور عربی زبان کی خدمت اسی محبت اور وابستگی کا عملی اظہار ہے، کیونکہ یہی زبان ہمیں قرآن و سنت سے جوڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عربی زبان کی خدمت پوری امت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

مزید خبریں