اسلام آباد/کراچی۔9دسمبر (اے پی پی):قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں(این سی ایس ڈبلیو) نے ’’محفوظ مستقبل: پاکستان میں کم عمری کی شادی کے مضمرات‘‘ کے عنوان سے کراچی میں ایک اعلیٰ سطحی پالیسی مذاکرہ منعقد کیا، جس میں ماہرین صحت ، قانون نافذ کرنے والے اداروں، عدلیہ، پارلیمان اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لئے قومی سطح پر مؤثر اقدامات کو تیز کرنے پر …
قومی کمیشن برائے وقار نسواں کی کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لئے موثر اقدامات کی اپیل

مزید خبریں
اسلام آباد/کراچی۔9دسمبر (اے پی پی):قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں(این سی ایس ڈبلیو) نے ’’محفوظ مستقبل: پاکستان میں کم عمری کی شادی کے مضمرات‘‘ کے عنوان سے کراچی میں ایک اعلیٰ سطحی پالیسی مذاکرہ منعقد کیا، جس میں ماہرین صحت ، قانون نافذ کرنے والے اداروں، عدلیہ، پارلیمان اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لئے قومی سطح پر مؤثر اقدامات کو تیز کرنے پر اتفاق کیا۔ منگل کو این سی ایس ڈبلیو سے جاری پریس ریلیز کے مطابق چیئرپرسن ام لیلیٰ اظہر نے اس موقع پر کہا کہ کم عمری کی شادی بچوں کے حقوق، انسانی حقوق اور صحت کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان بھر میں شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کی جائے۔ انہوں نے ادارہ جاتی ذمہ داریوں میں کمزوری، عمر کے تعین کے نظام میں خلا، خطِ اوّل پر کام کرنے والے عملے کی محدود صلاحیت اور محکموں کے درمیان ہم آہنگی کی کمی کو اجاگر کرتے ہوئے اس ضرورت پر زور دیا کہ پولیس، عدلیہ، صحت، سماجی بہبود اور تعلیم کے محکموں کو جوڑ کر ایک مکمل مربوط حفاظتی نظام قائم کیا جائے۔کنسلٹیشن سیشن میں آغا خان یونیورسٹی کے سینئر طبی ماہرین نے کم عمر لڑکیوں کی حمل کے دوران سنگین طبی خطرات پر شواہد پیش کیے، جن میں زچگی کے دوران اموات، پیچیدہ زچگی، غذائی قلت، نفسیاتی صدمات اور نوزائیدہ بچوں کی طویل مدتی نشوونما پر منفی اثرات شامل ہیں۔
سندھ کمیشن برائے وقارِ نسواں، سندھ چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی، محکمہ ترقیِ نسواں اور سندھ پولیس کے نمائندگان نے نفاذ میں رکاوٹیں، کمزور کیس مینجمنٹ، سماجی مزاحمت اور عدالتی افسران کی حساسیت میں کمی جیسے مسائل بیان کرتے ہوئے خصوصی بچوں کے موافق تفتیشی و عدالتی طریقۂ کار کی ضرورت پر زور دیا۔ رکنِ قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے قوانین کے یکساں نفاذ کے لئے مضبوط سیاسی عزم کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کم عمری کی شادی ایک ایسا عمل ہے جسے روایت نہیں بلکہ تشدد سمجھا جانا چاہیے، کیونکہ یہ بچیوں کی تعلیم، خودمختاری اور معاشی مستقبل پر مستقل منفی اثرات چھوڑتی ہے۔آغا خان یونیورسٹی ہسپتال میں منعقدہ اس اجلاس کا اختتام اس اتفاقِ رائے پر ہوا کہ ملک بھر میں شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کی جائے، بچوں کے تحفظ کے مربوط نظام کو مضبوط بنایا جائے، عمر کے تعین کے لئے جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرائے جائیں، خطِ اوّل پر کام کرنے والے عملے کی تربیت میں اضافہ کیا جائے، نوعمر لڑکیوں اور لڑکوں میں آگاہی کے پروگرام وسیع کیے جائیں اور بچوں کے تحفظ سے متعلق تمام اقدامات میں ذہنی صحت کو بنیادی جزو کے طور پر شامل کیا جائے۔








