پاکستان اور انڈونیشیا کا تجارت، تعلیم ، صحت ، زراعت،سائنس ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں تعاون کے مزید فروغ پر اتفاق اسلام آباد۔9دسمبر (اے پی پی):پاکستان اور انڈونیشیا نے تجارت، تعلیم ، صحت ، زراعت،سائنس ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں تعاون کے مزید فروغ پر اتفاق کیا ہے ۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ انڈونیشیا کے صدرکے ساتھ ملاقات انتہائی مثبت اور تعمیری رہی …
پاکستان اور انڈونیشیا کا تجارت، تعلیم ، صحت ، زراعت،ٹیکنالوجی سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے اورپاکستانی ڈاکٹرز، میڈیکل پروفیسرز اور ماہرین کوانڈونیشیا بھجوانے پر اتفاق

مزید خبریں
پاکستان اور انڈونیشیا کا تجارت، تعلیم ، صحت ، زراعت،سائنس ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں تعاون کے مزید فروغ پر اتفاق
اسلام آباد۔9دسمبر (اے پی پی):پاکستان اور انڈونیشیا نے تجارت، تعلیم ، صحت ، زراعت،سائنس ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں تعاون کے مزید فروغ پر اتفاق کیا ہے ۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ انڈونیشیا کے صدرکے ساتھ ملاقات انتہائی مثبت اور تعمیری رہی ،ان کے دورے سے دوطرفہ تعلقات مزید بلندیوں کو چھوئیں گے، دونوں ممالک کے تعلقات ہر آزمائش پر پورا اترے ہیں ، عالمی اورعلاقائی امور پر دونوں ممالک کے خیالات یکساں ہیں۔
انڈونیشیا کے صدرپرابوووسوبیانتو نے کہا کہ پاکستان کی طرف سےصحت کے شعبے میں تعاون کا خیرمقدم کرتے ہیں ،تعلیم ، تجارت، زراعت ، انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنائیں گے۔ منگل کوپاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان معاہدوں اورمفاہمت کی یادداشتوں کی دستاویزات کے تبادلے کی تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ صدر پرابو وسو بیانتو انڈونیشیا کے مدبر رہنما ہیں،انڈونیشیا کے کسی بھی صدر کا سات سال بعد پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہے،ہمارے تعلقات 75 سال پرانے ہیں،دونوں ممالک کے تعلقات ہر آزمائش پر پورا اترے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا دوطرفہ تجارت کے فروغ کیلئے پرعزم ہیں، دوطرفہ تجارت کا حجم اس وقت 4.5 ارب ڈالر ہے جس میں سے 90 فیصد تجارت انڈونیشیا سے پاکستان کیلئے پام آئل کی درآمد کی ہے، ہم نے ملاقات میں پاکستان سے زرعی برآمدات میں اضافے، آئی ٹی کے شعبے کی ترقی کے اقدامات اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا ہے، پاکستان انڈونیشیا کی میڈیکل یونیورسٹیوں اور ہسپتالوں کی ضروریات پوری کرنے کیلئے ڈاکٹرز، ڈینٹسسٹ ، میڈیکل پروفیسرز اور دیگر طبی ماہرین بھجوانے کیلئے تیار ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے انڈونیشیا کی آزادی کی تحریک کی حمایت کی تھی ،1965 کی جنگ میں انڈونیشیا چٹان کی طرح پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا اور انڈونیشیا کی حکومت اور عوام نے 1965 کی جنگ میں پاکستان کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کیا ، انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ مزید مستحکم ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ تمام عالمی اور علاقائی امور پر دونوں ممالک کے خیالات یکساں ہیں۔ عالمی امور کے حوالے سے وزیراعظم نے غزہ پر انڈونیشیا کے مؤقف کو سراہا اور کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری غزہ میں خونریزی رکوانے کیلئے کردار ادا کرے ، غزہ میں اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں قابل مذمت ہیں۔انڈونیشیا کے صدر کے دورے سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید بلندیوں کو چھوئیں گے۔
انڈونیشیا کے صدرپرابوو سو بیانتو نے کہا کہ بھرپور مہمان نوازی اور استقبال پر وزیراعظم محمد شہباز شریف اور پاکستان کے عوام کے شکر گزار ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ ملاقات میں مختلف شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال ہوا ہے،ہمارے مشترکہ مفادات ، مشترکہ اقدار اور تاریخی تعلقات ہیں، پاکستان اور انڈونیشیا دو بڑے اسلامی ممالک ہیں ،پاکستان کی فضائی حدود میں جے ایف17 تھنڈر طیاروں کی سلامی میرے لیےباعث اعزاز ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ مزید مضبوط ہوں گے، انڈونیشیا کے صحت کے شعبے کےلئے پاکستان سے ڈاکٹرز،میڈیکل پروفیسرز اور ماہرین بھجوانے سے ہمیں بہت فائدہ ہوگا، ہم نے مختلف شعبوں میں تعاون کے حوالے سے معاہدوں اور مفامت کی یادداشتوں کا تبادلہ کیا ہے۔
پاکستان کی جانب سے صحت کے شعبے میں تعاون کا خیر مقدم کرتے ہیں ،تجارت، تعلیم، زراعت ، سائنس و ٹیکنالوجی، صحت،ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں تعلقات میں مزید بہتری آئے گی۔ انڈونیشیا کے صدر نے کہا کہ انہوں نے اپنے وزراء کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں عملی تعاون کی رفتار کو تیز کریں۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین اور دیگر مختلف عالمی امور پر ہمارے خیالات یکساں ہیں دونوں ممالک کے وزراء خارجہ ایک دوسرے کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہیں،غزہ کے معاملے پر ہمارا موقف ایک ہے۔ انہوں نے دو ریاستی حل کیلئے انڈونیشیا کے مؤقف کا اعادہ کیا ۔ انڈونیشیا کے صدر نے وزیراعظم شہباز شریف کو اپنے ملک کے دورے کی دعوت بھی دی۔قبل ازیں دونو ں ممالک کے درمیان تجارت ، تعلیم اور صحت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کےلئے معاہدوں اورمفاہمت کی یادداشتوں کا تبادلہ کیا گیا۔








