اقوام متحدہ ۔19دسمبر (اے پی پی):پاکستان نے مغربی افریقہ اور ساحل کے خطے میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف مؤثر اور مربوط اقدامات کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے۔اقوام متحدہ میں پاکستان مشن کے وزیر آصف خان نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے رکن ممالک کے درمیان …
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی مغربی افریقہ میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کارروائی کی اپیل

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔19دسمبر (اے پی پی):پاکستان نے مغربی افریقہ اور ساحل کے خطے میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف مؤثر اور مربوط اقدامات کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی تعاون بڑھانے پر زور دیا ہے۔اقوام متحدہ میں پاکستان مشن کے وزیر آصف خان نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کا فروغ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ سیاسی عدم استحکام، خصوصاً بینن اور گنی بساؤ میں پیش آنے والے واقعات، اس خطے کی کمزور سیکیورٹی صورتحال کو مزید بے نقاب کرتے ہیں۔اجلاس میں اقوامِ متحدہ کے مغربی افریقہ اور ساحل کے دفتر (یواین او ڈبلیو ایس ) کی صورتحال پر بحث کی گئی۔ آصف خان نے جماعۃ نصرۃ الاسلام والمسلمین، اسلامک اسٹیٹ ساحل صوبہ، اسلامک اسٹیٹ ویسٹ افریقہ صوبہ اور بوکو حرام جیسے دہشت گرد گروہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر گہری تشویش ظاہر کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ گروہ کھلی سرحدوں، غیر قانونی اسمگلنگ کے راستوں، آن لائن انتہاپسندی اور مجرمانہ نیٹ ورکس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔پاکستانی مندوب نے زور دیا کہ ای سی او ڈبلیو اے ایس، اکرا انیشی ایٹو اور ملٹی نیشنل جوائنٹ ٹاسک فورس جیسے علاقائی فریم ورک کو مزید مضبوط اور وسائل سے آراستہ کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے یواین او ڈبلیو ایس کی جانب سے مکالمے اور تعمیری روابط کے فروغ کی کوششوں کی مکمل حمایت کا اعلان بھی کیا۔آصف خان نے کہا کہ پاکستان مغربی افریقہ اور ساحل کے عوام اور حکومتوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور دہشت گردی و پرتشدد انتہاپسندی کے خلاف جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستانی امن دستے افریقہ بھر میں نمایاں خدمات انجام دے چکے ہیں اور پاکستان انٹیلی جنس رابطہ کاری، سرحدی نظم و نسق اور شدت پسندی کے خاتمے کے شعبوں میں اپنا تجربہ شیئر کرنے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے دہشت گردی کے خلاف کثیرالجہتی حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صرف عسکری اقدامات ہی نہیں بلکہ سیاسی، معاشی، ماحولیاتی اور سماجی عوامل سے بھی نمٹنا ضروری ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وسطی ساحل کے خطے میں 69 لاکھ سے زائد متاثرہ افراد کی فوری انسانی امدادی ضروریات پوری کی جائیں۔اجلاس کے آغاز میں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی نائب خصوصی نمائندہ بیری فری مین نے خطے کی نازک مگر لچکدار صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ 7 دسمبر کو بینن میں قومی سلامتی فورسز نے ای سی او ڈبلیو اے ایس کی مدد سے بغاوت کی کوشش ناکام بنائی، جبکہ 26 نومبر کو گنی بساؤ میں فوج نے صدارتی انتخابات کے نتائج میں مداخلت کی۔
انہوں نے کہا کہ اس کے بعد گرفتاریوں، اشتعال انگیز بیانات اور آن لائن نفرت انگیز تقاریر میں اضافہ تشویشناک ہے۔ادھر لیک چاڈ بیسن میں بوکو حرام اور اسلامک اسٹیٹ ویسٹ افریقہ صوبہ کے حملوں میں شدت آ گئی ہے، جبکہ نائجیریا کے شمال مغرب میں لاکوروا گروہ نے ملکی افواج کے لیے نئے سیکیورٹی چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ بیری فری مین نے دہشت گردی اور منظم جرائم کے بڑھتے ہوئے گٹھ جوڑ سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اقدامات کو ترجیح دینے پر زور دیا۔








