نیویارک/اسلام آباد۔19دسمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے دیرینہ مؤقف کی تائید کر دی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغان طالبان کا یہ دعویٰ کہ ان کی سرزمین پر کوئی دہشت گرد موجود نہیں، "قابلِ اعتبار" نہیں ہے۔رپورٹ کے مطابق افغانستان اس وقت داعش، ٹی ٹی پی، القاعدہ …
اقوام متحدہ کا افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار

مزید خبریں
نیویارک/اسلام آباد۔19دسمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے دیرینہ مؤقف کی تائید کر دی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغان طالبان کا یہ دعویٰ کہ ان کی سرزمین پر کوئی دہشت گرد موجود نہیں، "قابلِ اعتبار” نہیں ہے۔رپورٹ کے مطابق افغانستان اس وقت داعش، ٹی ٹی پی، القاعدہ اور جماعت انصار اللہ جیسے خطرناک گروہوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔
خاص طور پر ٹی ٹی پی کی جانب سے افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان پر کیے جانے والے حملوں کی تصدیق کی گئی ہے۔ سلامتی کونسل کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان کے امیر ہیبت اللہ کے احکامات پر عملدرآمد نہیں ہو رہا اور دہشت گرد گروہ اس قدر بااختیار ہیں کہ وہ آزادانہ کارروائیاں کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ نے مزید کہا کہ افغانستان میں حکومت جبر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ذریعے چلائی جا رہی ہے، جہاں خواتین اور اقلیتیں شدید متاثر ہیں۔ رپورٹ میں وارننگ دی گئی ہے کہ اگر بنیادی مسائل حل نہ ہوئے تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ پاکستان مسلسل عالمی برادری کو افغان سرزمین سے پیدا ہونے والے ان خطرات سے آگاہ کرتا رہا ہے۔








