چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان کی پرتگالی سفیر سے ملاقات،مختلف دو طرفہ امور بارے تبادلہ خیال کیا

اسلام آباد۔19دسمبر (اے پی پی):چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام (پی ایم وائے پی)رانا مشہود احمد خان نے پاکستان میں پرتگال کےسفیر مینوئل فریڈریکو پینہیرو دا سلوا سے سفارتخانے میں ملاقات کی جس دوران پروڈکٹیو روزگار اور بیرون ملک روزگار کے شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو مضبوط بنانے بالخصوص نوجوانوں کی بااختیاری اور لیبر موبلٹی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ فریقین نے نوجوانوں کے لیے پائیدار روزگار کے مواقع …

اسلام آباد۔19دسمبر (اے پی پی):چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام (پی ایم وائے پی)رانا مشہود احمد خان نے پاکستان میں پرتگال کےسفیر مینوئل فریڈریکو پینہیرو دا سلوا سے سفارتخانے میں ملاقات کی جس دوران پروڈکٹیو روزگار اور بیرون ملک روزگار کے شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو مضبوط بنانے بالخصوص نوجوانوں کی بااختیاری اور لیبر موبلٹی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ فریقین نے نوجوانوں کے لیے پائیدار روزگار کے مواقع اور محفوظ، قانونی اور باہمی مفاد پر مبنی لیبر موبلٹی کا فریم ورک قائم کرنے بارے بھی امکانات کا جائزہ لیا ۔

چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے پاکستان کے پرتگال کے ساتھ تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیا، فریقین نے عالمی امن، خوشحالی اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ملاقات میں یاد دہانی کروائی گئی کہ پاکستان اور پرتگال نے 7 نومبر 1949 کو سفارتی تعلقات قائم کیے اور گزشتہ 75 سال میں دونوں ممالک کے تعلقات دوستانہ اور خوشگوار رہے ۔ دونوں رہنمائوں نے دو طرفہ روابط میں مسلسل پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔

تجارت اور سرمایہ کاری کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ دو طرفہ تجارت میں اضافہ جاری ہے اور 2024 میں یہ221 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ۔ فریقین نے اس ترقی کو سراہا اور تعاون کے نئے شعبے دریافت کر کے مزید توسیع کی صلاحیت پر بھی زور دیا بالخصوص آئی ٹی سیکٹر میں تعاون کو اہمیت دی گئی جہاں پاکستانی اور پرتگالی کمپنیاں باہمی فائدہ حاصل کر سکتی ہیں۔پاکستان نے اپنی بڑی اور نوجوان آبادی (241 ملین) کو اجاگر کیا جس میں تقریباً 70 فیصد افراد کی عمر 30 سال سے کم ہے، اس کے علاوہ ہنر مند آئی ٹی پیشہ وران کی بڑھتی تعداد بشمول خواتین کی بڑھتی شمولیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔

ملاقات میں لیبر موبلٹی اور انسانی وسائل کو تعاون کے اہم شعبوں کے طور پر دیکھا گیا۔ چیئرمین پی ایم وائے پی نے پاکستان کے وسیع ہنر مند اور نیم ہنر مند انسانی وسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لیبر موبلٹی پارٹنرشپ ایگریمنٹ کو جلد از جلد حتمی شکل دینا ضروری ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان قانونی اور ادارہ جاتی فریم ورک کے ذریعے منظم تعاون ممکن ہو، اس حوالے سے پاکستان کی جانب سے جون 2022 میں پیش کردہ ڈرافٹ ایگریمنٹ کا بھی ذکر کیا گیا اور پرتگالی فریق سے جلد جواب کی امید ظاہر کی گئی۔

انہوں نے نوجوانوں کے لیے پروڈکٹیو روزگار پر حکومت کے اقدامات اجاگر کیے جن میں یوتھ سکل پروگرام، یوتھ لیپ ٹاپ سکیم، یوتھ بزنس، ایگریکلچر اور لون سکیم، نیشنل انوویشن ایوارڈ، نیشنل والنٹیئر کور، ڈیجیٹل یوتھ ہب، یوتھ ٹیلنٹ ہنٹ وسپورٹس لیگ اور گرین یوتھ موومنٹ جیسے اقدامات شامل ہیں۔ نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کو ایک سنگ میل قرار دیتے ہوئے اس کا مقصد پائیدار روزگار پیدا کرنا، نوجوانوں اور خواتین کو بااختیار بنانا اور مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق مہارتیں تیار کرنا بتایا گیا جبکہ خواتین کی لیبر فورس میں شرکت کو 35 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔

بیرون ملک روزگارکو پاکستانی نوجوانوں کے لیے بین الاقوامی تجربہ، بہتر آمدنی اور ہنر بڑھانے کا اہم ذریعہ قرار دیا گیا۔ فریقین نے نوجوانوں کے لیے محفوظ، قانونی اور باہمی مفاد پر مبنی بیرون ملک روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر بات کی اور بیرون ملک پاکستانی کارکنوں کے حقوق اور فلاح و بہبود کے تحفظ پر زور دیا۔

پرتگال میں پاکستانی کمیونٹی کو بھی لوگوں کے درمیان تعلقات مضبوط کرنے کے لیے ایک قیمتی پل قرار دیا گیا۔ پرتگالی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 54,318 پاکستانی شہری یا پاکستانی نژاد افراد اس وقت وہاں مقیم ہیں۔ فریقین نے دو طرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور مستقبل میں تعمیری رابطے جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔