مالی سال 26-2025 کے دوران ملکی معیشت نے استحکام کا مظاہرہ کیا ، ایف بی آر کے محصولات اور خدماتی شعبے خصوصاً آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوا جو مثبت اشارہ ہے،پلاننگ کمیشن

اسلام آباد۔20دسمبر (اے پی پی):مالی سال 26-2025 کے دوران جولائی تا نومبر پاکستان کی معیشت نے استحکام کا مظاہرہ کیا جس کی بنیاد محتاط میکرو اکنامک مینجمنٹ اور ہدفی ترقیاتی اقدامات پر رکھی گئی، سیلاب کے باعث عارضی رکاوٹوں کے باوجود افراطِ زر میں کمی اور صنعتی سرگرمیوں کی بحالی نے معیشت کو مستحکم رکھا، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے محصولات اور خدماتی شعبہ خصوصاً آئی ٹی …

اسلام آباد۔20دسمبر (اے پی پی):مالی سال 26-2025 کے دوران جولائی تا نومبر پاکستان کی معیشت نے استحکام کا مظاہرہ کیا جس کی بنیاد محتاط میکرو اکنامک مینجمنٹ اور ہدفی ترقیاتی اقدامات پر رکھی گئی، سیلاب کے باعث عارضی رکاوٹوں کے باوجود افراطِ زر میں کمی اور صنعتی سرگرمیوں کی بحالی نے معیشت کو مستحکم رکھا، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے محصولات اور خدماتی شعبہ خصوصاً آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوا جو ملکی معیشت کے لیے مثبت اشارہ ہے۔

منصوبہ بندی کمیشن کی ماہانہ رپورٹ کے مطابق بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر بھی مضبوط رہیں اور جولائی تا نومبر 16.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جس نے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دیا،مالیاتی منڈیوں میں بھی استحکام برقرار رہا اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا،اس کے علاوہ ہنڈرڈ انڈیکس میں بہتری ریکارڈ کی گئی جو مارکیٹ کے مثبت رجحان کی نشاندہی کرتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی)نے متعدد اہم ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی جو حکومت کے ترجیحی شعبوں میں روزگار کے مواقع پیدا ، مہارتوں میں اضافہ اور جامع ترقی کو فروغ دیں گے۔اہم اقدامات میں گرین بلڈنگ کوڈ کا نفاذ، قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں نئی سہولیات کا قیام اور اڑان پاکستان کے ذریعے بین الاقوامی شراکتیں شامل ہیں جو جدت، تحقیق اور تجارتی ترقی کو فروغ دیں گی۔

اس عرصے میں ترقیاتی بجٹ میں 196 ارب روپے جاری کیے گئے جن میں سے 92 ارب روپے خرچ ہوئے جبکہ باقی رقم منصوبوں کی تکمیل کے لیے زیرِ استعمال ہے۔ غیر ملکی فنڈڈ منصوبوں میں بھی پیش رفت ہوئی اور 25.1 ارب روپے کی منظوری کے مقابلے میں 12.8 ارب روپے خرچ کیے گئے۔مجموعی طور پر پاکستان کا ترقیاتی منظرنامہ پُرامید ہے، مالیاتی استحکام، اہم ترقیاتی اقدامات اور منصوبوں کی مؤثر نگرانی پائیدار اور جامع ترقی کی مضبوط بنیاد فراہم کر رہی ہے۔