پنجاب اور سندھ میں جعلی و ملاوٹ شدہ زرعی ادویات اور سپرے کے پھیلاؤ سے فصلیں متاثر ، کسانوں کو نقصان ہو رہا ہے،مسابقتی کمیشن

اسلام آباد۔20دسمبر (اے پی پی):کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان نے فصلوں کے کیڑے مار سپرے اور زرعی ادویات کی مارکیٹ پر مسابقتی جائزہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ پنجاب اور سندھ میں جعلی اور ملاوٹ شدہ زرعی ادویات اور سپرے کے پھیلاؤ سے فصلیں متاثر ہو رہی ہیں، کسانوں کو مالی نقصان پہنچ رہا ہے اور زرعی ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کے درمیان مارکیٹ …

اسلام آباد۔20دسمبر (اے پی پی):کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان نے فصلوں کے کیڑے مار سپرے اور زرعی ادویات کی مارکیٹ پر مسابقتی جائزہ رپورٹ جاری کی ہے جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ پنجاب اور سندھ میں جعلی اور ملاوٹ شدہ زرعی ادویات اور سپرے کے پھیلاؤ سے فصلیں متاثر ہو رہی ہیں، کسانوں کو مالی نقصان پہنچ رہا ہے اور زرعی ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کے درمیان مارکیٹ میں مسابقت بگڑ رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان مکمل طور پر درآمدی زرعی زہروں پر انحصار کرتا ہے اور زرعی ادویات و کیڑے مار سپرے کی مقامی پیداوار موجود نہیں۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ متعلقہ قوانین کے کمزور نفاذ، ریگولیٹری خامیوں اور نئی ادویات و سپرے کی ٹیسٹنگ کے طویل اور پیچیدہ منظوری کے طریقۂ کار کے باعث اس شعبے میں نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے۔کمپٹیشن کمیشن کی مارکیٹ جائزہ رپورٹ کے مطابق پنجاب اور سندھ میں جعلی اور ملاوٹ شدہ زرعی زہروں کا مسئلہ سنگین ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں زرعی ادویات اور کیڑے مار سپرے کی شیلف لائف دو سال مقرر ہے جبکہ دیگر ممالک میں یہی ادویات عام طور پر پانچ سال تک مؤثر رہتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دو سالہ شیلف لائف کی شرط زرعی ادویات کے غیر ضروری ضیاع کا سبب بن رہی ہے۔صوبوں میں زرعی ادویات کی جانچ کرنے والی لیبارٹریوں میں صلاحیت اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی کمی اور متعلقہ قوانین کے کمزور نفاذ کے باعث جعلساز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاقی اور صوبائی اختیارات میں اوورلیپ بھی اس شعبے کی بہتری اور فروغ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔کمپٹیشن کمیشن نے رپورٹ میں زرعی ادویات کے شعبے کی بہتری کے لیے متعدد سفارشات پیش کی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی قوانین میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے متعلقہ قوانین کا جامع جائزہ لیا جائے۔ زرعی ادویات اور کیڑے مار سپرے کی ٹیسٹنگ اور منظوری کے لیے فارم-ون کے طریقۂ کار کو آسان اور تیز بنایا جائے، ادویات کی شیلف لائف کی شرط پر نظرثانی کی جائے اور مقامی آب و ہوا کے مطابق زرعی ادویات اور زہروں کو فروغ دیا جائے، جعلی زرعی مصنوعات کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور سزاؤں و جرمانوں میں اضافہ کیا جائے، صوبائی لیبارٹریوں اور تکنیکی صلاحیت کو بہتر بنانے کے اقدامات کیے جائیں، مقامی پیداوار کی حوصلہ افزائی کی جائے اور حکومت زرعی گریجویٹس کو لائسنس یافتہ ڈسٹری بیوٹر بننے میں معاونت فراہم کرے۔

کمپٹیشن کمیشن کے مطابق مؤثر نفاذ، بہتر رابطہ کاری اور واضح ریگولیٹری فریم ورک کے ذریعے زرعی زہروں کی مارکیٹ میں مسابقت کو فروغ دیا جا سکتا ہے جس سے فصلوں کو درپیش خطرات اور کسانوں کے مالی نقصان میں کمی آئے گی جبکہ زرعی اور ماحولیاتی اہداف کے حصول میں بھی مدد ملے گی۔ مکمل رپورٹ کمپٹیشن کمیشن کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔