لاہور۔21دسمبر (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر سیف الرحمان نے کہا ہے کہ مون سون کی شدید بارشوں کو ہر سال محض تباہی اور جانی نقصان کا سبب سمجھنے کے بجائے بجلی کی پیداوار اور پائیدار ترقی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ اتوار کو یہاں تاجروں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے سیف الرحمان نے کہا کہ پاکستان پانی کی قلت کا شکار ملک ہے،جو ہر سال …
مون سون بارشوں کو توانائی کی پیداوار اور پائیدارترقی کیلئے استعمال کیا جائے،سیف الرحمان

مزید خبریں
لاہور۔21دسمبر (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر سیف الرحمان نے کہا ہے کہ مون سون کی شدید بارشوں کو ہر سال محض تباہی اور جانی نقصان کا سبب سمجھنے کے بجائے بجلی کی پیداوار اور پائیدار ترقی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ اتوار کو یہاں تاجروں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے سیف الرحمان نے کہا کہ پاکستان پانی کی قلت کا شکار ملک ہے،جو ہر سال اربوں گیلن بارش کا پانی ضائع ہونے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے پالیسی سازوں پر زور دیا کہ وہ اس ضمن میں طویل المدتی اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ حکمت عملی اختیار کریں،کیونکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید موسمی واقعات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر مون سون کے چیلنجز کو درست منصوبہ بندی کے تحت معاشی مواقع میں بدلا جائے تو نہ صرف قیمتی جانوں و املاک کا تحفظ ممکن ہے بلکہ ترقی کی رفتار تیز اور آئندہ نسلوں کے لیے پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ سیف الرحمان نے زور دیا کہ مناسب منصوبہ بندی، سرمایہ کاری اور وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان موثر ہم آہنگی کے ذریعے مون سون کی بارشوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے و درمیانے درجے کے ڈیمز، شہری آبی ذخائر اور رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹمز کے ذریعے بارش کے پانی کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔
اسی طرح سیلابی پانی کو پن بجلی منصوبوں کی طرف موڑ کر سستی اور صاف توانائی حاصل کی جا سکتی ہے، جس سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم اور توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنایا جا سکے گا۔جدید نکاسی آب کے نظام، فلڈ چینلز اور پانی ذخیرہ کرنے کی سہولیات شہری سیلاب میں کمی کے ساتھ ساتھ زراعت اور زیرِ زمین پانی کی بحالی میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے نجی شعبے کی شمولیت کی حوصلہ افزائی اور قابلِ تجدید توانائی و آبی نظم و نسق سے متعلق منصوبوں کے لیے ٹیکس میں رعایت دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔








