اسلام آباد۔29دسمبر (اے پی پی):مسابقتی کمیشن آف پاکستان نے سال 2025 میں اکانومی کے مختلف شعبوں انشورنس، گولڈ ، زرعی سپرے (پیسٹی سائیڈز)، سٹیل، ایل این جی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور کھاد کے شعبوں اور مارکیٹ بارے تحقیقاتی رپوٹس جاری کیں۔ کمیشن نے ان رپوٹس میں ان شعبوں کو درپیش مسائل و مشکلات اور سیکٹرز کے فروغ کے لئے اصلاحات تجویز کیں۔ پیر کے روز مسابقتی کمیشن آف پاکستان کی …
مسابقتی کمیشن نے 2025ء میں انشورنس ، فرٹیلائزر،سٹیل، گولڈ ، ایل این جی اور دیگر شعبوں پر رپوٹس جاری کیں

مزید خبریں
اسلام آباد۔29دسمبر (اے پی پی):مسابقتی کمیشن آف پاکستان نے سال 2025 میں اکانومی کے مختلف شعبوں انشورنس، گولڈ ، زرعی سپرے (پیسٹی سائیڈز)، سٹیل، ایل این جی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور کھاد کے شعبوں اور مارکیٹ بارے تحقیقاتی رپوٹس جاری کیں۔ کمیشن نے ان رپوٹس میں ان شعبوں کو درپیش مسائل و مشکلات اور سیکٹرز کے فروغ کے لئے اصلاحات تجویز کیں۔ پیر کے روز مسابقتی کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان میں انشورنس کے شعبے میں مقابلے کی صورتحال سے متعلق مسابقتی کمیشن کی رپورٹ میں کم انشورنس رسائی، محدود عوامی شمولیت اور مقابلے میں رکاوٹ بننے والے ریگولیٹری دیگر مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں انشورنس کی شرح 0.87 فیصد ہے جو کہ عالمی اوسط 6.7 فیصد کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ رپورٹ میں صارفین کے مفاد اور موثر مقابلے کے فروغ کے لیے کئی ایک اصلاحات تجویز کی گئیں ہیں۔ پاکستان میں گولڈ کی مارکیٹ پر جاری پہلی رپورٹ میں شواہد پر مبنی تجزیہ پیش کیاگیا ہے۔ اس رپورٹ میں سونے کی غیر رسمی مارکیٹ، گولڈ کی قیمت کے تعین میں غیر شفافیت اور پیچیدہ ٹیکس کے مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔مسابقتی کمیشن نے گولڈ اور قیمتی پتھروں کی مارکیٹ کو ریگولیٹ کرنے کے لئے علیحدہ ریگولٹری ادارہ قائم کرنے کی تجویز دی ہے۔
اس کے علاوہ مسابقتی کمیشن نے پیسٹی سائیڈ، سٹیل اور ایل این جی کے شعبوں پر ریسرچ رپوٹس جاری کیں جن میں ان شعبوں کی مارکیٹ کے فروغ میں حائل رکاوٹوں ، ریگولیٹری اور نفاذ سے متعلق خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔پیسٹی سائیڈز سے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان زرعی زہروں کے لیے بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتا ہے جبکہ جعلی اور غیر معیاری مصنوعات کی بھرمار، ریگولیٹری رکاوٹیں اور کمزور نفاذ کسانوں اور فصلوں کی پیداوار پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ایل این جی کے شعبے میں سرکاری اداروں کی اجارہ داری ، نجی شعبے کی محدود شمولیت، انفراسٹرکچر تک رسائی میں رکاوٹیں اور گردشی قرضے سے مارکیٹ میں مقابلے پر منفی اثرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
سٹیل سیکٹر کی رپورٹ میں شعبے کے مسابقتی چیلنجز اور مارکیٹ کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے درکار اصلاحات کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ کمیشن نے کھاد کے شعبے کا بھی مقابلہ جاتی جائزہ جاری کیا ہے جس میں زرعی پیداوار اور کھاد کی رٹیل مارکیٹ میں مقابلے میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔مسابقتی کمیشن نے بین لاقوامی تعاون و تجربات سے فائدہ اٹھانے کے لئے روسی فیڈریشن کے فیڈرل اینٹی مونوپولی سروس کے ساتھ ایک ایم او یو پر دستخط ہوئے، جس کا مقصد جدید مارکیٹوں کے نظام ، شفافیت ، مرجر کنٹرول اور مقابلہ جاتی پالیسی کی تحقیق میں تعاون کو بڑھانا ہے۔
دیگر انفورسمنٹ ایجنسیوں سے تعاون بڑھانے کے لیے مسابقتی کمیشن نے سال 2025ء کے دوران کوآرڈینیشن ، ڈیٹا و معلومات کے تبادلے اور موثر نفاذ کے لئے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) اور پنجاب فوڈ اتھارٹی (پی ایف اے) ، پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی پی آر اے) کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے۔








