اسلام آباد۔8جنوری (اے پی پی):عالمی بینک نے کہاہے کہ خوراک کی لیبلنگ سے لے کر فائیو جی سیلولر نیٹ ورکس کی تکنیکی تفصیلات تک پھیلے ہوئے بین الاقوامی معیارات عالمی معاشی نظام کو تیزی سے ازسرِنو تشکیل دے رہے ہیں جس سے معیارات وضع کرنے والے امیر ممالک اور کثیرالقومی کمپنیوں کو نمایاں فوائد حاصل ہو رہے ہیں تاہم بہت سے ترقی پذیر ممالک اس عمل میں پیچھے رہ جانے …
عالمی معیشت کی نئی تشکیل میں معیارات کلیدی کردارادا کر رہے ہیں ، عالمی بینک

مزید خبریں
اسلام آباد۔8جنوری (اے پی پی):عالمی بینک نے کہاہے کہ خوراک کی لیبلنگ سے لے کر فائیو جی سیلولر نیٹ ورکس کی تکنیکی تفصیلات تک پھیلے ہوئے بین الاقوامی معیارات عالمی معاشی نظام کو تیزی سے ازسرِنو تشکیل دے رہے ہیں جس سے معیارات وضع کرنے والے امیر ممالک اور کثیرالقومی کمپنیوں کو نمایاں فوائد حاصل ہو رہے ہیں تاہم بہت سے ترقی پذیر ممالک اس عمل میں پیچھے رہ جانے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ یہ بات عالمی بینک کی ورلڈ ڈویلپمنٹ رپورٹ میں کہی گئی ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ معیارات معاشی انفراسٹرکچر بن چکے ہیں اور خوشحالی کے لئے سڑکوں اوربندرگاہوں جیسی اہمیت رکھتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شپنگ کنٹینرز کی معیاری شکل نے عالمی تجارت کو گزشتہ 60 برسوں کے تمام تجارتی معاہدوں کے مجموعی اثر سے زیادہ فروغ دیا تاہم 2000 کے بعد یہی معیارات تجارتی جنگوں کا ایک اہم ذریعہ بھی بن گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق غیر محصولاتی اقدامات جیسے کیڑے مار ادویات کی تکنیکی شرائط اور لیبلنگ کے ضوابط اب عالمی تجارت کے 90 فیصد حصے کو متاثر کر رہے ہیں جبکہ 1990 کی دہائی کے اواخر میں یہ شرح صرف 15 فیصد تھی۔ عالمی بینک گروپ کے چیف اکنامسٹ اندرمِت گِل نے بتایا کہ معیارات آج کے دور میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ معیاری شپنگ کنٹینر نے تیار شدہ اشیا کی تجارت کو بے مثال فروغ دیا اور ڈیجیٹل معیارات مستقبل میں خدمات کی تجارت کے لئے بھی ایسا ہی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر معیارات کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
گزشتہ سات دہائیوں میں انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار سٹینڈرڈائزیشن کی جانب سے جاری کئے گئے 20 ہزار معیارات میں سے نصف سے زیادہ 2000 ء کے بعد متعارف کرائے گئے۔ صرف 2024 ء میں عالمی معیار ساز اداروں نے 7 ہزار سے زائد نئے معیارات جاری کئے تاہم رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ترقی پذیر ممالک اکثر معیارات کی تیاری کے عمل میں مؤثر نمائندگی نہیں رکھتے۔ اوسطاً وہ آئی ایس او کی تکنیکی کمیٹیوں کے ایک تہائی سے بھی کم میں شامل ہیں جس کی وجہ وسائل اور مہارت کی کمی ہے۔
آئی ایس اوکے سیکرٹری جنرل سرجیو موخیکا نے بتایا کہ عالمی بینک کی جانب سے معیارات کو 2025 کی رپورٹ کا مرکزی موضوع بنانا اس بات کی علامت ہے کہ بین الاقوامی معیارات اب پائیدار اور جامع ترقی کے لئے کلیدی حیثیت اختیار کر چکے ہیں، معیارات کی مکمل ترقیاتی صلاحیت تبھی حاصل کی جا سکتی ہے جب تمام ممالک ان کی تشکیل اور نفاذ میں شریک ہوں۔
عالمی بینک کی رپورٹ میں جاپان کو ایک کامیاب مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دوسری جنگِ عظیم کے بعد جاپان نے معیار کو اپنی صنعتی حکمتِ عملی کا مرکزی ستون بنایا جس کے نتیجے میں وہ کم معیار کی مصنوعات بنانے والے ملک سے عالمی سطح پر اعلیٰ معیار کی علامت بن گیا۔








