سیلابی پانی کو کارآمد بنا کر آبی تحفظ وماحولیاتی بحالی کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے،سیف الرحمان

لاہور۔11جنوری (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر سیف الرحمان نے کہا ہے کہ بہتر اور دانشمندانہ منصوبہ بندی کے ذریعے سیلابی پانی کو کارآمد بنا کر آبی تحفظ اور ماحولیاتی بحالی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ وہ اتوار کو یہاں سیلابی پانی کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ سیف الرحمان نے کہا کہ سیلابی پانی کو دلدلی علاقوں، متروک جھیلوں اور ختم ہوتے …

لاہور۔11جنوری (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر سیف الرحمان نے کہا ہے کہ بہتر اور دانشمندانہ منصوبہ بندی کے ذریعے سیلابی پانی کو کارآمد بنا کر آبی تحفظ اور ماحولیاتی بحالی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ وہ اتوار کو یہاں سیلابی پانی کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ سیف الرحمان نے کہا کہ سیلابی پانی کو دلدلی علاقوں، متروک جھیلوں اور ختم ہوتے زیرِ زمین آبی ذخائر کی طرف موڑ کر نہ صرف تباہی کو کم کیا جا سکتا ہے بلکہ مستقبل کے لیے پانی کے ذخائر بھی محفوظ بنائے جا سکتے ہیں۔

اسی طرح اضافی پانی کو بے قابو ہو کر دریائوں و شہری نالوں میں بہنے دینے کے بجائے اگر منظم انداز میں مخصوص علاقوں کی طرف منتقل کیا جائے تو سیلاب ایک خطرے کے بجائے ایک قیمتی وسیلہ بن سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے جامع سیلاب اور آبی انتظامی نظام، تاریخی جھیلوں ،قدرتی نشیبی علاقوں کی نقشہ سازی،پانی موڑنے والی نہروں اور ری چارج بیسنز میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

سیف الرحمان نے کہا کہ اس حکمتِ عملی سے ماحولیاتی اور معاشی دونوں سطحوں پر فوائد حاصل ہوں گے، دوبارہ آباد کیے گئے دلدلی علاقے حیاتیاتی تنوع میں اضافہ کرتے ہیں، ماہی گیری اور مویشیوں کی افزائش میں مدد دیتے ہیں اور مقامی لوگوں کے روزگار کو بہتر بناتے ہیں۔ اسی طرح زیرِ زمین پانی کی بحالی سے کسانوں کے لیے پانی نکالنے کے اخراجات کم اور خشک سالی کے مقابلے میں مزاحمت بڑھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ منظم ری چارج سسٹمز کے ذریعے سیلابی پانی کو ختم ہوتے زیرِ زمین آبی ذخائر میں منتقل کر کے پانی کی گرتی ہوئی سطح کو بحال کیا جا سکتا ہے۔