لاہور۔13جنوری (اے پی پی):لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے جے ایف-17تھنڈر لڑاکا طیاروں کی برآمدات میں بڑھتی ہوئی عالمی دلچسپی کو پاکستان کے لیے ایک انتہائی خوش آئند اور حوصلہ افزا پیش رفت قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش، سعودی عرب، آذربائیجان اور دیگر ممالک کی جانب سے جے ایف-17تھنڈر کی خریداری یا اس میں دلچسپی اس بات کا واضح ثبوت ہے …
دفاعی برآمدات سے قیمتی زرمبادلہ اور صنعتی ترقی کو فروغ ملے گا، صدر لاہور چیمبر

مزید خبریں
لاہور۔13جنوری (اے پی پی):لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمن سہگل نے جے ایف-17تھنڈر لڑاکا طیاروں کی برآمدات میں بڑھتی ہوئی عالمی دلچسپی کو پاکستان کے لیے ایک انتہائی خوش آئند اور حوصلہ افزا پیش رفت قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش، سعودی عرب، آذربائیجان اور دیگر ممالک کی جانب سے جے ایف-17تھنڈر کی خریداری یا اس میں دلچسپی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کی دفاعی صنعت بین الاقوامی سطح پر اعتماد حاصل کر چکی ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان ایئر فورس کی پیشہ ورانہ صلاحیت، آپریشنل کامیابیاں اور مقامی طور پر تیار کردہ جدید ٹیکنالوجی نے پاکستان کو دفاعی پیداوار کے میدان میں ایک مضبوط ملک کے طور پر متعارف کرایا ہے۔صدر لاہور چیمبر نے کہا کہ دفاعی برآمدات، خصوصا جے ایف-17جیسے ہائی ٹیک اور ویلیو ایڈڈ منصوبے، پاکستان کی معیشت کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان منصوبوں کے نتیجے میں نہ صرف اربوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، مقامی انجینئرنگ اور ایوی ایشن انڈسٹری کو فروغ ملے گا اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے عمل کو بھی تقویت ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ جے ایف-17تھنڈر کی برآمدات پاکستان کے صنعتی ڈھانچے کی مضبوطی کی علامت ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اب محض خام مال یا لو ویلیو مصنوعات تک محدود نہیں رہا بلکہ ہائی ٹیک اور اسٹریٹجک مصنوعات بھی عالمی منڈی میں پیش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس پیش رفت سے پاکستان کی عالمی ساکھ میں اضافہ ہوگا اور بیرونی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی تقویت ملے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ دفاعی پیداوار کے شعبے میں کامیابی دیگر صنعتی شعبوں کے لیے بھی ایک رول ماڈل بن سکتی ہے
،اگر حکومت، نجی شعبہ اور دفاعی ادارے باہمی تعاون کے ساتھ کام کریں تو انجینئرنگ، آٹوموبائل، الیکٹرانکس اور آئی ٹی جیسے شعبوں میں بھی برآمدی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ دفاعی اور ہائی ٹیک برآمدات کو قومی برآمدی حکمت عملی کا حصہ بنائے، پالیسیوں میں تسلسل یقینی بنائے اور برآمد کنندگان کو طویل المدتی سہولیات فراہم کرے تاکہ پاکستان آئی ایم ایف جیسے مالیاتی پروگراموں پر انحصار کم کر سکے اور پائیدار معاشی خودمختاری کی جانب بڑھ سکے۔








