طارق انجم اسلام آباد۔16جنوری (اے پی پی):پاکستان کے کارپوریٹ شعبے کو ماہر افرادی قوت کے لیے بڑھتی ہوئی مسابقت اور کارکردگی بہتر بنانے کے دباؤ کا سامنا ہے،ایسے میں ادارہ جاتی شفافیت اور انصاف اب پائیدار ترقی کے لیے ایک عملی اور ضروری عنصر کے طور پر دوبارہ توجہ حاصل کر رہا ہے۔پاکستان کے کارپوریٹ شعبے میں ملازمین کی مسلسل کارکردگی اور ادارے کے کام کے کلچر کی بات تو …
پاکستان کے کارپوریٹ شعبے میں ترقی کے لئے ادارہ جاتی شفافیت و انصاف بہت ضروری ہے ۔ ڈاکٹر عظمی اسماعیل

مزید خبریں
طارق انجم
اسلام آباد۔16جنوری (اے پی پی):پاکستان کے کارپوریٹ شعبے کو ماہر افرادی قوت کے لیے بڑھتی ہوئی مسابقت اور کارکردگی بہتر بنانے کے دباؤ کا سامنا ہے،ایسے میں ادارہ جاتی شفافیت اور انصاف اب پائیدار ترقی کے لیے ایک عملی اور ضروری عنصر کے طور پر دوبارہ توجہ حاصل کر رہا ہے۔پاکستان کے کارپوریٹ شعبے میں ملازمین کی مسلسل کارکردگی اور ادارے کے کام کے کلچر کی بات تو کی جاتی ہے لیکن اکثر دیکھا جاتا ہے کہ جب بات ترقی، کام کے بوجھ، کارکردگی کے جائزوں اور رخصت کی منظوری کی ہو توصورتحال یکسر مختلف ہوجاتی ہے ۔ماہرین کے مطابق ادارہ جاتی شفافیت اور انصاف سے مراد کام کی جگہ پر انصاف ہے: نتائج میں شفافیت (لوگوں کو کیا ملتا ہے)،طریقہ کار میں شفافیت (فیصلے کیسے کیے جاتے ہیں) اورسلوک میں انصاف (لوگوں سے کیسے بات کی جاتی ہے اور انہیں کس حد تک عزت دی جاتی ہے)۔ ان میں سے کسی ایک ستون میں بھی عدم توازن ہو تو اس کے اثرات فورا ظاہر ہوتے ہیں جن میں کام میں دلچسپی میں کمی، شکایات کرنا، خطرہ مول لینے سے گریز اور نئے خیالات پیش کرنے میں ہچکچاہٹ شامل ہے۔
لندن میں مقیم مینجمنٹ اور ایچ آر اسکالر اور لیکچرر ڈاکٹر عظمی اسماعیل کا کہنا ہے کہ ادارہ جاتی انصاف کو ایک سنجیدہ ایچ آر پالیسی ترجیح کے طور پر نہیں اپنایا جاتا اس وقت تک پاکستان کے کارپوریٹ شعبہ کو مستحکم پیداواری صلاحیت کے حصول میں مشکلات کا سامنا رہے گا ۔ ان کا کہنا ہے کہ آپ ان لوگوں سے اعلی کارکردگی کی توقع نہیں کر سکتے جو اداروں کے فیصلوں کے عمل پر اعتماد نہیں رکھتے۔ انصاف سب کو خوش کرنے کا نام نہیں بلکہ ایسے فیصلوں کا تقاضا کرتا ہے جو متوقع ہوں، جن کی وضاحت کی جا سکے اور جن میں احترام پر مبنی سلوک شامل ہو۔
ڈاکٹر عظمی اسماعیل کا نقطہ نظر پاکستان اور برطانیہ دونوں میں ان کے عملی تجربات سے قائم ہوا ہے ۔ پاکستان میں انہوں نے ٹیکسٹائل اور ٹیکنالوجی سمیت نجی شعبے کے اداروں میں ایچ آر کی حیثیت سے فرائض منصبی ادا کیے اور اعلی تعلیم میں مینجمنٹ پڑھائی۔ ان کا یقین ہے کہ جب اصول واضح نہ ہوں اور سب پر یکساں لاگو نہ کیے جائیں تو ملازمین کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے ۔ برطانیہ میں مینجمنٹ ایجوکیشن اور فلاحی نوعیت کے آپریشنز میں ان کے کام نے معیارات کا تعین ، نتائج کی نگرانی اور تعمیل سے متعلق تقاضوں کو پورا کرنے کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا ۔ ایسی عادات کی تشکیل پر زور دیا جو ایچ آر گورننس کو مضبوط بناتی ہیں اورمن مانے فیصلوں کے تاثر کو کم کرتی ہیں۔
ڈاکٹر عظمی اسماعیل کی تحقیقی توجہ عملی تجربے کے ساتھ ساتھ ایچ آر ایم کے طریقہ کار، ادارہ جاتی شفافیت و انصاف اور کام کی جگہ پر اختراعی رویوں پر مرکوز ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جدت کا انحصار اعتماد پرہے۔ جب ملازمین کو یقین ہو کہ کارکردگی کے جائزوں میں شفافیت ہے اور مواقع مسلسل اور منصفانہ انداز میں دیئے جارہے ہیں تو وہ بہتری کی تجاویز دینے، غیر موثر طریقوں کو چیلنج کرنے اور معلومات کے تبادلے میں زیادہ آمادہ دکھائی دیتے ہیں ۔پاکستانی کارپوریٹ اداروں میں ادارہ جاتی شفافیت اور انصاف بطور پالیسی کا مطلب کیا ہے؟ اس کا آغاز اس بات سے ہوتا ہے کہ اہم انسانی فیصلوں سے پہلے انصاف کو تین سادہ سوالات کے ذریعے پرکھا جائے۔پہلا نتائج: کیا یہ فیصلہ عام فہم زبان میں سمجھایا جا سکتا ہے یا یہ من مانا لگتا ہے؟دوسرا طریقہ کار: کیا فیصلے کے اصول پہلے سے طے کئے گئے تھے اور کیا ایک جیسے دو معاملات میں ایک ہی فیصلہ ہوتا؟تیسرا سلوک: کیا یہ پیغام عزت واحترام کے ساتھ، سامنے والے کی بات سن کر اور معقول وضاحت کے ساتھ دیا گیا ہے چاہے جواب نہیں ہی کیوں نہ ہو؟
ڈاکٹر عظمی اسماعیل ایک سادہ مگر اہم مسئلے کی نشاندہی کرتی ہیں: ادارے پالیسیاں تو بنا لیتے ہیں، لیکن ان پر یکساں عمل نہیں کرتے۔ جب کارکردگی جانچنے کے معیار ہر ٹیم میں مختلف ہوں، یا رائے صرف سال کے آخر میں دی جائے، تو نظام بے اثر ہو جاتا ہے۔ تربیت کے مواقع اگر سب کو برابر نہ ملیں تو دل میں رنجش پیدا ہوتی ہے۔ حتی کہ ریکارڈ کی کمی بھی مسئلہ بن جاتی ہے، کیونکہ ادھورا عمل ملازمین میں یہ احساس پھیلا دیتا ہے کہ ادارے میں انصاف نہیں ہے۔وقت کے ساتھ منصفانہ طریقے قابلِ پیمائش نتائج میں بھی نظر آتے ہیں۔ واضح کردار اور مستقل رائے مشغولیت بڑھاتے اور غیر ضروری تنازعات کم کرتے ہیں جبکہ شفاف عمل خصوصا نوجوان پیشہ ور افراد کو ادارے سے جوڑے رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
نصاب سازی اور تشخیص کے میدان میں ڈاکٹر عظمی اسماعیل کا تجربہ بھی یہی بتاتا ہے کہ واضح معیار نتائج بہتر بناتا ہے ۔ایک سبق جو کلاس روم سے لے کر کارپوریٹ ٹیموں تک یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔پاکستان کا کارپوریٹ شعبہ جدید خطوط پر استوارہونے اور علاقائی سطح پر مقابلہ کرنے کے دبائو کا شکار ہے ، ایسے میں ادارہ جاتی شفافیت اور انصاف ایک ایچ آر تصور سے نکل کر قیادت کیلئے ایک معیار بن گیا ہے ۔ وہ ادارے تیزی سے آگے بڑھیں گے جو واضح معیار، یکساں اطلاق اور باعزت بات چیت کے ذریعے انصاف کو عملی جامہ پہنائیں گے ۔ ڈاکٹر عظمی اسماعیل کا کہنا ہے کہ پالیسیاں تب ہی موثر ہوتی ہیں جب وہ لوگوں کیلئے ایک جیسی ہوں ۔ یہی مستقل مزاجی اعتماد پیدا کرتی ہے اور اعتماد ہی بہتر کارکردگی کی بنیاد بنتا ہے۔








