زراعت پاکستان کی تجارت کا ایک اہم جزو ہے، گزشتہ سال زرعی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا، برآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 3 سے 3.5 ارب ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جام کمال خان

اسلام آباد۔16جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ زراعت پاکستان کی تجارت کا ایک اہم جزو ہے اور گزشتہ سال زرعی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں برآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 3 سے 3.5 ارب ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔جمعہ کو اراکین قومی اسمبلی عالیہ کامران، نعیمہ کشور خان، شاہدہ بیگم اور محمد عثمان بادینی کی …

اسلام آباد۔16جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ زراعت پاکستان کی تجارت کا ایک اہم جزو ہے اور گزشتہ سال زرعی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں برآمدات میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 3 سے 3.5 ارب ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔جمعہ کو اراکین قومی اسمبلی عالیہ کامران، نعیمہ کشور خان، شاہدہ بیگم اور محمد عثمان بادینی کی جانب سے پیش کئے گئے توجہ دلائو نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وزیر تجارت نے کہا کہ زرعی برآمدات میں اضافہ عالمی منڈیوں میں سازگار حالات اور پاکستانی برآمد کنندگان کے بروقت ردعمل کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بھارت کی تین سے چار برس تک بین الاقوامی منڈیوں سے عدم موجودگی نے پاکستانی تاجروں کے لیے مواقع پیدا کیے جن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے برآمدات میں تقریباً 1.5 سے 2 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔جام کمال کے مطابق مکئی اور تل کے بیجوں کی برآمدات سے ہی 700 سے 800 ملین ڈالر کی اضافی آمدن حاصل ہوئی جبکہ مجموعی طور پر زرعی شعبے کی برآمدات میں 2.5 سے 3 ارب ڈالر کا اضافہ دیکھنے میں آیا تاہم وزیر تجارت نے کہا کہ موجودہ سیزن میں چیلنجز درپیش ہیں کیونکہ بھارت دوبارہ عالمی منڈی میں داخل ہو چکا ہے اور وہ اپنی زرعی مصنوعات کو کم قیمتوں پر 4 سے 5 ارب ڈالر کی بھاری سبسڈی کے ساتھ برآمد کر رہا ہے۔

اس صورتحال نے خاص طور پر نان باسمتی (چھوٹے دانے) چاول کی برآمدات کو متاثر کیا ہے، اگرچہ باسمتی اور خصوصی اقسام میں پاکستان کی کچھ گنجائش برقرار ہے۔انہوں نے کہا کہ مکئی، تل اور دیگر زرعی اجناس میں بھی سخت مقابلے کے باعث برآمدات میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔زرعی شعبے کے چیلنجز کے باوجود جام کمال نے بتایا کہ گزشتہ ایک سے ڈیڑھ سال کے دوران ٹیکسٹائل، سروسز اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت دیگر شعبوں میں استحکام اور بتدریج ترقی دیکھنے میں آئی ہے جو مجموعی معاشی بہتری کی عکاس ہے۔

وزیرِ تجارت نے صنعتکاروں، تاجروں اور کاروباری طبقے کو درپیش مسائل خصوصاً ٹیکس سے متعلق مشکلات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان میں سے بعض امور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ کیے گئے معاہدوں سے جڑے ہیں جن میں بار بار تبدیلی ممکن نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کاروباری اعتماد کے لیے پالیسیوں میں تسلسل ضروری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران نجی شعبے کی قیادت میں تقریباً آٹھ ورکنگ گروپس تشکیل دیئے ہیں جو مختلف شعبوں میں اصلاحات کی تجاویز پر کام کر رہے ہیں تاکہ عام شہریوں اور کاروباری طبقے کو درپیش مسائل حل کیے جا سکیں۔برآمدات کے اہداف پر بات کرتے ہوئے جام کمال نے کہا کہ حکومت نے 60 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف مقرر کیا ہے تاہم ساختی مسائل کے باعث اس ہدف کا حصول ایک چیلنج ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بجلی کے نرخ کم کرنے، جی ایس ٹی سے متعلق مسائل کے حل، تجارتی سہولت کاری، تجارتی سفارتکاری کے فروغ اور عالمی سطح پر پاکستانی برانڈنگ اور ثقافت کے فروغ پر بیک وقت کام کر رہی ہے۔وزیر تجارت نے توجہ دلائو نوٹس پیش کرنے والے اراکین کو قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے اجلاس میں تفصیلی بریفنگ اور مکمل وضاحت کی یقین دہانی کرائی۔بعد ازاں توجہ دلائو نوٹس کو قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے سپرد کر دیا گیا۔