خاران واقعہ،12دہشتگرد ہلاک ،بلوچستان میں پاکستان کا نظریہ مضبوط اور روشن ہے، انسانی جان کی اہمیت ہر چیز سے بڑھ کر ہے،وزیراعلیٰ بلوچستان

کوئٹہ۔ 16 جنوری (اے پی پی):وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ خاران واقعہ میں ملوث دہشتگردوں کا کوئی نظریہ نہیں بلکہ ان کا مقصد عام بلوچوں کو لوٹنا تھاجن کے پیسے بینکوں میں جمع تھے، بلوچستان میں دہشتگردی کے خلاف ریاستی رِٹ موثر انداز میں قائم ہے، اگست 2025 کے بعد سے دہشتگردی کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے اور بلوچستان کی کوئی قومی شاہراہ سات …

کوئٹہ۔ 16 جنوری (اے پی پی):وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ خاران واقعہ میں ملوث دہشتگردوں کا کوئی نظریہ نہیں بلکہ ان کا مقصد عام بلوچوں کو لوٹنا تھاجن کے پیسے بینکوں میں جمع تھے، بلوچستان میں دہشتگردی کے خلاف ریاستی رِٹ موثر انداز میں قائم ہے، اگست 2025 کے بعد سے دہشتگردی کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے اور بلوچستان کی کوئی قومی شاہراہ سات منٹ کے لیے بھی بند نہیں ہوئی، سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور بھرپور ردعمل دے کر دہشتگردوں کے عزائم ناکام بنائے اور آئندہ بھی ہر دہشتگردانہ کارروائی کا سخت جواب دیا جائے گا، بلوچستان میں پاکستان کا نظریہ مضبوط اور روشن ہے، انسانی جان کی اہمیت ہر چیز سے بڑھ کر ہے اور ریاست دشمن عناصر کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا سلسلہ بلا تعطل جاری رہے گا۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعہ کو وزیراعلی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔پریس کانفرنس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان اور آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر بھی موجود تھے۔ میرسرفرازبگٹی نے کہا کہ خاران واقعہ میں 15 سے 20 دہشتگرد مختلف راستوں سے شہر میں داخل ہوئے اور ان کا نشانہ بینک تھے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ وہ کون سا نظریہ ہے جس کے نام پر عام بلوچوں کو دہشت میں مبتلا کیا جا رہا ہے، جبکہ دہشتگرد خود عام بلوچوں کے پیسے لوٹنے بینکوں کا رخ کر رہے تھے۔وزیراعلی نے فرنٹیئر کور بلوچستان کے بروقت اور جرات مندانہ ردعمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ اطلاع ملتے ہی ونگ کمانڈر جائے وقوعہ پر پہنچے اور خود قیادت کرتے ہوئے زخمی ہوئے، مگر آخری دم تک مقابلہ کرتے رہے۔

انہوں نے بتایا کہ میجر آصف بھی کیو آر ایف کی قیادت کرتے ہوئے زخمی ہوئے، لیکن زخمی ہونے کے باوجود بہادری سے لڑتے رہے۔میر سرفراز بگٹی کے مطابق تین مختلف مقامات پر دہشتگردوں کے ساتھ مقابلے ہوئے، جن میں چار دہشتگرد موقع پر ہلاک کیے گئے جبکہ مقامی انٹیلی جنس کی مدد سے مزید آٹھ دہشتگردوں کو مارا گیا۔ یوں مجموعی طور پر 12 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کی آڑ میں نوجوانوں اور طالبات کو گمراہ کیا جا رہا ہے، مگر خاران واقعہ نے واضح کر دیا کہ یہ گروہ اب دیگر مجرمانہ سرگرمیوں کی طرف جا چکے ہیں۔وزیراعلی نے کہا کہ واقعہ میں ایک عام شہری زخمی ہوا جسے سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا اور اس کا مفت علاج جاری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دہشتگرد چند منٹوں میں بینکوں سے 34 لاکھ روپے لوٹ کر فرار ہوئے، جس کے بعد حکومت نے بینکوں کی سیکیورٹی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس ضمن میں اسٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام سیکیورٹی فورسز اور شہدا کی قربانیوں کے شکر گزار ہیں، جنہوں نے وطن اور عوام کے تحفظ کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ وزیراعلی نے واضح کیا کہ ریسپانس میکنزم اب عوام کے سامنے ہے، جب بھی دہشتگرد کارروائی کریں گے انہیں سخت جواب دیا جائے گا اور کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔میر سرفراز بگٹی نے کہاکہ سال 2025 میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 900 ہارڈ کور دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا، جبکہ ٹیکنیکل اور ہیومن انٹیلی جنس کے ذریعے دہشتگردی کا موثر مقابلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگست 2025 کے بعد سے دہشتگردی کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے اور بلوچستان کی کوئی قومی شاہراہ سات منٹ کے لیے بھی بند نہیں ہوئی۔صحافیوں کے سوالات کے جواب میں وزیراعلی نے کہا کہ قانونی معاملات کی قیادت سیاسی حکومتوں کو کرنا ہوگی۔ صوبائی اور وفاقی حکومت نے قانون سازی کے ذریعے سیکیورٹی فورسز کو اختیارات دیئے ہیں اور طلبا و طالبات کے ساتھ 55 ہزار سے زائد سرگرمیاں کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے واپسی کا راستہ کھلا رکھا ہے، لیکن جو لوگ قتل و غارت پر تلے ہوں گے ان کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا۔

وزیراعلی نے کہا کہ ان کی حکومت میں تعیناتیاں سو فیصد میرٹ پر ہو رہی ہیں، بلوچستان کانسٹیبلری میں بھی شفاف بھرتیاں کی گئی ہیں، جبکہ گورننس، ترقی اور سیکیورٹی کو ایک ساتھ آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو پیغام دیا کہ تشدد کے ذریعے پاکستان کو توڑا نہیں جا سکتا اور بلوچستان کے حقوق صرف پارلیمنٹ کے ذریعے حاصل ہو سکتے ہیں۔آخر میں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں پاکستان کا نظریہ مضبوط اور روشن ہے، انسانی جان کی اہمیت ہر چیز سے بڑھ کر ہے اور ریاست دشمن عناصر کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا سلسلہ بلا تعطل جاری رہے گا۔