وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی برلن میں منعقدہ گلوبل فورم فار فوڈ اینڈ ایگری کلچر 2026 میں شرکت

اسلام آباد۔17جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے برلن میں منعقدہ گلوبل فورم فار فوڈ اینڈ ایگری کلچر (جی ایف ایف اے)2026 میں پاکستان کی نمائندگی کی جہاں انہوں نے موسمیاتی تبدیلی اور عالمی سطح پر پانی کی بڑھتی ہوئی قلت کے تناظر میں پانی کی لچک، پائیدار زراعت اور غذائی تحفظ سے متعلق پاکستان کی ترجیحات کو اجاگر کیا۔فورم کا موضوع …

اسلام آباد۔17جنوری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے برلن میں منعقدہ گلوبل فورم فار فوڈ اینڈ ایگری کلچر (جی ایف ایف اے)2026 میں پاکستان کی نمائندگی کی جہاں انہوں نے موسمیاتی تبدیلی اور عالمی سطح پر پانی کی بڑھتی ہوئی قلت کے تناظر میں پانی کی لچک، پائیدار زراعت اور غذائی تحفظ سے متعلق پاکستان کی ترجیحات کو اجاگر کیا۔فورم کا موضوع ’’پانی، غذا، ہمارا مستقبل‘‘ تھا ۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے وادیٔ سندھ کی تہذیب سے جڑی پاکستان کی تاریخی وابستگی کا حوالہ دیا اور اس امر پر زور دیا کہ آج پاکستان کو بے مثال چیلنجز کا سامنا ہے۔ ہفتہ کو وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے بار بار آنے والے سیلاب، طویل خشک سالی اور شدید گرمی کی لہروں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ان موسمیاتی اثرات نے زرعی پیداوار، دیہی روزگار اور قومی غذائی تحفظ کو شدید متاثر کیا ہے۔

رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان کا غذائی نظام بڑی حد تک دریائے سندھ کے طاس پر منحصر ہے جو 24 کروڑ سے زائد افراد کے لیے زراعت، صنعت اور ماحولیاتی نظام کو سہارا دیتا ہے۔ انہوں نے حالیہ تباہ کن سیلابوں اور طویل خشک ادوار کو اس نظام کی کمزوری کی واضح مثال قرار دیتے ہوئے پانی کی لچک کو ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے اس امر کا اعادہ کیا کہ پانی کی سلامتی کے بغیر غذائی تحفظ ممکن نہیں اور مشترکہ آبی وسائل پر تعاون امن اور استحکام کے لیے لازم ہے۔

وفاقی وزیر نے پاکستان کی پالیسی سمت واضح کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت زرعی شعبے میں پانی کی پیداواریت بڑھانے کے لیے مؤثر آبپاشی نظام، درست زمین ہمواری، کلائمٹ اسمارٹ زرعی طریقوں اور خشک سالی و گرمی برداشت کرنے والی بیج اقسام کے فروغ پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے ماحولیاتی نظام کے تحفظ کی اہمیت پر بھی زور دیا، جن میں مٹی کی بہتری، واٹرشیڈ بحالی، ایگرو فاریسٹری، دلدلی علاقوں کی بحالی اور زیرِ زمین پانی کی ری چارج شامل ہیں۔رانا تنویر حسین نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان مناسب زرعی اور نیم شہری استعمال کے لیے صاف شدہ گندے پانی کے محفوظ اور سائنسی بنیادوں پر دوبارہ استعمال کو فروغ دے رہی ہے۔

انہوں نے پائیدار بلیو بایو اکانومی کی صلاحیت کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ ماہی گیری، آبی زراعت اور ساحلی ویلیو چینز غذائیت، معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع خصوصاً دریا کنارے اور ساحلی علاقوں میں نوجوانوں اور خواتین کے لیے فراہم کر سکتی ہیں، پانی کے نظم و نسق اور مساوات کے حوالے سے وفاقی وزیر نے مربوط اور جامع منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا تاکہ زراعت، شہروں، صنعت، توانائی اور ماحولیاتی نظام کے درمیان مسابقتی ضروریات میں توازن قائم کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ منصفانہ، قابلِ پیش گوئی اور حقوق پر مبنی پانی کی تقسیم چھوٹے کسانوں کے تحفظ، شکایات میں کمی اور سماجی و معاشی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔بین الاقوامی اور سرحد پار آبی امور پر بات کرتے ہوئے رانا تنویر حسین نے بین الاقوامی آبی قوانین کی پاسداری کے لئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو علاقائی آبی استحکام کا بنیادی ستون قرار دیا۔ انہوں نے اپریل 2025 میں بھارت کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کے اعلان پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے لیے زندگی کی حیثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان معاہدے میں موجود تنازعات کے حل کے تمام طریقہ کار، بشمول کورٹ آف آربیٹریشن اور نیوٹرل ایکسپرٹ، کے ذریعے اپنا مؤقف پیش کر رہا ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ معاہدے کی رو اور متن کے مطابق مکمل عملدرآمد کی حمایت کی جائے۔فورم کے موقع پر وفاقی وزیر نے عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل مسٹر ژاں میری پوگام سے بھی ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور بالخصوص زراعت اور غذائی نظام سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

یہ ملاقات زرعی شعبے سے متعلق تجارتی اور ترقیاتی امور پر پاکستان کی کثیر الجہتی اداروں کے ساتھ مسلسل شمولیت کی عکاس تھی۔اس کے علاوہ رانا تنویر حسین نے ماہرین کے پینل’’پائیدار آبپاشی کے لیے پانی، توانائی، غذا اور ماحول کے باہمی ربط پر مبنی نکتہ نظر‘‘ میں بطور پینلسٹ شرکت کی۔ انہوں نے پانی کی دستیابی، توانائی کے استعمال، ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی کے باہم جڑے چیلنجز پر اظہارِ خیال کیا اور شرکاء کے سوالات کے جواب دیئے۔

انہوں نے پانی کے تحفظ، زرعی پیداوار میں اضافے اور غذائی تحفظ کے فروغ کے لیے ماحول دوست ٹیکنالوجیز کے نفاذ کے حوالے سے حکومت پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔جی ایف ایف اے 2026 میں اپنی شرکت کے اختتام پر وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان عالمی شراکت داروں، تحقیقی اداروں، نجی شعبے اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر پانی کی لچک، کلائمٹ اسمارٹ زراعت اور جامع غذائی نظام کے فروغ کے لیے کام کرتا رہے گا اور پانی کو خطرے کے بجائے پائیدار ترقی اور امن کی بنیاد بنایا جائے گا۔