اسلام آباد۔18جنوری (اے پی پی):وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر نے کہا ہے کہ حکومت شواہد پر مبنی اور قابل عمل پالیسی سازی کے عزم پر کاربند ہے، ہمیں ان بچوں تک پہنچنے کے لیے مزید مربوط نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے جو مکمل طور پر نظر انداز، پسماندہ اور شناخت سے محروم رہ گئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان انسٹی …
تحقیق کو عملی پالیسی سے جوڑنا ہوگا، نظر انداز طبقات تک رسائی حکومت کی ترجیح ہے، وزیر مملکت وجیہہ قمر

مزید خبریں
اسلام آباد۔18جنوری (اے پی پی):وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر نے کہا ہے کہ حکومت شواہد پر مبنی اور قابل عمل پالیسی سازی کے عزم پر کاربند ہے، ہمیں ان بچوں تک پہنچنے کے لیے مزید مربوط نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے جو مکمل طور پر نظر انداز، پسماندہ اور شناخت سے محروم رہ گئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن (پی آئی ای)، لمز اور پاک الائنس فار میتھس اینڈ سائنس کے اشتراک سے منعقدہ پالیسی مکالمے بعنوان "دی ایکویٹی ایکویشن: تعلیمی منصوبہ بندی کے لیے جدید ڈیٹا سسٹمز” سے خطاب کے دوران کیا۔
اس تقریب کا مقصد پاکستان میں پہلی بار ’’پریڈیکٹیو ماڈلنگ‘‘ جیسے جدید آلات کا تعارف کروانا تھا تاکہ ملک کے ڈھائی کروڑ اسکولوں سے باہر بچوں کے مسئلے کو حل کیا جا سکے۔ مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ پر مبنی یہ منصوبہ اس بات کی پیش گوئی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے کہ معاشی اور سماجی رکاوٹوں کے دوران گھریلو سطح پر تعلیم کے حوالے سے کیا فیصلے کیے جاتے ہیں۔وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر نے کہا کہ تحقیق جب تک عملی مسائل سے نہ جڑے بے فائدہ ہے اور آئیڈیاز جب تک عمل درآمد کے سانچے میں نہ ڈھلیں بے معنی ہیں۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد شاہد سرویا نے کہا کہ اسکولوں سے باہر بچوں کی بڑی تعداد ایک تعلیمی ایمرجنسی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ جدید ٹیکنالوجی حال ہی میں منظور شدہ ‘نیشنل ایجوکیشن ایکشن پلان’ پر عملدرآمد میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ اس نظام کے ذریعے پالیسی ساز وسائل خرچ کرنے سے پہلے ہی یہ جان سکیں گے کہ ٹرانسپورٹ سبسڈی یا اسکولوں کی تعمیر میں سے کون سا اقدام زیادہ فائدہ مند ثابت ہوگا۔تقریب میں لمز کے ماہرین ڈاکٹر فرح ندیم، ڈاکٹر فیصل باری اور ڈاکٹر زبیر خالد نے ‘ ماڈل’ کا ڈیش بورڈ پیش کیا، جس نے واضح کیا کہ کس طرح ڈیٹا کے ذریعے اسکول نہ جانے کی وجوہات (جیسے اخراجات، تحفظ اور خاندانی حرکیات) کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔
سیشن کے اختتام پر تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان طے پایا کہ سرکاری ادارے ان جدید طریقہ کار کو پائلٹ پروجیکٹس کے طور پر اپنائیں گے اور حکومتی ڈیٹا یونٹس کی صلاحیت سازی کے لیے مشترکہ پروگرام تشکیل دیے جائیں گے۔ برطانوی ادارے ایف سی ڈی او کے تعاون سے شروع کیا گیا یہ منصوبہ پاکستان کی تعلیمی منصوبہ بندی میں ایک انقلابی تبدیلی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔








