اسلام آباد۔18جنوری (اے پی پی):ہیلتھ سروسز اکیڈمی (ایچ ایس اے) نے وفاقی دارالحکومت کو مستقبل کی ممکنہ وبائی بیماریوں اور ہیلتھ ایمرجنسی سے بچانے کے لیے ایک بڑا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ ٹیکنیکل پارٹنر ’’پاک ون ہیلتھ الائنس‘‘ کے تعاون سے منعقدہ دو روزہ خصوصی تربیتی ورکشاپ کا دوسرا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہو گیا ہے، جس کے بعد اسلام آباد میں تربیت یافتہ ’’ون ہیلتھ‘‘ پروفیشنلز کی …
اسلام آباد کو وبائی امراض سے محفوظ بنانے کے لیے ’’ون ہیلتھ‘‘ فورس تیار، خصوصی تربیتی ورکشاپ کا دوسرا مرحلہ کامیابی سے مکمل

مزید خبریں
اسلام آباد۔18جنوری (اے پی پی):ہیلتھ سروسز اکیڈمی (ایچ ایس اے) نے وفاقی دارالحکومت کو مستقبل کی ممکنہ وبائی بیماریوں اور ہیلتھ ایمرجنسی سے بچانے کے لیے ایک بڑا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ ٹیکنیکل پارٹنر ’’پاک ون ہیلتھ الائنس‘‘ کے تعاون سے منعقدہ دو روزہ خصوصی تربیتی ورکشاپ کا دوسرا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہو گیا ہے، جس کے بعد اسلام آباد میں تربیت یافتہ ’’ون ہیلتھ‘‘ پروفیشنلز کی مجموعی تعداد 67 ہو گئی ہے۔
یہ منصوبہ وفاقی حکومت کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت وبائی امراض سے نمٹنے کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ دوسرے مرحلے میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس (ڈی ایچ کیو) اسلام آباد، وفاقی دارالحکومت کے سرکاری و نجی ہسپتالوں کے میڈیکل افسران، سینیٹری انسپکٹرز، الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز اور دیگر فرنٹ لائن ورکرز سمیت 32 ماہرین کو تربیت دی گئی۔ اس سے قبل پہلے مرحلے میں 35 پروفیشنلز اپنی تربیت مکمل کر چکے ہیں۔
اس پروگرام کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں انسانی صحت کے ساتھ ساتھ جانوروں کی بیماریوں اور ماحولیاتی اثرات کے ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی وائرس کا سراغ اس کے پھیلاؤ سے پہلے ہی لگایا جا سکے۔مقامی ہوٹل میں منعقدہ ورکشاپ کے دوران ماہرین نے شرکاء کو وبائی امراض کی روک تھام (آئی پی سی )، متعدی بیماریوں کے سائنسی تجزیے ، فوری ردعمل دینے والی ٹیموں کی تشکیل اور انٹیگریٹڈ سرویلنس سسٹم پر عملی تربیت دی۔
شرکاء کو سکھایا گیا کہ کس طرح انسانی اور حیوانی صحت کے درمیان معلومات کے تبادلے کے ذریعے کسی بھی آؤٹ بریک کو قومی بحران بننے سے روکا جا سکتا ہے۔اختتامی سیشن میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ یہ تربیت یافتہ افرادی قوت اسلام آباد کو پاکستان کا پہلا ‘ماڈل ڈسٹرکٹ برائے پینڈیمک پریپیرڈنیس’ بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
یہ اقدام کورونا وائرس (COVID-19) جیسے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک پائیدار اور مربوط نظام کی تشکیل کی جانب اہم قدم ہے۔ ورکشاپ میں ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے اعلیٰ حکام، پاک ون ہیلتھ الائنس کے ماہرین اور وزارت صحت کے نمائندوں نے شرکت کی۔ تربیت پانے والے نمایاں افسران نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ حاصل کردہ مہارتوں کو نچلی سطح پر نافذ کر کے شہریوں کی زندگیوں کو محفوظ بنائیں گے۔








