اسلام آباد۔18جنوری (اے پی پی):وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے ملک میں خوراک اور زرعی گورننس میں شفافیت، ڈیجیٹل اور عوام کو جوابدہ بنانے کے لیے جامع اصلاحات کے نفاذ کا آغاز کر دیا ہے،اصلاحات کا مقصد بدعنوانی میں کمی، صوابدیدی اختیارات کو محدود کرنا اور درآمد و برآمدکا تحفظ ہے۔وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے مطابق وزارت کی جانب سے 31 میں سے 22 رجسٹریشنز ، لائسنسز، …
ملک میں خوراک اور زرعی گورننس میں شفافیت، جوابدہ بنانے کے لیے جامع اصلاحات کا نفاذ،اصلاحات کا مقصد بدعنوانی ، صوابدیدی اختیارات میں کمی اور درآمد و برآمدکا تحفظ ہے،وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق

مزید خبریں
اسلام آباد۔18جنوری (اے پی پی):وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے ملک میں خوراک اور زرعی گورننس میں شفافیت، ڈیجیٹل اور عوام کو جوابدہ بنانے کے لیے جامع اصلاحات کے نفاذ کا آغاز کر دیا ہے،اصلاحات کا مقصد بدعنوانی میں کمی، صوابدیدی اختیارات کو محدود کرنا اور درآمد و برآمدکا تحفظ ہے۔وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے مطابق وزارت کی جانب سے 31 میں سے 22 رجسٹریشنز ، لائسنسز، سرٹیفکیٹس اور دیگر اجازت ناموں کو مکمل طور پر خودکار کر دیا گیا ہے۔ڈیجیٹلائزیشن نباتات، حیوانات اور بیجوں سے متعلق وزارت سے منسلک چھ محکموں میں نافذ کی گئی ہے۔
وزارت غذائی تحفظ کے مطابق اصلاحات سے انسانی مداخلت کم ، ٹریس ایبلٹی بہتر اور نظام میں خامیاں کم ہو گئیں۔وفاقی وزیرِ غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے قواعد پر مبنی نظام، قابلِ تصدیق فیصلوں اور بین الاداراتی ہم آہنگی پر خصوصی توجہ دی ہے،اصلاحات کے تحت ڈیپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن کو جدید بنایا گیا جبکہ لیبارٹری کی استعداد بڑھائی گئی، آپریشنل کنٹرول سخت کیا گیا اور بین الاقوامی فائیٹو سینیٹری معیارات سے ہم آہنگی یقینی بنائی گئی۔مزید برآں ڈیپارٹمنٹ میں اصلاحات کا مقصد حیاتیاتی تحفظ مضبوط بنانا اور پاکستان کی برآمدی ساکھ برقرار رکھنا تھا۔
وزارت نے میتھائل برومائیڈ سے متعلق درآمدی شرائط کو سائنسی بنیادوں پر بہتر بنایا ہے ان اقدامات سے میتھائل برومائڈ کے درآمد کنندگان کے اخراجات میں کمی آئی ہے۔اس اقدام سے کپاس، اناج، دالوں اور دیگر اجناس کے فی کنٹینر تقریباً30 ہزار سے40 ہزار روپے تک کی بچت ہوئی ہے۔ وزارت غذائی تحفظ کے مطابق میتھائل برومائڈ سے متعلق ایک معاملہ میں مشکوک درآمدی طریقہ کار کی نشاندہی اندرونی جانچ اور تھرڈ پارٹی تصدیق کے ذریعے کی گئی،متعلقہ کمپنی کا لائسنس معطل کیا گیا اور پاکستان کسٹمز کے ساتھ مل کر تقریباً 10 لاکھ ڈالر مالیت کی چار کھیپیں بندرگاہ پر کلیئرنس سے پہلے روک لی گئیں۔
وزارت کی جانب سے ذمہ دار افراد کے خلاف تادیبی کارروائی بھی شروع کی گئی۔اسی طرح برآمدی معیار کے تحفظ کے لیے وزارت نے سینیٹری اور فائیٹو سینیٹری خلاف ورزیوں پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی،سخت نگرانی اور ٹریس ایبلٹی نظام کے باعث ناروے بھیجی جانے والی 6.2 میٹرک ٹن آم کی 3 کھیپ ضبط کی گئیں۔ناروے بھجوائی جانے والی کھیپ لازمی شرائط پوری کیے بغیر بھیجنے کی کوشش کی گئی تھی۔خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانے عائد کیے گئے اور انہیں مخصوص مدت کے لیے برآمد سے روکا گیا۔
گندم کے شعبے میں معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کو مضبوط بنایا گیا،گندم کے شعبے میں دستاویزات کی تصدیق بہتر کی گئی اور صوبائی ڈیٹا شیئرنگ کے ذریعے نگرانی بڑھائی گئی،اہم چیک پوسٹس پر افسران تعینات کیے گئے ہیں تاکہ گندم کی جعلی کھیپوں کی نقل و حرکت روکی جا سکے۔اصلاحات کے نفاذ سے بیج کے شعبے میں جعلی اور غیر مصدقہ بیج کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کیا گیا ہے۔وزارت غذائی تحفظ کے اداروں کی طرف سے 392 کمپنیاں جعلی بیج فروخت کرنے پر بلیک لسٹ کی جا چکی ہیں۔نیشنل سیڈ ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام پر پیش رفت جاری ہے۔
وزارت کارکردگی سے مشروط لائسنسنگ متعارف کرا رہی ہے تاکہ ضوابط کی پابندی یقینی بنائی جا سکے۔مزید یہ کہ چینی کے شعبے کی نگرانی بہتر بنانے کے لیے لاگت کا جائزہ، ذخیرہ اندوزی کے خلاف مشترکہ کارروائی اور سپلائی بڑھانے کے لیے درآمدات جیسے اقدامات کیے گئے،وزارت چینی کے شعبے کی جزوی ڈی ریگولیشن پر بھی غور کر رہی ہے۔چھوٹے کسانوں اور کم آمدنی والے صارفین کے تحفظ کے لیے حفاظتی اقدامات برقرار رکھے جائیں گے۔اصلاحی حکمتِ عملی کا بنیادی اصول بدعنوانی مشکل کرنا اور تادیبی کارروائی آسان بنانا ہے۔اصلاحات خوراک، کسانوں کے حقوق کے تحفظ، برآمدی ساکھ بہتر بنانے اور گورننس شفاف بنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔








