معروف افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کی برسی منائی گئی

اسلام آباد۔18جنوری (اے پی پی):اردو کے معروف افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کی برسی اتوار 18 جنوری کو منائی گئی۔ سعادت حسن منٹو 11 مئی 1912ء کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے۔ سعادت حسن منٹو کے والد غلام حسن منٹو نے بطور جج فرائض سرانجام دیئے۔ وہ ابتدا ہی سے سکول کی تعلیم کی طرف مائل نہیں تھے اور ان کی ابتدائی تعلیم گھر میں ہوئی جس کے بعد 1921ء میں …

اسلام آباد۔18جنوری (اے پی پی):اردو کے معروف افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کی برسی اتوار 18 جنوری کو منائی گئی۔ سعادت حسن منٹو 11 مئی 1912ء کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے۔ سعادت حسن منٹو کے والد غلام حسن منٹو نے بطور جج فرائض سرانجام دیئے۔ وہ ابتدا ہی سے سکول کی تعلیم کی طرف مائل نہیں تھے اور ان کی ابتدائی تعلیم گھر میں ہوئی جس کے بعد 1921ء میں ا نہیں ایم اے او مڈل سکول میں چوتھی جماعت میں داخل کرایا گيا۔ ان کا تعلیمی کریئر حوصلہ افزا نہیں تھا،میٹرک کے امتحان میں تین مرتبہ فیل ہونے کے بعد انھوں نے 1931میں یہ امتحان پاس کیا اور ہندو سبھا کالج میں ایف اے میں داخلہ لیا لیکن اسے چھوڑ کر ایم اے او کالج میں سال دوم میں داخلہ لے لیا-

انھوں نے انسانی نفسیات کو اپنا موضوع بنایا۔ پاکستان بننے کے بعد انھوں نے بہترین افسانے تخلیق کئے۔سعادت حسن منٹو ایک صاحب اسلوب نثر نگار تھے جو اردو ادب میں بے مثال حیثیت کے مالک ہیں۔ منٹو نے اردو افسانہ کو ایک نئی راہ دکھائی اور اردو افسانے میں یہ ایک بہت بڑی موضوعاتی تبدیلی روشناس کرائی۔ ان کے افسانے محض واقعاتی نہیں ہیں بلکہ ان میں تیسری دنیا کے پس ماندہ معاشرے کے تضادات کی داستان موجود ہے۔سعادت حسن منٹو کی سوانح حیات پر کئی فلمیں بھی بنائی گئیں جن میں پاکستانی اور بھارتی فلمیں شامل ہیں۔

سعادت حسن منٹو کے افسانوی مجموعوں میں دھواں،منٹو کے افسانے،نمرود کی خدائی،برقعے،پھندے،شکاری عورتیں،سرکنڈوں کے پیچھے،گنجے فرشتے،بادشاہت کا خاتمہ،شیطان،اوپر نیچے درمیان میں،نیلی رگیں،بغیر اجازت،رتی ماشہ تولہ،یزید اور جنازے وغیرہ شامل ہیں۔ سعادت حسن منٹو کی زندگی پر متعدد جرائد اور رسائل نے اپنے خاص نمبع بھی شائع کئے جن میں نقوش ، افکار ، شاعر ،گل خنداں ، پگڈنڈی ،نقش ، ادبی ،قافلہ ،شعور اور حرفِ جعفر شامل ہیں۔ مزید برآن ان پر کئی کتب بھی لکھی گئیں۔

حکومت کی جانب سے 2013ء میں منٹو کو نشان امتیاز عطاء کیا گیا جبکہ ان کی 50ویں برسی پر حکومتِ پاکستان نے ان کی یاد میں 5 روپے مالیت کا ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اردو ادب کا درخشاں ستارہ اور افسانہ کو نئی جہت دینے والا ترقی پسند ادیب سعادت حسن منٹو 18 جنوری 1955 کو لاہور میں انتقال کر گیا اور میانی صاحب میں مدفون ہیں۔ سعادت حسن منٹو کی برسی کے موقع پر علمی و ادبی حلقوں کی جانب سے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں بھر پور انداز مین خراج تحسین پیش کیا گیا۔