معروف ادیب، افسانہ نگار اور محقق غلام ربانی آگرو کی برسی منائی گئی

اسلام آباد۔18جنوری (اے پی پی):سندھی اور اردو کے معروف ادیب، افسانہ نگار اور محقق غلام ربانی آگرو کی برسی اتوار 18 جنوری کو منائی گئی۔ انہوں نے تصنیف و تالیف کے علاوہ ملک کے کئی ادبی اداروں کے لیے خدمات بھی سر انجام دیں۔ غلام ربانی آگرو 5 نومبر 1933ء کو سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز کے گاؤں محمد خان آگرو میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم حیدرآبادسے حاصل …

اسلام آباد۔18جنوری (اے پی پی):سندھی اور اردو کے معروف ادیب، افسانہ نگار اور محقق غلام ربانی آگرو کی برسی اتوار 18 جنوری کو منائی گئی۔ انہوں نے تصنیف و تالیف کے علاوہ ملک کے کئی ادبی اداروں کے لیے خدمات بھی سر انجام دیں۔ غلام ربانی آگرو 5 نومبر 1933ء کو سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز کے گاؤں محمد خان آگرو میں پیدا ہوئے۔

انھوں نے ابتدائی تعلیم حیدرآبادسے حاصل کی اور پھر کراچی یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔1953 میں ان کی ادبی زندگی کا آغاز ہوا اور وہ کچھ عرصے نئی زندگی کے شریک مدیر رہے جبکہ 1957ء میں سندھی ادبی بورڈ کے اسسٹنٹ سیکریٹری مقرر ہوئے۔ محمد خان آگرو سندھی ادبی بورڈ کے بچوں کے رسالے گل پھلکے کے بانی مدیر مقرر ہوئے۔ 1976 ء میں وہ سندھ یونیورسٹی کے پہلے پرو وائس چانسلر مقرر ہوئے جبکہ 1980ء میں سندھی ادبی بورڈ سے بطور سیکریٹری منسلک ہوئے۔ محمد خان آگرو 1984ء میں اکادمی ادبیات پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل مقرر ہوئے ، قومی ادارہ برائے تحقیق تاریخ و ثقافت کے ڈائریکٹر جنرل اور ممبر فیڈرل پبلک سروس کمیشن کی حیثیت سے بھی فرائض سرانجام دیئے۔

غلام ربانی آگرو کے ادبی سفر کا آغاز 1955ء میں افسانہ نگاری سے ہوا۔ محمد خان آگرو نے سندھ کے دیہات سے تعلق رکھنے والے عام لوگوں کو اپنے افسانوں اور کہانیوں‌ میں پیش کیا۔ ان کی یہ کہانیاں انگریزی، جرمن، چینی، ہندی اور روسی زبانوں میں ترجمہ ہوچکی ہیں اور ان افسانوں کا مجموعہ ’’آبِ حیات‘‘ کے عنوان سے 1960ء میں شائع ہوا۔ ان کی تصانیف میں جھڑاگل گلاب جا، سندھ جابر بحر پہاڑ، ماڑھوں شہر بھنبھور جا، سندھی ادب تی ترقی پسند تحریک جو اثر، خط غبار(خطوط کا مجموعہ)،بھارت میں اردو: ایک جائزہ اور سندھ میں پکھین جو شکارشامل ہیں۔ غلام ربانی آگرو 18 جنوری 2010ء کو حیدرآباد میں‌ وفات پا گئے۔ ان کی برسی کے موقع پر علمی و ادبی حلقوں کی جانب سے ان کی خدمات کے اعتراف میں خراج تحسین پیش کیا گیا۔