اسلام آباد۔10فروری (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے اس امر کی توثیق کی ہے کہ پاکستان اور جاپان کے تعلقات محض سفارتی نوعیت کے نہیں بلکہ باہمی اعتماد اور مشترکہ خوشحالی پر مبنی ایک مضبوط معاشی شراکت داری کی عکاسی کرتے ہیں۔ منگل کو سفیرِ جاپان اکاماتسو شوئچی اور دونوں ممالک کے ممتاز کاروباری رہنمائوں کی موجودگی میں جاپان۔پاکستان بزنس فورم سے …
پاکستان اور جاپان کے تعلقات باہمی اعتماد اور مشترکہ خوشحالی پر مبنی مضبوط معاشی شراکت داری کی عکاسی کرتے ہیں، ہارون اختر خان

مزید خبریں
اسلام آباد۔10فروری (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے اس امر کی توثیق کی ہے کہ پاکستان اور جاپان کے تعلقات محض سفارتی نوعیت کے نہیں بلکہ باہمی اعتماد اور مشترکہ خوشحالی پر مبنی ایک مضبوط معاشی شراکت داری کی عکاسی کرتے ہیں۔ منگل کو سفیرِ جاپان اکاماتسو شوئچی اور دونوں ممالک کے ممتاز کاروباری رہنمائوں کی موجودگی میں جاپان۔پاکستان بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ علامہ اقبال کا پیغام آج بھی پاکستان کے قومی وژن کی رہنمائی کر رہا ہے۔
مشرق سے طلوع ہوتے سورج کی جانب دیکھنے سے متعلق اقبال کے معروف شعر کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جاپان کا سفر اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ وژن، نظم و ضبط اور مسلسل بہتری کسی بھی قوم کو عالمی معاشی قیادت کی منزل تک پہنچا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ،جاپان کے تجربات سے سیکھنے اور انہیں پائیدار صنعتی ترقی کی نئی راہ متعین کرنے کے لئے بروئے کار لانے کا خواہاں ہے۔ پاکستان اور جاپان کے درمیان ستر سال سے زائد دوطرفہ تعاون کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اس تعلق کو طویل المدتی شراکت داری اور باہمی اعتماد کی روشن مثال قرار دیا۔
معاون خصوصی نے 2001 میں قائم ہونے والے جاپان۔پاکستان بزنس فورم کے کلیدی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ فورم دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور بزنس ٹو بزنس روابط کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بالخصوص آٹو موبائل سیکٹر میں جاپانی سرمایہ کاری پاکستان کے صنعتی نظام کی ریڑھ کی ہڈی بن چکی ہے۔ 1980ء کی دہائی کے اوائل سے جاپانی کار ساز ادارے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی سپلائی چین کے فروغ میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔
ہارون اختر خان نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں 80 سے زائد جاپانی کمپنیاں کام کر رہی ہیں جو دسیوں ہزار پاکستانیوں کو روزگار فراہم کر رہی ہیں اور معاشی سرگرمیوں و سرکاری محصولات میں نمایاں حصہ ڈال رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جاپانی کمپنیوں نے اعلیٰ معیار، موثر انتظامی طریقوں اور جدید پیداواری عمل کو متعارف کرا کر پاکستان کی صنعتی ثقافت کو مضبوط بنایا ہے۔جاپانی سرمایہ کاروں کے تحفظات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے فورم کو یقین دلایا کہ حکومت ٹیکس ریفنڈز، برآمدات اور ریگولیٹری رکاوٹوں سے متعلق مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ، متحرک اور مکمل طور پر مصروف عمل ہے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان سن بھی رہا ہے اور عملی اقدامات بھی کر رہا ہے اور اس بات پر زور دیا کہ سرمایہ کاروں کے ساتھ مسلسل مکالمہ ایک مستحکم اور سازگار کاروباری ماحول کے لیے ترجیح ہے۔وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت کا حوالہ دیتے ہوئے معاون خصوصی نے کہا کہ پاکستان نے صنعتی اصلاحات کے ایک جامع عمل کا آغاز کر دیا ہے جس کا مقصد ترقی کو پائیدار، جامع اور برآمدات پر مبنی بنانا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ نیشنل انڈسٹریل پالیسی میں نجی شعبے کو معاشی ترقی کا محور بنایا گیا ہے جس میں بیمار صنعتی یونٹس کی بحالی، قرضوں تک بہتر رسائی، ایس ایم ایز کی مضبوطی اور مسابقت میں اضافہ شامل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ون ونڈو سہولتوں کے حامل خصوصی اقتصادی زونز اور ’’ریگولیٹری گیلوٹین‘‘ کے تحت اصلاحات کے ذریعے غیر ضروری قوانین اور سرخ فیتے کا خاتمہ کیا جا رہا ہے تاکہ سرمایہ کاری کے لیے زیادہ دوستانہ فریم ورک فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ٹیرف پالیسی ٹیرف کی معقول تشکیل اور پیداواری لاگت میں کمی کے ذریعے برآمدات پر مبنی صنعتی ترقی کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
ہارون اختر خان نے نئی توانائی گاڑیوں کی پالیسی 2030۔2025 کی جانب بھی توجہ دلائی جس کے تحت 2030ء تک 30 فیصد الیکٹرک گاڑیوں کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرین موبیلٹی نہ صرف ماحولیاتی تحفظ میں مدد دے گی بلکہ بالخصوص بین الاقوامی شراکت داروں کے لیے نئے صنعتی اور سرمایہ کاری مواقع بھی پیدا کرے گی۔
معاون خصوصی نے خواتین کاروباری افراد کے بڑھتے ہوئے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ خواتین پاکستان کی معیشت کو آگے بڑھانے میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) قومی معیشت کی اصل طاقت ہیں اور انہیں ہدفی پالیسیوں اور ادارہ جاتی معاونت کے ذریعے مکمل سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ نیشنل جیم سٹونز پالیسی کا مقصد پاکستان کے قیمتی معدنی وسائل کو عالمی سطح پر مسابقتی اور برآمدی شعبے میں تبدیل کرنا ہے۔ ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان جاپانی سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ، شفاف اور پرکشش منڈی فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے آٹو موبائل، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کلین انرجی، مینوفیکچرنگ اور انفراسٹرکچر سمیت اہم شعبوں میں جاپان کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان مشترکہ ترقی، جدت اور خوشحالی کے مستقبل کی تعمیر کے لیے جاپان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہےاور دونوں ممالک کی حکومتوں، نجی شعبوں اور کاروباری برادریوں کے درمیان گہری شراکت داری پر زور دیا۔








