راولپنڈی۔10فروری (اے پی پی):وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے مذہبی ہم آہنگی ، چیئرمین پاکستان علما کونسل اور پیغامِ پاکستان کے کوآرڈینیٹر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ دہشتگردی نہ کوئی نیا واقعہ ہے اور نہ ہی غیر متوقع، تاہم دشمن یہ حقیقت ذہن نشین کر لے کہ پاکستان اس کے لیے آسان ہدف نہیں ہے، دہشتگردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور جو لوگ مساجد، عبادت گاہوں، …
دہشتگردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، پوری قوم کو متحد ہو کر فتنہ کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا،حافظ محمد طاہر محمود اشرفی

مزید خبریں
راولپنڈی۔10فروری (اے پی پی):وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے مذہبی ہم آہنگی ، چیئرمین پاکستان علما کونسل اور پیغامِ پاکستان کے کوآرڈینیٹر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ دہشتگردی نہ کوئی نیا واقعہ ہے اور نہ ہی غیر متوقع، تاہم دشمن یہ حقیقت ذہن نشین کر لے کہ پاکستان اس کے لیے آسان ہدف نہیں ہے، دہشتگردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور جو لوگ مساجد، عبادت گاہوں، عورتوں اور بچوں کو نشانہ بناتے ہیں وہ بزدل دشمن کے آلۂ کار ہیں۔وہ منگل کو راولپنڈی میں منعقدہ پیغامِ پاکستان کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے، جس میں تمام مکاتبِ فکر کے علما، مشائخ، مذہبی رہنماؤں اور مختلف اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
حافظ محمد طاہرمحمود اشرفی نے کہا کہ قرآنِ مجید کے مطابق جو شخص کسی مومن کو ناحق قتل کرے گا وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا اور جن پر اللہ تعالیٰ لعنت فرماتا ہے ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر دہشتگرد مسلمان ہوتے تو حضرت خدیجہ الکبریٰؓ جیسے عظمت اور شان والے نام سے منسوب مقام پر حملہ کرنے کی جرأت نہ کرتے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ماں حضرت خدیجہ الکبریٰؓ اسلام کی پہلی گواہ ہیں اور ان کے نام سے وابستہ مقام کو نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ حملہ آور اسلام دشمن ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پمز اسپتال میں زخمیوں کی عیادت کے دوران متاثرین نے بتایا کہ وہ سجدے میں تھے جب ان پر حملہ کیا گیا، ’’ہم کمزور ہو سکتے ہیں مگر ہمارا رب کمزور نہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ سجدے کی حالت میں حملے کوئی نئی بات نہیں، رسول اکرم ﷺ کوبھی سجدے کے دوران مشرکین نے اذیت پہنچانے کی کوشش کی، اسی طرح حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ پر بھی مساجد میں حملے ہوئے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مساجد پر حملہ کرنے والے ان عظیم ہستیوں کے ماننے والے نہیں ہو سکتے۔حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ ہم سب حسینی ہیں اور ہر کلمہ گو حسینی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس افسوسناک واقعے کے بعد پوری قوم متحد ہو گئی ہے، کسی زخمی نے شکوہ نہیں کیا بلکہ سب نے حوصلے کے ساتھ کہا کہ ہم ٹھیک ہیں، جو قوم کے عزم اور حوصلے کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف جاری فتنہ انگیز لہر میں بھارت، اسرائیل اور افغانستان شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب روس اور امریکہ نے افغانستان میں جنگ کی تو پاکستان نے افغان عوام کو پناہ دی، مگر جب پاکستان کے خلاف سازشیں ہوئیں تو کسی نے پاکستان کا ساتھ نہیں دیا۔انہوں نے کہا کہ افغانستان سے پاکستان کو خیر نہیں ملی بلکہ ہمارے خون سے ہولی کھیلی گئی، اور افغان عبوری حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔
انہوں نے کہا کہ خودکش حملہ آور افغانستان میں تیار ہو رہے ہیں اور امریکی اسلحہ افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردی کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فتنۂ ہندوستان افغانستان میں موجود ہے اور کچھ عناصر پاکستان کے خلاف جنگ میں استعمال ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت سے مقابلہ کرے گااور اپنے ملک میں بدامنی پھیلانے والوں کو برداشت نہیں کرے گا۔حافظ محمد طاہر اشرفی نے کہا کہ مساجد میں سیکیورٹی کی فراہمی سے متعلق تحقیقات جاری ہیں اور دہشتگردی کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیوں کے دوران پولیس کے جوان شہید اور زخمی بھی ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے وفاقی وزیر صحت کو ہدایت کی ہے کہ وہ زخمیوں کے علاج اور دیکھ بھال کی خود نگرانی کریں۔انہوں نے تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علما پر زور دیا کہ وہ پیغامِ پاکستان کے ضابطۂ اخلاق پر مکمل عملدرآمدکو یقینی بنائیں اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی دوسرے مسلک کے خلاف نفرت انگیز گفتگو کرے۔ انہوں نے کہا کہ ممبر اور محراب کا غلط استعمال کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگا اور ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والے کسی حمایت یا ضمانت کے مستحق نہیں ۔
انہوں نے کہا کہ شہید بچوں کا خون دیکھ کر پوری قوم کا دل جل رہا ہے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ شہادتیں قوموں کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور اس نازک وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہوگا۔دریں اثناء، کانفرنس کے اختتام پر علما و مشائخ کی جانب سے سانحہ خدیجہ الکبریٰ کے شہداء اور زخمیوں کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ حافظ محمد طاہر اشرفی نے پنجاب حکومت کی جانب سے بسنت سمیت تمام تفریحی تقریبات کے التوا کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ یہ فیصلہ شہداء کے احترام اور قومی یکجہتی کا مظہر ہے۔








