اسلام آباد۔11فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی واصلاحات وخصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ کسی بھی شعبے میں تربیتی پروگرام پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنے کا ایک اہم ذریعہ ہوتے ہیں اور موثر لیڈرشپ تربیت، وژن اور مسلسل سیکھنے کے عمل سے پروان چڑھتی ہے، ہماری سوسائٹی آج بھی باصلاحیت اور موثر لیڈرشپ کی کمی کا شکار ہے جس کی بنیادی وجہ نظام تعلیم …
کسی بھی شعبے میں تربیتی پروگرام پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنے کا اہم ذریعہ ہوتے ہیں، موثر لیڈرشپ تربیت، وژن اور مسلسل سیکھنے کے عمل سے پروان چڑھتی ہے، احسن اقبال

مزید خبریں
اسلام آباد۔11فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی واصلاحات وخصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ کسی بھی شعبے میں تربیتی پروگرام پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنے کا ایک اہم ذریعہ ہوتے ہیں اور موثر لیڈرشپ تربیت، وژن اور مسلسل سیکھنے کے عمل سے پروان چڑھتی ہے، ہماری سوسائٹی آج بھی باصلاحیت اور موثر لیڈرشپ کی کمی کا شکار ہے جس کی بنیادی وجہ نظام تعلیم میں جامع اور موثر پالیسی سازی کا فقدان ہے۔وہ تین روزہ پائیڈ لیڈرشپ ایکسیلنس ورکشاپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ احسن اقبال نے کہا کہ کامیاب لیڈرشپ کی پہچان مقصد اور مشن سے وابستگی سے ہوتی ہے۔
ان کے مطابق کامیاب لیڈر کی صلاحیتوں میں صرف دس فیصد ٹیکنیکل مہارت جبکہ نوے فیصد عوامی اور سافٹ سکلز شامل ہوتی ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ 1835ء میں متعارف کرایا گیا نوآبادیاتی نظام تعلیم ذہنی غلامی پیدا کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا اور بدقسمتی سے ہم نے اس نظام کو تبدیل کرنے کے بجائے اسے جوں کا توں اپنائے رکھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک حقیقی لیڈر جمود کا حصہ نہیں بنتا بلکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی کا علمبردار ہوتا ہے اور نظام میں بہتری لانا اس کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے۔احسن اقبال کا کہنا تھا کہ موثر لیڈر وہ ہوتا ہے جو اپنے ادارے کو بیرونی تبدیلیوں اور جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ رکھے، آج کی دنیا میں وہی قوم اور ادارہ کامیاب ہے جو ٹیلنٹ کو تلاش کر کے اسے موثر انداز میں بروئے کار لانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
انہوں نے زور دیا کہ اداروں کو روایتی اور فرسودہ طریقوں سے نکل کر جدت اور اختراع کی راہ اپنانی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ لیڈرشپ کا بنیادی کردار لوگوں کو یکجا کر کے مثبت سوچ اور اجتماعی قوت کو فروغ دینا ہے جبکہ کامیاب لیڈر واضح ترجیحات کے ساتھ اپنے مقصد پر مکمل توجہ مرکوز رکھتا ہے۔ احسن اقبال نے امید ظاہر کی کہ تین روزہ لیڈرشپ ورکشاپ شرکا کے ادارہ جاتی اور پیشہ ورانہ کردار میں مثبت تبدیلی کا سبب بنے گی۔
انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ پائیڈ اپنی تحقیق اور پالیسی سازی کے ذریعے معاشرتی تبدیلی کا ایک بہترین ادارہ بنے۔اس موقع پر وائس چانسلر پائیڈ ڈاکٹر ندیم جاوید نے کہا کہ تین روزہ ورکشاپ میں شرکت ایک اہم اور بامعنی موقع تھا اور مستقبل میں بھی اس نوعیت کی مفید اور معیاری ورکشاپس کا انعقاد جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پائیڈ کو پالیسی سازوں کے لیے ایک موثر اور باوقار ادارہ بنایا جائے گا جو ٹھوس اور قابل عمل تجاویز فراہم کرے گا۔








