اسلام آباد۔11فروری (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت تمام ادائیگیاں بروقت اور احسن طریقے سے کر رہی ہے اور منظور شدہ پروگراموں کے تحت بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے امکانات تلاش کر رہی ہے جن میں پہلا پانڈا بانڈ اور گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ فریم ورک شامل ہیں۔انہوں نے ان خیالات کااظہار بدھ کو یہاں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے ایک اعلیٰ …
حکومت تمام ادائیگیاں بروقت اور احسن طریقے سے کر رہی ہے ، وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات کی بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے وفد سے ملاقات میں گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد۔11فروری (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت تمام ادائیگیاں بروقت اور احسن طریقے سے کر رہی ہے اور منظور شدہ پروگراموں کے تحت بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے امکانات تلاش کر رہی ہے جن میں پہلا پانڈا بانڈ اور گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ فریم ورک شامل ہیں۔انہوں نے ان خیالات کااظہار بدھ کو یہاں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد سے ملاقات میں کیا ۔وفد میں انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن ، برٹش انٹرنیشنل انویسٹمنٹ، ایشیائی ترقیاتی بینک اور بالتورو کیپٹل کے نمائندگان شامل تھے۔
ملاقات میں نجی شعبہ کی قیادت میں ترقی کے فروغ، سرمایہ کاری کے حصول اور پاکستان کے اصلاحات کے ایجنڈے کی حمایت میں تعاون کو مزید گہرا کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔وزیر خزانہ نے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن ، برٹش انٹرنیشنل انویسٹمنٹ، ایشیائی ترقیاتی بینک کو پاکستان کے دیرینہ ترقیاتی شراکت دار قرار دیتے ہوئےخصوصاً نجی شعبہ کی مالی معاونت اور مقامی کرنسی میں سرمایہ کاری کے اقدامات کے حوالے سے ان کی بڑھتی ہوئی شمولیت کا خیرمقدم کیا ۔مذاکرات میں نجی شعبہ کے سرمایہ کو تحفظ دینے اور اس میں توسیع، خودمختار خطرات میں کمی اور جدید مقامی کرنسی فنانسنگ طریقۂ کار کے ذریعے نجی شعبہ کی شراکت بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
سینیٹر اورنگزیب نے اس امر پر روشنی ڈالی کہ پاکستان نے گزشتہ 18 ماہ کے دوران معاشی استحکام کی بحالی میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔انہوں نے کرنسی کے استحکام اور زر مبادلہ کے ذخائر میں بہتری کا ذکر کیا جن کے سال کے اختتام تک تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے مساوی ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے سرمایہ کاری کے خسارے کو کم کرنے اور زیادہ مستحکم و قابل پیش گوئی معاشی ماحول کے قیام کے لیے حکومتی کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔
وزیر خزانہ نے وفد کو پاکستان کے جاری تجارتی آزادیوں کے پروگرام کے بارے میں آگاہ کیا جس میں مسابقت کو بڑھانے اور دیرینہ تحفظاتی رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے ٹیرف کو معقول بنانا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اصلاحاتی راستے کا مقصد پاکستان کو کامیاب جنوب مشرقی ایشیائی معیشتوں کی طرز پر ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ خدمات کے شعبے کی کارکردگی مضبوط رہی ہے اور اس کی برآمدات کے مسلسل بڑھنے کی توقع ہے۔مذاکرات میں توانائی کے شعبے کی اصلاحات، ٹیکس پالیسی میں بہتری اور ٹیکس انتظامیہ کی کارکردگی میں اضافے کے اقدامات پر بھی گفتگو ہوئی۔
وزیر خزانہ نے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے، وصولی کے نظام کو بہتر بنانے اور ٹیکس پالیسی کو ترقیاتی اہداف سے ہم آہنگ کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔مالیاتی محاذ پر سینیٹر اورنگزیب نے وفد کو بتایا کہ حکومت تمام ادائیگیاں بروقت اور احسن طریقے سے کر رہی ہے اور منظور شدہ پروگراموں کے تحت بین الاقوامی قرض منڈیوں تک رسائی کے امکانات تلاش کر رہی ہے جن میں پہلا پانڈا بانڈ اور گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ فریم ورک شامل ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مقامی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور نشاندہی کی کہ کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی مقامی کنسورشیم کے ذریعے نجکاری جیسے حالیہ کامیاب لین دین ملکی سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے عزم کی عکاس ہے، جو عالمی سرمایہ کاروں کے لیے ایک مثبت اشارہ فراہم کرتی ہے۔بین الاقوامی اداروں کےنمائندگان نے پاکستان کے اصلاحاتی اور سرمایہ کاری ایجنڈے کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔
اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ترقیاتی شراکت دار اب تیزی سے نجی شعبہ کی شراکت کو متحرک کرنے، تجارت کے فروغ، اور بنیادی ڈھانچے، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں، درمیانے درجے کے اداروں، روزگار کے مواقع اور معاشی تنوع میں نجی ایکویٹی سرمایہ کاری کو سہولت دینے پر توجہ دے رہے ہیں۔شرکا نے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کو متحرک کرنے، سرمایہ کاری سے متعلق ٹیکس ڈھانچوں کو معقول بنانے اور پائیدار سرمائے کی تشکیل کے لیے نجی ایکویٹی پلیٹ فارمز کی پائپ لائن تیار کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ٹیکس اصلاحات، سرمایہ کاری کی سہولت کاری اور مجموعی کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے حوالے سے حکومت کے ساتھ مسلسل تعاون کی ضرورت پر بھی اتفاق کیافریقین نے شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے اور پاکستان کے لیے مستحکم، سرمایہ کاری دوست اور نجی شعبہ کی قیادت میں ترقی کے ماڈل کی جانب پیش رفت کو تیز کرنےپر اتفاق کیا۔








