لاہور۔12فروری (اے پی پی):انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب عبدالکریم نے شہریوں سے براہ راست رابطے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے 1787 کمپلینٹ سنٹر پر بذریعہ فون شہریوں سے گفتگو کی اور موصولہ درخواستوں و شکایات کا جائزہ لیا۔ آئی جی پنجاب نے شہریوں سے ان کی دی گئی درخواستوں پر ہونے والی پولیس کارروائی اور اہلکاروں کے رویوں کے بارے میں دریافت کیا اور متعلقہ افسران کو فوری اور موثر اقدامات …
آئی جی پنجاب عبدالکریم کا شہریوں سے براہ راست رابطے کا سلسلہ جاری

مزید خبریں
لاہور۔12فروری (اے پی پی):انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب عبدالکریم نے شہریوں سے براہ راست رابطے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے 1787 کمپلینٹ سنٹر پر بذریعہ فون شہریوں سے گفتگو کی اور موصولہ درخواستوں و شکایات کا جائزہ لیا۔ آئی جی پنجاب نے شہریوں سے ان کی دی گئی درخواستوں پر ہونے والی پولیس کارروائی اور اہلکاروں کے رویوں کے بارے میں دریافت کیا اور متعلقہ افسران کو فوری اور موثر اقدامات کی ہدایت کی۔ ترجمان کے مطابق لاہور کے ایک شہری کی اندراج مقدمہ کی درخواست پر آئی جی پنجاب نے ایس پی صدر آپریشنز لاہور کو فوری طور پر درخواست دہندہ سے رابطہ کر کے قانونی کارروائی یقینی بنانے کا حکم دیا۔
سرگودھا کے ایک شہری کی ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر کی شکایت پر آر پی او سرگودھا کو فوری داد رسی کی ہدایت جاری کی گئی، جبکہ وزیر آباد کے شہری کی درخواست پر آر پی او گوجرانوالہ کو ایف آئی آر کے اندراج کو یقینی بنانے کا حکم دیا گیا، جھنگ کی ایک خاتون شہری کی ایف آئی آر درج نہ ہونے کی شکایت پر آئی جی پنجاب نے آر پی او فیصل آباد کو فوری ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت کی۔آئی جی پنجاب نے آر پی اوز اور ڈی پی اوز کو ہدایت کی کہ شہریوں کی درخواستوں پر فوری ایکشن لیا جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایف آئی آر کے اندراج میں غیر ضروری تاخیر اور ناقص تفتیش پر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی جبکہ شہریوں سے بدسلوکی پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ سی ایم کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم، پی ایم پورٹل،1787 سمیت تمام ذرائع سے موصولہ شکایات کو مقررہ ٹائم لائن اور ایس او پیز کے مطابق فوری حل کیا جائے۔آئی جی پنجاب نے شہریوں کو بھی ہدایت کی کہ وہ پولیس ملازمین کی جانب سے کسی بھی قسم کی بے ضابطگی یا بدسلوکی کی شکایت 1787 پر درج کروائیں۔اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی آئی اے بی عمران محمود، ڈی آئی جی آئی اے بی احمد ناصر عزیز ورک، اے آئی جی انسپکشن شائستہ ندیم اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔








