اسلام آباد۔12فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو جیل میں مناسب سہولیات کی فراہمی پر حکومت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ریاست کی جانب سے اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن ادا کرنا قابل تحسین ہے۔ عدالت عظمیٰ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کیس کے ٹرائل کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا جبکہ جیل میں …
سپریم کورٹ میں توشہ خانہ فوجداری کیس کے ٹرائل کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ، بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں کے معائنے اور بچوں سے بات کرانے کی ہدایت

مزید خبریں
اسلام آباد۔12فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کو جیل میں مناسب سہولیات کی فراہمی پر حکومت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ریاست کی جانب سے اپنی ذمہ داریاں بطریق احسن ادا کرنا قابل تحسین ہے۔ عدالت عظمیٰ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کیس کے ٹرائل کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا جبکہ جیل میں صحت اور دیگر سہولیات سے متعلق معاملے میں ان کی آنکھوں کا طبی معائنہ 16 فروری سے قبل کرانے کا حکم دیا ہے۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے جمعرات کو کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت بیرسٹر سلمان صفدر اور اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے بانی پی ٹی آئی کو ان کے بچوں سے ٹیلی فون پر بات کرانے کی ہدایت بھی جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل بھی 16 فروری سے پہلے مکمل کیا جائے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ تمام احکامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی نے جیل میں حفاظتی انتظامات اور کھانے پینے کی سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت میں رپورٹ میں شامل سفارشات پڑھ کر سنائیں اور استدعا کی کہ طبی معائنہ اہلِ خانہ میں سے کسی کی موجودگی میں کرایا جائے تاہم عدالت نے یہ درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر معالجین کتابوں کے مطالعے کی سفارش کریں گے تو کتابیں فراہم کر دی جائیں گی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ رپورٹ میں پیش کی گئی دیگر سفارشات کا خود جائزہ لیا جائے گا اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے تک بعض امور زیر التوا رکھے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کا معاملہ سب سے اہم ہے اور عدالت اس حوالے سے مناسب حکم جاری کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ صحت کے معاملے پر حکومت کا موقف جاننا بھی ضروری ہے۔اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا کہ قیدیوں کو طبی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور اگر کوئی قیدی مطمئن نہیں تو ریاست مزید اقدامات کرنے کی پابند ہے۔ چیف جسٹس نے بچوں سے ٹیلی فونک رابطے کے معاملے کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالت حکومت پر اعتماد کر رہی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے فرینڈ آف دی کورٹ کی ذمہ داری موثر انداز میں ادا کرنے پر بیرسٹر سلمان صفدر کی تعریف کی اور کہا کہ انہوں نے اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھائی۔
عدالت نے فرینڈز آف دی کورٹ کے کردار کو سراہتے ہوئے حکومت کی جانب سے سہولیات کی فراہمی کو بھی قابل تحسین قرار دیا۔سماعت کے دوران بیرسٹر سلمان صفدر نے بتایا کہ انہیں اس کیس کے حوالے سے سو سے زائد کالز اور پیغامات موصول ہوئے، تاہم انہوں نے اسے عدالت کی امانت قرار دیتے ہوئے کسی سے کوئی تفصیل شیئر نہیں کی، حتیٰ کہ اپنی اہلیہ کو بھی آگاہ نہیں کیا۔








