اسلام آباد۔12فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچرل ڈویلپمنٹ (آئی ایف اے ڈی) کے منصوبے ملک کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں، خصوصاً گلگت بلتستان، بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں مثبت اثرات مرتب کر رہے ہیں، حکومت مالی شمولیت کو فروغ دے کر ترسیلات زر کو پیداواری شعبوں خصوصاً زراعت اور چھوٹے و درمیانے درجے …
آئی ایف اے ڈی کے منصوبے ملک کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں مثبت اثرات مرتب کر رہے ہیں، حکومت مالی شمولیت کے فروغ سے ترسیلات زر کو پیداواری شعبوں سے منسلک کر رہی ہے،وفاقی وزیر رانا تنویر حسین

مزید خبریں
اسلام آباد۔12فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچرل ڈویلپمنٹ (آئی ایف اے ڈی) کے منصوبے ملک کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں، خصوصاً گلگت بلتستان، بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں مثبت اثرات مرتب کر رہے ہیں، حکومت مالی شمولیت کو فروغ دے کر ترسیلات زر کو پیداواری شعبوں خصوصاً زراعت اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار سے منسلک کر رہی ہے۔وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی سے جاری بیان کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے اٹلی کے دارالحکومت روم میں آئی ایف اے ڈی کی 49ویں گورننگ کونسل کے اجلاس میں پاکستان کے وفد کی قیادت کرتے ہوئے کیا۔
اجلاس میں وزرا، ترقیاتی شراکت داروں، مالیاتی اداروں، نجی شعبے کے نمائندگان اور نوجوان کاروباری افراد نے شرکت کی اور دیہی ترقی، پائیدار زراعت اور چھوٹے کسانوں کے لیے جدید مالی وسائل کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ گورننگ کونسل کے موقع پر وفاقی وزیر نے آئی ایف اے ڈی کے صدر الوارو لاریو سے تفصیلی ملاقات کی جس دوران پاکستان میں فنڈ کے تعاون سے جاری منصوبوں کی پیش رفت، آئندہ تعاون کے امکانات اور ری پلینشمنٹ سائیکلز میں پاکستان کی مسلسل شمولیت کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔ رانا تنویر حسین نے آئی ایف اے ڈی کے ساتھ پاکستان کی دیرینہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے صدر الوارولاریوکو پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت دی۔صدر الوارو لاریو نے جولائی 2023ء میں دستخط ہونے والے ہوم کنٹری ایگریمنٹ اور اسی سال اسلام آباد میں آئی ایف اے ڈی کے ہوم کنٹری آفس کے قیام کو یاد کرتے ہوئے پاکستان کے تاریخی کردار کو سراہا۔
انہوں نے مستقبل قریب میں اسلام آباد کا دورہ کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا تاکہ دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے۔ملاقات میں پاکستان کے ساتھ آئی ایف اے ڈی کے بڑھتے پورٹ فولیو کا بھی جائزہ لیا گیا جو اس وقت 1.2 ارب ڈالر سے زائد ہے۔ فریقین نے موجودہ کنٹری سٹریٹجی کے تحت جاری منصوبوں پر اطمینان کا اظہار کیا جو چاروں صوبوں میں دیہی ترقی، غربت میں کمی، غذائی تحفظ اور موسمیاتی موافقت پر مرکوز ہیں۔ وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ آئی ایف اے ڈی کے منصوبے ملک کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں خصوصاً گلگت بلتستان، بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں مثبت اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
رانا تنویر حسین نے آئی ایف اے ڈی کے ایگزیکٹو نائب صدر ڈونل برائون کے آئندہ دورہ پاکستان کا بھی خیرمقدم کیا۔ ڈونل برائون نے پاکستان کے ساتھ اپنے سابقہ روابط کا ذکر کرتے ہوئے مستقبل میں قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انٹرنیشنل ڈے آف فیملی ریمیٹینسز کے دس سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقدہ اعلیٰ سطحی گول میز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان دنیا کے نمایاں ترسیلات زر وصول کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت مالی شمولیت کو فروغ دے کر ترسیلات زر کو پیداواری شعبوں خصوصاً زراعت اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار سے منسلک کر رہی ہے۔ ’’فارم ٹو مارکیٹ‘‘ کے موضوع پر اجلاس میں انہوں نے دیہی نوجوانوں کے لیے کاروباری مواقع پیدا کرنے، ویلیو چین کی ترقی اور کسانوں کو منڈیوں تک رسائی فراہم کرنے کی اہمیت اجاگر کی۔
پاکستان 1978ء سے آئی ایف اے ڈی کا بانی رکن ہے، گزشتہ چار دہائیوں میں آئی ایف اے ڈی نے پاکستان میں 26 منصوبوں اور پروگرامز کے لیے 2.3 ارب ڈالر سے زائد کے مجموعی پورٹ فولیو کی معاونت کی ہے جس میں حکومتی اور دیگر شراکت داروں کی مالی شمولیت بھی شامل ہے۔ اس وقت چار بڑے منصوبے زیر عمل ہیں جو زرعی پیداوار میں اضافہ، خواتین کو اثاثہ جات کی فراہمی، آبپاشی اور منڈیوں تک رسائی میں بہتری اور مستحق خاندانوں کو غربت سے نکالنے کے لیے مربوط اقدامات پر مشتمل ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ آئی ایف اے ڈی کا کمیونٹی پر مبنی ترقیاتی ماڈل دیہی خواتین اور چھوٹے کسانوں کو بااختیار بنانے میں موثر ثابت ہوا ہے خصوصاً ایسے علاقوں میں جہاں جغرافیائی اور معاشی چیلنجز درپیش ہیں۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان آئی ایف اے ڈی کے ری پلینشمنٹ عمل میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا رہے گا اور مستقبل میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق نئے اقدامات سمیت آئندہ نسل کے منصوبوں کی تیاری میں قریبی تعاون جاری رکھا جائے گا۔رانا تنویر حسین کا یہ دورہ روم میں قائم اقوام متحدہ کے اداروں بالخصوص آئی ایف اے ڈی، ایف اے او اور ڈبلیو ایف پی کے ساتھ پاکستان کی فعال اور مثبت شراکت داری کا مظہر ہے اور دیہی معیشت کی مضبوطی، غذائی تحفظ اور پائیدار زرعی ترقی کے لیے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔








