اسلام آباد۔12فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں بہتری اجتماعی کاوشوں کا نتیجہ ہے، توانائی کے شعبے میں اصلاحات لائی جا رہی ہیں ، آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوئے ، پسماندہ علاقوں اور کم بجلی استعمال کرنے والوں صارفین کو ترجیح دی جائے گی ، اس اقدام سے صارفین کے بلوں میں ماہانہ ہزاروں روپے کی …
توانائی کے شعبہ میں اصلاحات لائی جا رہی ہیں ، پسماندہ علاقوں اور کم بجلی استعمال کرنے والوں صارفین کو ترجیح دی جائے گی ، وفاقی وزیر

مزید خبریں
اسلام آباد۔12فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں بہتری اجتماعی کاوشوں کا نتیجہ ہے، توانائی کے شعبے میں اصلاحات لائی جا رہی ہیں ، آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوئے ، پسماندہ علاقوں اور کم بجلی استعمال کرنے والوں صارفین کو ترجیح دی جائے گی ، اس اقدام سے صارفین کے بلوں میں ماہانہ ہزاروں روپے کی بچت ہوگی،توانائی کے شعبے میں اصطلاحات کے ثمرات عام آدمی تک پہنچانے کے لئے پرعزم ہے، پاکستان کے توانائی کے شعبے کو دنیا کی انرجی مارکیٹ کے برابر لانا ہدف ہے، انڈسٹری کے لئے 35 فیصد سے زیادہ ٹیرف میں کمی کی گئی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعظم پنکھا تبدیلی پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ اقدام وزیراعظم محمد شہباز شریف کے پاور سیکٹر ریفارمز کا حصہ ہے، پاکستان میں پیک ڈیمانڈ ہر سال بڑھ رہی ہے جبکہ سولرائزیشن کے باعث دن کی ڈیمانڈ کم ہو رہی ہے جس سے گرڈ کو عدم استحکام اور مختلف مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک بھر میں مجموعی ڈیمانڈ 8ہزار میگاواٹ ہے، سولرائزیشن کی وجہ سے گرڈ کو چیلنجز ضرور درپیش ہوئے تاہم رینیوایبل اور کلین انرجی کے حوالے سے مثبت پیشرفت ہوئی ہے اور رواں سال پاکستان کی 55 فیصد توانائی کلین رہی جبکہ 2030 تک 60 فیصد کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جسے اس سے پہلے حاصل کر لیا جائے گا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ 2034 تک پاکستان کی توانائی 90 فیصد کلین انرجی پر مشتمل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر برازیل میں ہونے والی کوپ کانفرنس کے دوران پاکستان کو کلین انرجی ٹرانزیشن میں نمایاں مقام حاصل ہوا اور سولرائزیشن کو عوامی سطح کی سولرائزیشن ریولوشن قرار دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم، پوری کابینہ اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سمیت حکومت کی اجتماعی کوششوں کے بغیر یہ اصلاحات اور ان کا تسلسل ممکن نہ تھا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے مشکل مگر ضروری اصلاحات کی ہیں جن میں حالیہ دنوں میں متعارف کرائی گئی سولر نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے موجودہ صارفین کو نیٹ میٹرنگ میں برقرار رکھنے کے لئے اصلاحی قدم اٹھایا ہے جب تک نیپرا عوامی سماعت کے ذریعے تمام آراء نہیں سن لیتا۔ انہوں نے کہا کہ پروٹیکٹڈ صارفین کے لئے مزید کام کر رہے ہیں، پروگرام کی کامیابی کے لئے سٹیٹ بینکس میں بینکنگ سیکٹر کا مشکور ہوں ، اس اقدام سے صارفین کے بلوں میں ماہانہ ہزاروں روپے کی بچت ہوگی، لوڈ شیڈنگ کے دورانیے میں کمی ائے گی ، بجلی کی کھپت کم ہونے سے سسٹم پر بوجھ کم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام میں پسماندہ علاقوں اور کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو ترجیح دی جائے گی، بجلی کی طلب کم ہونے سے سسٹم پر بوجھ کم ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بنے ہوئے معیاری اور تصدیق شدہ پنکھے فراہم کئے جا رہے ہیں، منصوبے سے مقامی پنکھا صنعت کو فروغ ملے گا اور ہزاروں روزگار میسر آئیں گے، پنکھوں کی تبدیلی سے ٹرانسفارمرز جلنے کے واقعات میں کمی آئے گی ،لوڈ شیڈنگ کے دورانیہ میں کمی آئے گی، پنکھوں کی تبدیلی سے فیڈر لیول پر بوجھ کم ہوگا بجلی کی کھپت کم ہونے سے سسٹم پر بوجھ کم ہوگا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ 18 سے 20 ماہ میں سب سے پروٹیکشن صارفین کے لئے مجموعی طور پر بجلی تقریباً 20 فیصد سستی ہوئی ہے جبکہ سبسڈی کے خاتمے اور کچھ فکس چارجز میں اضافے کے باوجود دو سال میں 200 اور 300 سے اوپر پروٹیکٹڈ صارفین کی قیمتوں میں 35 فیصد سے زائد کمی کی گئی ہے۔
صنعت کے لئے بھی قیمتوں میں تقریباً 35 فیصد کمی کر کے اسے ساڑھے گیارہ سینٹ تک لایا گیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر تمام پنکھے ایفیشنٹ فینز میں تبدیل ہو جائیں تو بجلی کی پیداوار کی ضرورت کم ہو جائے گی اور صارفین کو بچت حاصل ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پرانے پنکھے کی واپسی کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔حکومت پاکستان نے مستقبل کی مسابقتی مارکیٹ کے تناظر میں بجلی کی خریداری کے عمل کو ختم کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں غیر مؤثر پنکھوں کی پیداوار پر پابندی ہونی چاہئے تاکہ مستقبل میں آنے والا تمام سٹاک واضح طور پر مؤثر ہو۔








