اسلام آباد۔12فروری (اے پی پی):خاتون اول اور رکن قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ شیلٹر محض سر پر چھت کا نام نہیں بلکہ یہ وہ بنیاد ہے جس پر صحت، تعلیم، تحفظ اور معاشی استحکام قائم ہوتا ہے۔ جمعرات کو ایوان صدر کے پریس ونگ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں ایشیا پیسفک شیلٹر اینڈ سیٹلمنٹس فورم (اے پی ایس ایس ایف) 2026 …
خوراک، لباس اور رہائش وہ کم از کم وقار ہے جس کا ہر شہری حقدار ہے، خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری کا ایشیا پیسفک شیلٹر اینڈ سیٹلمنٹس فورم 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔12فروری (اے پی پی):خاتون اول اور رکن قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ شیلٹر محض سر پر چھت کا نام نہیں بلکہ یہ وہ بنیاد ہے جس پر صحت، تعلیم، تحفظ اور معاشی استحکام قائم ہوتا ہے۔ جمعرات کو ایوان صدر کے پریس ونگ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں ایشیا پیسفک شیلٹر اینڈ سیٹلمنٹس فورم (اے پی ایس ایس ایف) 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔خاتون اول نے افتتاحی تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔
آصفہ بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں شیلٹر، انسانی وقار اور سماجی تبدیلی کے درمیان گہرے تعلق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شیلٹر وہ جگہ ہے جہاں خاندان نقصان سے نکل کر سنبھلتے ہیں، جہاں بچے خود کو محفوظ محسوس کرکے خواب دیکھتے ہیں اور جہاں کمیونٹیز مل کر آگے بڑھنے کی طاقت پاتی ہیں۔ خاتون اول نے پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی کے وعدے روٹی، کپڑا اور مکان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خوراک، لباس اور رہائش وہ کم از کم وقار ہے جس کا ہر شہری حقدار ہے۔
انہوں نے شیلٹر کے اقدامات میں خواتین کے کلیدی کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب خواتین کو محفوظ گھر، اثاثوں تک رسائی اور مالی شمولیت حاصل ہوتی ہے تو اس کے فوائد صرف گھر تک محدود نہیں رہتے، خواتین اپنے خاندانوں میں سرمایہ کاری، سماجی ہم آہنگی کو مضبوط اور طویل المدتی ترقی میں براہ راست کردار ادا کرتی ہیں۔ ایس پی ایچ ایف پروگرام کو موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ بحالی کی ایک موثر مثال قرار دیتے ہوئے آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ آج یہ پروگرام دنیا کے سب سے بڑے بعد از آفت ہائوسنگ بحالی منصوبوں میں شمار ہوتا ہے جس کے تحت 21 لاکھ سے زائد موسمیاتی لحاظ سے محفوظ گھروں کی تعمیر کا عزم کیا گیا ہے جس سے براہ راست 1 کروڑ 50 لاکھ سے زائد افراد مستفید ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کی اصل طاقت صرف اس کے حجم میں نہیں بلکہ اس کے اثر میں ہے، گھروں اور زمین کے مالکانہ حقوق خواتین کے نام پر دیئے جا رہے ہیں، کئی خواتین کو یہ حق پہلی بار حاصل ہو رہا ہے جس سے ان کے وقار، تحفظ اور مالی شمولیت کو تقویت مل رہی ہے۔ خاتون اول نے کہا کہ یہ ایسی بحالی ہے جس کا مقصد صرف عمارتوں کی تعمیر نہیں بلکہ زندگیوں اور مستقبل کی بحالی ہے۔
آصفہ بھٹو زرداری نے اپنے خطاب کے اختتام پر ایک پراثر پیغام دیتے ہوئے کہا کہ آئیے ہم سب مل کر ایسے مستقبل کےلئے کام کریں جہاں ہر بچہ ایک محفوظ چھت کے نیچے پروان چڑھے، ہر عورت وقار اور تحفظ کے ساتھ زندگی گزارے اور ہر کمیونٹی نہ صرف بحرانوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو بلکہ ان سے آگے بڑھ کر ترقی بھی کر سکے۔ تقریب سے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایشیا پیسفک شیلٹر اینڈ سیٹلمنٹس فورم شیلٹر اور بستیوں کے شعبہ میں مکالمے، ہم آہنگی اور عملی حل کو فروغ دینے کےلئے خطے کا ایک نمایاں پلیٹ فارم ہے۔ تین روزہ فورم میں 41 ممالک سے تقریباً 600 ماہرین، پریکٹیشنرز، ترقیاتی شراکت داروں اور تبدیلی کے علمبرداروں نے شرکت کی جبکہ قومی سطح پر ہائوسنگ، شیلٹر و سیٹلمنٹس اور ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ سے متعلق سینئر سرکاری افسران، سیکرٹریز اور محکموں کے سربراہان بھی اجلاس میں شریک ہیں۔








