دہشتگردی کی مالی معاونت کے خلاف پارلیمانی کردار، مضبوط قانون سازی اور ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافہ کرنا ناگزیر ہے، فیصل کریم کنڈی

پشاور۔ 12 فروری (اے پی پی):گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ دہشتگردی کی مالی معاونت کے خلاف مؤثر حکمت عملی کے لیے پارلیمانی کردار، مضبوط قانون سازی اور ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافہ کرنا ناگزیر ہے، بدلتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کےلیے اجتماعی، مربوط اور جامع قومی ردعمل کی ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے …

پشاور۔ 12 فروری (اے پی پی):گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ دہشتگردی کی مالی معاونت کے خلاف مؤثر حکمت عملی کے لیے پارلیمانی کردار، مضبوط قانون سازی اور ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافہ کرنا ناگزیر ہے، بدلتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کےلیے اجتماعی، مربوط اور جامع قومی ردعمل کی ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز اسلام آباد میں سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیش (ایس ایس ڈی او) کے زیرانتظام انتہاپسندی و دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے مکالمے پر مبنی ورکشاپ سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر گورنر خیبر پختونخوا نے ایس ایس ڈی او کو بروقت اور بامقصد مکالمے پر مشتمل ورکشاپ کے انعقاد پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ ایسے پلیٹ فارمز اور مکالمے محض رسمی اجتماعات نہیں بلکہ اجتماعی غور و فکر، ہم آہنگی اور مؤثر پالیسی سازی کے لیے اہم مواقع فراہم کرتے ہیں، دہشتگردی پاکستان کے امن، سماجی ہم آہنگی اور معاشی ترقی کےلیے بدستور ایک سنگین خطرہ ہے، پاکستان نے سکیورٹی آپریشنز اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شدت پسند نیٹ ورکس کے خاتمہ دہشتگردوں کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور مالیاتی ذرائع کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے، خیبرپختونخوا کو ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، پارلیمنٹ انسدادِ دہشت گردی اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف فریم ورک کی تشکیل میں مرکزی کردار رکھتی ہے۔ ڈائیلاگ ورکشاپ میں گورنر خیبر پختونخوا نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ مہارت، جرات اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔