وزیراعظم کی قیادت میں جاری پاکستان کاڈھانچہ جاتی اصلاحات کاایجنڈا ماضی کے تیزی و تنزلی کے چکروں کو توڑنے کیلئے ترتیب دیا گیا ہے،وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کی برٹش امریکن ٹوبیکو کے وفد سے گفتگو

اسلام آباد۔12فروری (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی قیادت میں جاری پاکستان کاڈھانچہ جاتی اصلاحات کاایجنڈا ماضی کے تیزی و تنزلی کے چکروں کو توڑنے کے لئے ترتیب دیا گیا ہے۔انہوں نے یہ بات جمعرات کویہاں برٹش امریکن ٹوبیکو کے وفد سے ملاقات میں کہی۔وفدکی قیادت ریجنل ڈائریکٹر (ایشیا بحرالکاہل، مشرقِ وسطیٰ و افریقہ) پاسکال مولی میسٹر کر رہی تھیں۔ وفد …

اسلام آباد۔12فروری (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی قیادت میں جاری پاکستان کاڈھانچہ جاتی اصلاحات کاایجنڈا ماضی کے تیزی و تنزلی کے چکروں کو توڑنے کے لئے ترتیب دیا گیا ہے۔انہوں نے یہ بات جمعرات کویہاں برٹش امریکن ٹوبیکو کے وفد سے ملاقات میں کہی۔وفدکی قیادت ریجنل ڈائریکٹر (ایشیا بحرالکاہل، مشرقِ وسطیٰ و افریقہ) پاسکال مولی میسٹر کر رہی تھیں۔ وفد میں برٹش امریکن ٹوبیکو اور پاکستان ٹوبیکو کمپنی کے سینئر ایگزیکٹو اراکین بھی شامل تھے۔ وزیر خزانہ نے کہاکہ پاکستان کے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے ایجنڈے کی بنیاد مالیاتی نظم و ضبط، ٹیکس نیٹ کی توسیع اور نفاذ و تعمیل کے مضبوط نظام پرمشتمل ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ مالیاتی پائیداری کے لئے منصفانہ ٹیکس نظام، تمام شعبوں میں بہتر تعمیل اور لیکیجز و غیر قانونی سرگرمیوں کے سدباب کے لئے فیصلہ کن اقدامات ناگزیر ہیں۔ ٹیکس انتظامیہ میں اصلاحات پر پیشرفت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہا کہ افراد، طریقہ کار اور ٹیکنالوجی پر مبنی اصلاحات کے ذریعے حکومت کی ٹیکس تبدیلی مہم نے نفاذ کے نظام کو مزید مؤثر بنایا ہے جس میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والے سی آر ایم سسٹمز، اے آئی پر مبنی پیداواری نگرانی اور ٹریک اینڈ ٹریس اقدامات شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چینی، سیمنٹ، تمباکو، ٹیکسٹائل اور مشروبات سمیت مختلف شعبوں میں سخت نفاذی اقدامات کے نتیجے میں تعمیل اور محصولات کی وصولی میں قابلِ پیمائش بہتری آئی ہے۔

وفد کو غیر قانونی سگریٹ سازی اور سمگلنگ کے خلاف جاری کارروائیوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ رواں سال ریکارڈ مقدار میں ضبطگیاں کی گئی ہیں اور کسٹمز، ان لینڈ ریونیو، صوبائی حکام اور خصوصی نفاذی یونٹس کی مشترکہ کارروائیوں کے ذریعے تیار شدہ مصنوعات اور خام مال دونوں کی غیر قانونی تجارت کے سدباب کے لئے مربوط اقدامات کئے گئے ہیں۔وفد نے حکومت کے نفاذی اقدامات کو سراہا تاہم ایکسائز ڈیوٹی میں استحکام، باقاعدہ اور غیر قانونی مصنوعات کے درمیان بڑھتے ہوئے قیمت کے فرق اور پاکستانی تمباکو کی برآمدی مسابقت سے متعلق خدشات کا اظہار کیا۔

وفد نے اس بات پر زور دیا کہ پالیسیوں میں پیش بینی اور مستحکم ایکسائز نظام رسمی شعبے کی ترقی، محصولات میں اضافے اور طویل المدتی سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی میں معاون ثابت ہو گا۔ وفد نے بالخصوص سعودی عرب اور دیگر بین الاقوامی منڈیوں میں برآمدی مواقع کو اجاگر کیا اور اس امر پر زور دیا کہ مسابقتی فصل قیمتوں اور ضابطہ جاتی ہم آہنگی کے ذریعے پاکستان کو عالمی تمباکو برآمدات میں اپنا حصہ بڑھانے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ اس ضمن میں شعبہ جاتی جائزے جاری ہیں تاکہ پالیسی اقدامات کا تجزیہ کیا جا سکے اور جہاں ضرورت ہو بے ضابطگیوں کو دور کیا جا سکے جبکہ وسیع تر مالیاتی اہداف سے ہم آہنگی بھی برقرار رکھی جائے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ مالیاتی استحکام کے لئے محصولات میں اضافہ نہایت اہم ہے تاہم حکومت مؤثر اور پائیدار پالیسی سازی کے لئے تعمیری مکالمے کے لئے تیار ہے ۔

وزیرخزانہ نے گزشتہ دو برسوں میں نمایاں پیش رفت کا ذکر کیا جس میں بہتر مالیاتی اشاریے، مہنگائی میں کمی، زرِ مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور بیرونی شعبے کے استحکام میں بہتری شامل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لئے پیش گوئی کے قابل اور مستحکم ماحول فراہم کرنے کے لئے کلی معیشت کے نظم و ضبط کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے،پاکستان کی طویل المدتی ترقی کی حکمت عملی برآمدات میں توسیع پر مبنی ہے۔

انہوں نے برآمدی مسابقت بڑھانے اور ان شعبوں کو سہولت فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا جن میں برآمدی استعداد موجود ہے جن میں تمباکو اور اس سے وابستہ ویلیو ایڈڈ مصنوعات بھی شامل ہیں۔فریقین نے نفاذ، ٹیکسیشن اور مسابقت سے متعلق امور پر تعمیری رابطہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا تاکہ پالیسیوں میں ہم آہنگی اور شعبے کی پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔