سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس،سندھ اور خیبرپختونخوا میں دوطرفہ اور کثیرجہتی شراکت داروں کی معاونت سے چلنے والے منصوبوں کاجائزہ

اسلام آباد۔12فروری (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے سندھ واٹر اینڈ ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن (ایس ڈبلیواے ٹی) سے متعلق تمام دستاویزات اور مکمل تفصیلات سرکاری سوات ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کی ہدایت کی ہے،اجلاس میں سندھ اور خیبرپختونخوا میں دوطرفہ اور کثیرجہتی شراکت داروں کی معاونت سے چلنے والے منصوبوں کاجائزہ بھی لیاگیا۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس جمعرات کویہاں سینیٹر …

اسلام آباد۔12فروری (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے سندھ واٹر اینڈ ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن (ایس ڈبلیواے ٹی) سے متعلق تمام دستاویزات اور مکمل تفصیلات سرکاری سوات ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کی ہدایت کی ہے،اجلاس میں سندھ اور خیبرپختونخوا میں دوطرفہ اور کثیرجہتی شراکت داروں کی معاونت سے چلنے والے منصوبوں کاجائزہ بھی لیاگیا۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس جمعرات کویہاں سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں جاری ترقیاتی منصوبوں، مالیاتی ضابطہ بندی اور غیر ملکی مالی معاونت سے چلنے والے منصوبوں میں شفافیت سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔

سیکریٹری محکمہ آبپاشی حکومت سندھ اور پراجیکٹ ڈائریکٹر سندھ واٹر اینڈ ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن (ایس ڈبلیواے ٹی) نے کمیٹی کو عالمی بینک کے تعاون سے جاری اکرم واہ کینال (سوات پراجیکٹ) کی بہتری اور بحالی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں مشیروں اور کنٹریکٹرز کی پری کوالیفکیشن کے عمل، مکمل ٹینڈرنگ پراسیس، بڈنگ ڈیٹا شیٹ، تازہ ترین پیش رفت اور اس منصوبے کے حوالے سے کمیٹی کی سابقہ سفارشات پر عملدرآمد کی صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔ تازہ ترین پیش رفت پر بریفنگ دیتے ہوئے پراجیکٹ ڈائریکٹر نے بتایا کہ کنٹریکٹرز کی پری کوالیفکیشن کے معاملے پر عالمی بینک سے بات چیت جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ عالمی بینک کو بروقت جواب دینے کے لیے پُرعزم ہے اور اس وقت اس کے ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ عالمی بینک کے پاس منصوبوں کے نفاذ کے لیے اپنے شفافیت کے نظام موجود ہیں اور منصوبہ اس وقت پری کوالیفکیشن کے مرحلے میں ہے۔ حکام نے کنسلٹنٹ کے دائرہ کارِ سے بھی آگاہ کیا تاہم جب کمیٹی نے کنسلٹنٹ کی تقرری کے عمل کی بشمول تکنیکی طور پر اہل اور نااہل قرار دی گئی فرموں کی فہرست کی تفصیلات طلب کیں تو محکمہ تسلی بخش معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہا۔ محکمہ نے یقین دہانی کرائی کہ مطلوبہ تفصیلات آئندہ اجلاس سے قبل جمع کرا دی جائیں گی۔

چیئرمین کمیٹی نےہدایت کی کہ تمام متعلقہ دستاویزات اور مکمل تفصیلات سرکاری SWATویب سائٹ پر اپ لوڈ کی جائیں تاکہ شفافیت یقینی بنائی جا سکے اور عوامی جائزہ ممکن ہو۔ چیئرمین کمیٹی نے مزید کہا کہ 20 ماہ گزرنے کے باوجود کنسلٹنسی فرم کی جانب سے منصوبے کے ڈیزائن کا جائزہ نہ لینا اس کی کارکردگی اور اہلیت پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔سینیٹر سید وقار مہدی کی جانب سے اقتصادی امور ڈویژن کے پراجیکٹ ریویو میکانزم سے متعلق سوال کے جواب میں سیکریٹری اقتصادی امور نے کمیٹی کو غیر ملکی مالی معاونت سے جاری منصوبوں کی نگرانی کے عمل پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وزارت منصوبوں کی نگرانی اور فنڈز کے شفاف اور مقررہ مقاصد کے مطابق استعمال کو یقینی بنانے کی ذمہ دار ہے۔

ایک رکن نے مشاہدہ کیا کہ قرضوں کی ادائیگیوں کی نگرانی بھی ای اے ڈی کو نہایت احتیاط سے کرنی چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ متعلقہ محکمے قرضوں کو ہمیشہ مناسب اور شفاف طریقے سے استعمال نہیں کرتے۔کمیٹی نے خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کی جانب سے کثیرالجہتی و دوطرفہ شراکت داروں اور اقوام متحدہ کے اداروں کے تعاون سے جاری اور مجوزہ تمام منصوبوں پر بھی غور کیا جن میں تجاویز، ٹینڈرنگ کا عمل اور تازہ ترین پیش رفت شامل تھی۔ سیکریٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ حکومت خیبر پختونخوا نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مجموعی طور پر 52 سکیمیں زیر عمل ہیں جن کی تخمینہ لاگت 1072.3 ارب روپے ہے۔

ان میں سے 23 منصوبے عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے جاری ہیں جو بنیادی طور پر تعلیم، ایم ایس ڈی، زراعت، سڑکوں، سیاحت، صحت، مالیات اور توانائی کے شعبوں پر مرکوز ہیں۔چیئرمین کمیٹی نے خیبر پختونخوا میں جاری اور آئندہ سڑکوں کے شعبے کے منصوبوں سے متعلق بھی استفسار کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ پری کوالیفکیشن اور ٹینڈرنگ کے تمام مراحل مکمل شفافیت کے ساتھ انجام دیئے جائیں، خصوصاً اس لیے کہ ان کے دفتر کو ٹینڈرنگ کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق شکایات موصول ہوئی ہیں۔

انہوں نے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا اور ہدایت کی کہ اس معاملے پر کمیٹی کی سابقہ سفارشات پر بلا تاخیر عملدرآمد کیا جائے۔ انہوں نے محکمہ کو ہدایت دی کہ تمام جاری منصوبوں پر مشتمل ایک صفحے کا خلاصہ کمیٹی کو پیش کیا جائے۔ چیئرمین کمیٹی نے سندھ سولر انرجی منصوبے میں مبینہ طور پر خورد برد کیے گئے 5 ارب روپے کی وصولی میں تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

کمیٹی نے یاد دہانی کرائی کہ حکومت سندھ کے سیکریٹری نے ایک سابقہ اجلاس میں اس منصوبے میں نمایاں بدعنوانیوں اور بے ضابطگیوں کی نشاندہی کا اعتراف کیا تھا۔ چیئرمین کمیٹی نے وزارت کو ہدایت کی کہ اس معاملے کو ہنگامی بنیادوں پر اٹھایا جائے اور رقم کی وصولی کو یقینی بنا کر اسے قومی خزانے میں جمع کرانے کے لیے ہرممکن اقدام کیا جائے۔

وزارت کی جانب سے کمیٹی کو یقین دلایاگیا کہ معاملہ حکومت سندھ کے ساتھ اٹھایا جائے گا اور ملوث افسران کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔اجلاس میں سینیٹرز سید وقار مہدی، حاجی ہدایت اللہ خان، رانا محمود الحسن، کامران مرتضیٰ اور روبینہ خالد نے شرکت کی۔