بانی پی ٹی آئی کے رہائشی معیار سے متعلق سلمان صفدر اور جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹس میں مماثلت پائی جاتی ہے،سینیٹر رانا ثنااللہ

اسلام آباد۔13فروری (اے پی پی):سینیٹ اجلاس کے دوران جمعہ کو پارلیمانی لیڈر سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے رہائشی معیار سے متعلق سلمان صفدر اور جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹس میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر واقعی چار ماہ تک آنکھوں کا علاج نہیں کیا گیا تو یہ مجرمانہ غفلت ہوگی، تاہم اگر حقائق کے برعکس سیاست کی گئی تو یہ اس …

اسلام آباد۔13فروری (اے پی پی):سینیٹ اجلاس کے دوران جمعہ کو پارلیمانی لیڈر سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے رہائشی معیار سے متعلق سلمان صفدر اور جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹس میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر واقعی چار ماہ تک آنکھوں کا علاج نہیں کیا گیا تو یہ مجرمانہ غفلت ہوگی، تاہم اگر حقائق کے برعکس سیاست کی گئی تو یہ اس سے بھی بڑا مجرمانہ فعل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جنوری کے پہلے ہفتے میں بانی پی ٹی آئی نے آنکھ کی تکلیف کا ذکر کیا۔ جیل ڈاکٹر کی ادویات استعمال کی گئیں لیکن بانی نے کہا کہ ان سے فائدہ نہیں ہوا۔ اس کے بعد 15 جنوری کو پمز کے ڈاکٹروں کو خط لکھا گیا اور 16 جنوری کو ڈاکٹروں نے معائنہ کیا۔رانا ثنااللہ نے کہا کہ 19 جنوری کو چار رکنی ٹیم نے اڈیالہ جیل میں دوبارہ معائنہ کیا جبکہ 24 جنوری کو بانی کو انجیکشن تجویز کیا گیا، جس سے متعلق تمام دستاویزات موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت پر سیاست کرنا مناسب نہیں۔ چار ماہ تک بیماری کی بات غلط فہمی ہے تو اسے درست کر لینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کا روزانہ کی بنیاد پر طبی معائنہ ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 12 دسمبر کو ڈاکٹر عارف، ڈاکٹر سمن عارف اور دیگر ڈاکٹروں نے معائنہ کیا تو آنکھوں کی بیماری کا ذکر نہیں کیا گیا۔ دو دسمبر کو ڈاکٹر نورین سے ملاقات میں بھی بانی کی صحت بہتر قرار دی گئی۔رانا ثنااللہ نے کہا کہ 20 دسمبر کو توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ ہوا، اس موقع پر سلمان صفدر بھی موجود تھے لیکن بیماری کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی تین چار ماہ سے صحت خراب ہونے کی بات درست نہیں۔