جامع اور شمولیتی تعلیم محض پالیسی عزم نہیں بلکہ ہر بچے خصوصاً سماعت سے محروم طلباء کو مساوی مواقع فراہم کرنا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے، وجیہہ قمر

اسلام آباد۔25فروری (اے پی پی):وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت وجیہہ قمر نے کہا ہے کہ جامع اور شمولیتی تعلیم محض ایک پالیسی عزم نہیں بلکہ ہر بچے خصوصاً سماعت سے محروم طلباء کو مساوی مواقع فراہم کرنا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔انہوں نے یہ بات پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) میں منعقدہ آرٹ نمائش ’’سائلنٹ ایکسپریشنز ٹو‘‘ کے موقع پر ’’اے …

اسلام آباد۔25فروری (اے پی پی):وزیر مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت وجیہہ قمر نے کہا ہے کہ جامع اور شمولیتی تعلیم محض ایک پالیسی عزم نہیں بلکہ ہر بچے خصوصاً سماعت سے محروم طلباء کو مساوی مواقع فراہم کرنا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔انہوں نے یہ بات پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) میں منعقدہ آرٹ نمائش ’’سائلنٹ ایکسپریشنز ٹو‘‘ کے موقع پر ’’اے پی پی ‘‘سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے ملک بھر سے آئے سماعت سے محروم طلباء کی غیر معمولی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ آج میں نے جو فن پارے دیکھے وہ کسی محرومی کی نہیں بلکہ تخلیقی قوت، محنت اور مہارت کی عکاسی کرتے ہیں، اگر انہیں مناسب مواقع اور رہنمائی فراہم کی جائے تو یہ طلباء کسی بھی پیشہ وارانہ سطح پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔وزیر مملکت نے کہا کہ اس نوعیت کی سرگرمیاں خصوصی طلباء کو قومی ثقافتی اور پیشہ وارانہ دھارے میں شامل کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت خصوصی تعلیمی اداروں کو مضبوط بنانے کے لئے نصاب کی بہتری، اساتذہ کی تربیت، معاون ٹیکنالوجی کی فراہمی اور ہنر پر مبنی پروگراموں کے فروغ پر کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم روایتی کلاس روم ماڈل سے آگے بڑھ رہے ہیں، ہمارا ہدف طلباء کو ایسے عملی ہنر فراہم کرنا ہے جو انہیں مالی خودمختاری اور باوقار زندگی کی راہ دکھائیں، تعلیم کا حقیقی مقصد بااختیار بنانا ہے۔ انٹرن شپ کو مستقل ملازمتوں میں تبدیل کرنے کے اعلان کے حوالے سے انہوں نے اسے شمولیتی عمل کی جانب ایک انقلابی قدم قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ روزگار ہی اصل شمولیت کا پیمانہ ہے، جب یہ نوجوان فنکار مستقل ملازمت حاصل کریں گے تو نہ صرف ان کے خاندان مستفید ہوں گے بلکہ معاشرے میں معذوری سے متعلق تصورات بھی تبدیل ہوں گے۔

وزیر مملکت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لئے پرعزم ہے کہ کوئی بچہ پیچھے نہ رہ جائے اور اس مقصد کے لئے تعلیمی اداروں، ثقافتی تنظیموں اور نجی شعبے کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔انہوں نے پی این سی اے اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سپیشل ایجوکیشن کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایسی نمائشیں باقاعدگی سے منعقد کی جائیں گی تاکہ خصوصی صلاحیتوں کے حامل فنکاروں کو قومی سطح پر مزید پذیرائی مل سکے۔انہوں نے کہا کہ سائلنٹ ایکسپریشنز ٹو کا پیغام واضح ہے کہ صلاحیت مختلف انداز میں اظہار کرتی ہے اور بعض اوقات خاموشی میں زیادہ طاقت سے بولتی ہے۔ پی این سی اے میں 25 سے 27 فروری تک جاری رہنے والی تین روزہ نمائش میں پیش کئے گئے فن پاروں میں فنی مہارت اور جذباتی گہرائی نمایاں ہے۔