ایوان بالا میں افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی بلااشتعال جارحیت اور سرحد پار کارروائیوں کی مذمت کی قراردادمنظور

اسلام آباد۔27فروری (اے پی پی):ایوان بالا نے جمعہ کے روز متفقہ طور پر قرارداد منظور کی جس میں افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی بلااشتعال جارحیت اور سرحد پار کارروائیوں کی شدید مذمت کی گئی اور انہیں بین الاقوامی قوانین اور تسلیم شدہ سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ قرارداد سینیٹر شیری رحمان نے پیش کی اور ایوان نے اسے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔قرارداد میں کہا …

اسلام آباد۔27فروری (اے پی پی):ایوان بالا نے جمعہ کے روز متفقہ طور پر قرارداد منظور کی جس میں افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی بلااشتعال جارحیت اور سرحد پار کارروائیوں کی شدید مذمت کی گئی اور انہیں بین الاقوامی قوانین اور تسلیم شدہ سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ قرارداد سینیٹر شیری رحمان نے پیش کی اور ایوان نے اسے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت یا قومی سلامتی کو چیلنج کرنے کی کسی بھی کوشش کو قومی وقار پر براہِ راست حملہ تصور کیا جائے گا اور اس کا بھرپور، متناسب اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ایوان نے ملکی سرحدوں کے دفاع میں مستعد رہنے پر افواجِ پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بہادری، پیشہ ورانہ صلاحیت اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

افغانستان کے ساتھ پاکستان کی دہائیوں پر محیط وابستگی کو یاد کرتے ہوئے سینیٹ نے گہرے افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان نے گزشتہ چالیس برسوں کے دوران لاکھوں افغان شہریوں کی میزبانی، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر معاونت، امن کی کوششوں میں سہولت کاری اور عالمی فورمز پر افغانستان کے استحکام کی وکالت کے باعث بھاری معاشی، سماجی اور سکیورٹی بوجھ برداشت کیا۔قرارداد میں کہا گیا کہ یہ اقدامات اکثر پاکستان کی اپنی قومی ترقی اور داخلی سلامتی کی قیمت پر اٹھائے گئے۔ایوان نے باہمی خیرسگالی کے فقدان پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے غیر ذمہ دارانہ بیانات، سرحدی خلاف ورزیوں اور افغان سرزمین سے پاکستان مخالف دہشت گرد عناصر کی مسلسل موجودگی کا حوالہ دیا اور اسے دوطرفہ مفاہمت کو نقصان پہنچانے والا تشویشناک رجحان قرار دیا۔

سینیٹ نے افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر تمام سازشی اقدامات بند کرے، افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی یا جارحیت کے لیے استعمال ہونے سے روکے اور پُرامن بقائے باہمی سے متعلق بین الاقوامی ذمہ داریوں اور وعدوں کی پاسداری کرے ۔ ساتھ ہی قرارداد میں تعمیری روابط، علاقائی امن اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا گیا، تاہم خبردار کیا گیا کہ پاکستان کے صبر کو کمزوری نہ سمجھا جائے اور استحکام کی خواہش کو فیصلہ کن ردعمل دینے کی صلاحیت کی کمی تصور نہ کیا جائے۔

ایوان نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ان پیش رفتوں کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور افغان حکام پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی اصولوں کی پابندی کریں اور خطے کو مزید عدم استحکام سے بچائیں۔ قرارداد میں بتایا گیا کہ وہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر پاکستان کی خودمختاری کے دفاع میں متحد ہے اور ریاست کی جانب سے علاقائی سالمیت اور قومی وقار کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے تمام ضروری اقدامات کی حمایت کرتی ہے۔یہ قرارداد پاکستان-افغانستان سرحد پر حالیہ ہفتوں کے دوران بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کے تناظر میں منظور کی گئی۔