سپریم کورٹ نے این اے 251 سے خوشحال خان کاکڑ کو کامیاب قرار دے دیا، الیکشن کمیشن کو نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم

اسلام آباد۔27فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے عام انتخابات سے متعلق این اے 251 کے مقدمے میں خوشحال خان کاکڑ کو کامیاب امیدوار قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ان کی کامیابی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دے دیا۔کیس کی سماعت جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جس میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شکیل احمد بھی شامل …

اسلام آباد۔27فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے عام انتخابات سے متعلق این اے 251 کے مقدمے میں خوشحال خان کاکڑ کو کامیاب امیدوار قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ان کی کامیابی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دے دیا۔کیس کی سماعت جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جس میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شکیل احمد بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت امیدوار کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمہ فارم 45 کے گرد گھومتا ہے اور 10 پولنگ سٹیشنز کے فارم 45 اور فارم 48 میں واضح فرق موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دس پولنگ اسٹیشنز کے نتائج فارم 48 کے مطابق درج نہیں کیے گئے اور ہر پولنگ اسٹیشن پر ان کے موکل کے تقریباً 100 ووٹ کم کیے گئے جبکہ مخالف امیدوار سید سمیع اللہ کے ووٹوں میں فارم 48 میں اضافہ دکھایا گیا۔

انہوں نے عدالت کے سامنے متعلقہ پولنگ اسٹیشنز کے فارم 45 بھی پیش کیے۔ سماعت کے دوران غلط نتائج دینے پر ریٹرننگ افسر (آر او) کے خلاف کارروائی سے متعلق قانون پر بھی بحث ہوئی۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے استفسار کیا کہ کیا آر او کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے اور کیا وہ الیکشن کمیشن کا ملازم ہوتا ہے؟ انہوں نے ریمارکس دیے کہ بعض ممالک میں آر او کمیشن کے ملازمین ہوتے ہیں۔ جسٹس شکیل احمد نے کہا کہ پاکستان میں آر او کبھی اساتذہ اور کبھی دیگر سرکاری افسران تعینات کیے جاتے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے نمائندے نے مؤقف اپنایا کہ آر او کے خلاف کارروائی سے متعلق قانون میں مکمل باب موجود ہے اور ان پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔سلمان اکرم راجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ فارم 48 میں غلطی دانستہ کی گئی۔ جسٹس شاہد وحید نے ہدایت کی کہ دلائل مختصر کیے جائیں کیونکہ آج کیس مکمل کرنا ہے۔ وکیل نے کہا کہ انہوں نے اس کیس کا برسوں انتظار کیا ہے اور ایک منٹ میں دلائل مکمل کرنا ممکن نہیں۔مخالف امیدوار کی جانب سے وکیل کامران مرتضی نے کہا کہ ٹریبونل اور سپریم کورٹ میں لیے گئے مؤقف میں تضاد ہے اور ٹریبونل نے تمام ایشوز پر فیصلہ نہیں دیا، اگر ایسا ہے تو کیس ریمانڈ کیا جا سکتا ہے۔

اس پر جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ اصل نکات یعنی فارم 45 اور 48 پر دلائل دیے جائیں۔جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ انتخابات میں سب سے زیادہ اہمیت ریکارڈ کی ہوتی ہے اور عوام کی رائے دستاویزات سے ظاہر ہو رہی ہے۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ کیا اب بھی مزید چار سال اسی طرح گزارنا چاہتے ہیں؟دورانِ سماعت الیکشن کمیشن نے خوشحال خان کاکڑ کی جانب سے پیش کیے گئے فارم 45 کو درست تسلیم کر لیا، جس کے بعد عدالت نے انہیں کامیاب امیدوار قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دے دیا۔